چین کو سالانہ دو لاکھ گدھوں کا گوشت، کھالیں برآمد کریں گے: پاکستان

وفاقی وزارت برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے عہدیدار ڈاکٹر اکرام نے تصدیق کی کہ رواں برس کے اختتام تک پاکستان چین کو گدھوں کا گوشت اور کھالیں فراہم کرے گا۔

29 ستمبر 2024 کی اس تصویر میں کراچی میں جانوروں کی منڈی میں مویشی فروش اپنے گدھوں کے ساتھ نظر آ رہے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)

چین میں گدھوں کے گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر پاکستان پڑوسی ملک کو اس جانور کا گوشت اور کھالیں برآمد کرے گا۔

وفاقی وزارت برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کے عہدیدار ڈاکٹر اکرام نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ رواں برس کے اختتام تک پاکستان چین کو گدھوں کا گوشت اور کھالیں فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ ’ابھی جو چین سے معائدے ہوئے ہیں وہ سالانہ دو لاکھ 16 ہزار گدھوں کی کھالوں اور گوشت کی ترسیل کے حوالے سے ہیں لیکن چینی کمپنیاں مذبح خانے کراچی پورٹ کے قریب بنانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایسا کرنا ہمارے لیے اپنی فوڈ سکیورٹی کی وجہ سے ممکن نہیں کیونکہ اگر شہر کے اندر مذبح خانے بنائے تو لوکل مارکیٹ میں بھی وہ گوشت پہنچ سکتا ہے اس لیے ایسی کسی درخواست کو منظور نہیں کر رہے۔ ہم کراچی سے باہر تجارتی پورٹ پر مذبح خانے بنانے کو ترجیح دیں گے۔‘

اس سے قبل جولائی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کو ایک بریفنگ میں سیکریٹری تجارت نے کہا تھا کہ ’گدھوں کی ایکسپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ہے، جب کہ پاکستان میں گدھے کی فارمنگ بھی کی جاتی ہے۔‘

سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ ’چین کے ساتھ گدھوں کی کھال پر بات طے پا گئی ہے البتہ گدھوں کے گوشت پر بات ہو رہی ہے۔‘

گوادر میں مذبح خانے کی تعمیر 

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ ’چین کو کھال اور گوشت برآمد کرنے کے لیے گوادر میں مذبح خانوں کی تعمیر کی جا رہی ہے، جو سب سے زیادہ محفوظ رہیں گے کیونکہ وہاں سے لوکل مارکیٹ متاثر نہیں ہو گی۔‘

مذبح خانوں میں گدھوں کو ذبح کرنے کی گنجائش سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ ’یہ بڑا مذبح خانہ ہے، جو خصوصی طور پر اسی مقصد کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ یہاں سالانہ دو لاکھ 16 ہزار گدھے ذبح کرنے کی گنجائش ہو گی اور اتنے ہی گدھوں کا گوشت چین بھیجا جائے گا-‘

گدھوں کی فارمنگ 

گدھوں کے فارمنگ سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر اکرام کا کہنا تھا کہ رواں برس ہونے والی سرکاری گنتی کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی آبادی 52 لاکھ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال سوا دو لاکھ گدھے ذبح ہوں گے تو ان کی آبادی بھی تو بنانا ہو گی۔ ورنہ یہاں پھر گدھوں کی کمی ہو جائے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ چینی کمپنیاں گدھوں کی فارمنگ کے لیے لوکل فارمز کے ساتھ معاہدے کریں اور انہیں تولیدی سہولیات بھی فراہم کریں تاکہ مقامی سطح پر روزگار بھی پیدا ہو۔‘

چین میں گدھے کے گوشت کا استعمال 

چین میں تعلیم حاصل کرنے والی پاکستانی کالم نگار تحریم عظیم کے مطابق ’چینی گدھے کے گوشت سے بنے ہوئے برگر کھاتے ہیں۔ یہ برگر ان کے شمالی صوبے ہیبی کی خاص سوغات ہے۔ چین کے ہر شہر میں اس صوبے کے کھانوں کے ماہر ریستوران اپنے گاہکوں کو فخریہ یہ سوغات کھلاتے ہیں۔ ایسے ریستورانوں کی بیرونی دیواروں پر گدھے کی تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں، جو دور سے ہی دیکھنے والوں کو وہاں گدھے کے گوشت کی دستیابی کی اطلاع دیتی ہیں۔‘

گدھے کی کھال کا استعمال 

چین میں گدھے کی کھال دوائیاں بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔

تحریم عظیم کے مطابق ’چینی گدھے کی جلد سے حاصل ہونے والے کولیجن کو روایتی ادویات میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

’ایسی ہی ایک دوا کا نام ای چیاؤ ہے، جسے چینی بہت سی بیماریوں کے علاج کے طور استعمال کرتے ہیں، جن میں خون کے بہاؤ کو درست کرنا، نیند کی کمی دور کرنا اور خشک کھانسی کا علاج وغیرہ شامل ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت