پاکستانی ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ میں نظر آنے والی سیفی سومرو کی پینٹنگز کے ’غائب‘ ہونے سے متعلق محکمہ ثقافت سندھ کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصور نے اپنے شاہکار واپس لینے میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی۔
معروف مصور سیفی سومرو نے ٹی وی ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ میں اپنی پینٹنگز دیکھ کر آٹھ ستمبر کو سوشل میڈیا کے ذریعے الزام لگایا کہ ان کے فن پارے بغیر اجازت استعمال کیے گئے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا: ’جو پینٹنگز ڈرامے کے سین میں استعمال ہوئی ہیں وہ 2017 میں فریئر ہال میں نمائش میں رکھی گئی تھیں، جس کے بعد یہ انہیں واپس نہیں ملیں۔‘
سیفی سومرو کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور مختلف نیوز چینلز نے مصور کے حق میں آواز اٹھائی، جس پر ڈرامہ بنانے والی کمپنی ’بگ بینگ انٹرٹینمنٹ‘ نے ایک بیان میں کہا کہ ’معاملہ پروڈکشن ٹیم کے کنٹرول میں نہیں تھا اور اب انھیں امید ہے کہ متعلقہ فریقین اسے مل کر حل کر لیں گے۔‘
تنازعے کے حل کے لیے سندھ کے محکمہ ثقافت نے دو رکنی کمیٹی بنائی، جس نے تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ داخل کر دی ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ’سیفی سومرو کی پینٹنگز غائب نہیں ہوئیں، بلکہ 2017 سے فریئر ہال میں ہی موجود ہیں۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مختلف نمائشوں کے باعث پینٹنگز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے اور نجی چینل کے ڈرامے میں نظر آنے والی پینٹنگز سیفی سومرو کی ہی ہیں۔ پینٹنگ کے مالک اور فریئر ہال انتظامیہ کے درمیان غلط فہمی ہوئی۔مصور نے اپنی پینٹنگز واپس لینے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ کی شوٹنگ فیریئر ہال میں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے مذکورہ پینٹنگز ایک آدھ سین میں نظر آئیں۔
دوسری طرف مصور سیفی سومرو نے فیس بک پر ایک ویڈیو پیغام میں تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سندھ حکومت نے اپنے ہی ادارے کے لوگوں کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا، جب کہ اس میں کسی تیسرے فریقین کو شامل کرنا چاہیے تھا۔
’جو فیصلہ محکمہ ثقافت سندھ کی تحقیقاتی کمیٹی نے سنایا ہے اس میں میرے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے یہ فیصلہ جانبداری کے ساتھ کیا گیا ہے، جس سے میں مطمئن نہیں ہوں۔‘
بقول سیفی سومرو: ’میری پینٹگز کے ذریعے منافع کمایا گیا۔ اگر میری پینٹنگز گمشدہ تھیں تو انہیں ویئر ہاؤس میں رکھنا چاہیے تھا نہ کہ فن پاروں کو جگہ جگہ نمائش میں پیش کر کے منافع کمایا جاتا رہا۔
’میری طرح کتنے آرٹسٹ کے ساتھ یہ نا انصافی ہوئی ہو گی لیکن میں نے آواز اٹھائی جو بہت دور تک گئی۔‘