حکومت پاکستان کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگانے کے فیصلے پر ملک کی سیاسی جماعتوں نے قبرستان جیسی خاموشی اختیار کر لی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ پابندی ریاستی مفادات پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
کچھ لوگوں کو خوش فہمی تھی کہ شاید اس پابندی کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتیں حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کریں لیکن ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اس کے خلاف کھل کر بات نہیں کی۔
پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی نے واجبی سے بیانات جاری کیے جبکہ کچھ نسبتاً غیر معروف سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
جمہوریت کا راگ الاپنے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس مسئلے پر چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو اپنی شادی سے لے کر مولانا فضل الرحمن کی ناراضگی تک تمام امور پر لب کشائی کرتے ہیں، وہ اس مسئلے کے حوالے سے گمشدہ معلوم ہوتے ہیں۔
’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے والی ن لیگ کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی چاپلوسی کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ن لیگ حکومت کا یہ قدم جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے اور اگر شہباز شریف کے خوشامدی ٹولے کو نہیں روکا گیا، تو کوئی بعید نہیں کہ یہ اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں 18ویں ترمیم پر بھی کوئی ضرب لگا دے۔
پی ٹی ایم پر پابندی لگا کر ریاست نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ پرامن اور سیاسی جدوجہد کو راستہ دینے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
ریاست کے اس طرح کے اقدامات سیاسی جماعتوں کو تشدد کی طرف دھکیلتے ہیں، جس کا نتیجہ بعض صورتوں میں عسکریت پسندی کی شکل میں نکلتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں پہلے ہی نفرت کی آندھیاں چل رہی ہیں۔
کئی ملٹری آپریشینز کے باوجود صوبے کے کئی علاقوں میں طالبان آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔
پولیس والوں اور عام شہریوں پر طالبان جنگجوؤں کے حملے اتنے عام ہو گئے ہیں کہ ان حملوں کے خلاف ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے بنوں کے پولیس والوں نے زبردست مظاہرے کیے تھے۔
ریاست کو چاہیے تھا کہ وہ اس احتجاج کو سمجھتے ہوئے اپنی ’گڈ اور بیڈ‘ طالبان کی پالیسی تبدیل کرے اور یکسوئی کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ عسکریت پسندی کو ہر حال میں ختم کیا جائے گا اور یہ کہ سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے کے لیے اس کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔
ریاست نے ان سوالوں کے جواب دینے کے بجائے جو لوگ سوال کر رہے تھے انہی پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پابندی کا بظاہر مقصد یہی نظر آتا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوان کارکنان کو مشتعل کیا جائے اور انہیں زبردستی تشدد کے راستے پہ دھکیلا جائے اور پھر یہ پروپیگنڈا کیا جائے کہ یہ غیر ملکی ایجنٹوں سے مل کر ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
ریاست چاہے تو پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کو مان کر ان کی عوامی حمایت کو کم کر سکتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی ایم کے مطالبات غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں؟ کیا پاکستان کا قانون نہیں کہتا کہ کسی بھی شہری کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ملک کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ سلامتی سے تعلق رکھنے والے ادارے سیاسی معاملات میں دخل اندازی کریں؟ کیا سلامتی کے اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات کا حلف نہیں لیتے کہ وہ سیاست میں دخل اندازی نہیں کریں گے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ سلامتی سے تعلق رکھنے والے ادارے کوئی سیاسی سیل نہیں چلا سکتے اور یہ کہ ایسا کوئی بھی سیاسی سیل غیر قانونی ہے؟ کیا پی ٹی ایم کے اس مطالبے کو ماننا مشکل ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھی انہیں صاف کیا جائے؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ریاست نے کسی سیاسی طاقت پر پابندی لگا کر اس کو تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہے بلکہ اس سے پہلے عوامی لیگ کے ساتھ بھی یہی کیا گیا، جو ملک کی تاریخ کے سب سے صاف و شفاف انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
1973 میں بلوچستان میں عطا اللہ مینگل کی جمہوری حکومت کو ختم کر ریاست نے مذاکرات کے دروازے بند کیے اور طاقت کا استعمال کر کے بلوچوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کریں۔
70 اور 80 کی دہائیوں میں جنرل ضیا کی آمریت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پرامن جدوجہد کو تشدد کے ذریعے کچل کر اور سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگا کر انہیں تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی، جس سے سندھ میں قوم پرستانہ جذبات بڑھے اور کچھ سندھی قوم پرست تنظیموں کے نوجوانوں نے ریاست کو چیلنج کرنے کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا۔
80 کی دہائی میں پہلے ایم کیو ایم کی مبینہ سرپرستی دوسری جماعتوں کے سائز کو کم کرنے کے لیے کی گئی اور پھر 1992 میں اسی کے خلاف ملٹری آپریشن شروع کر کے شہری علاقوں کو تشدد کی نظر کیا گیا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے پہلے یہ ضد پکڑی کہ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں قائم کرنی ہیں۔ جب ان چھاونیوں کی بلوچستان اسمبلی اور عوامی سطح پر ہر جگہ سے مخالفت ہوئی، تو اس کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔
طاقت کے اس اندھا دھند استعمال میں بوڑھے نواب اکبر بگٹی کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان پر جان لیوا حملہ کر کے صوبے کو علیحدگی پسندی کی طرف دھکیل دیا گیا۔
بلوچستان پہلے ہی علیحدگی پسندی کی آگ میں لپٹا ہوا ہے۔ پختونخوا میں پہلے ہی وفاق کے خلاف نفرت کی لہر ہے۔ ایسے میں پی ٹی ایم پر پابندی ریاستی مفادات کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پابندی ہٹا کر مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جائے۔
نوٹ: تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔