سلامتی کونسل: پاکستان کا فلسطینی ریاست کے لیے سیاسی عمل پر زور

اقوام متحدہ کے پاکستان کے متبادل مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امید ظاہر کی کہ فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی جون کانفرنس قیام امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گی۔

عاصم افتخار نے کہا کہ امن اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں گی (اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن/ ایکس)

اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقبل مندوب عاصم افتخار احمد نے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد، ناقابل واپسی سیاسی عمل کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

25 فروری 2025 کو نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بالعموم مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کو ترجیح دے تاکہ تشدد اور تباہی کے گرداب سے نکل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے اور تشدد میں تعطل کو امن نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال بشمول فلسطین کے مسئلے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بندوقیں بھلے ہی خاموش ہو گئی ہیں لیکن ایک بڑا بحران بدستور موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں گی۔

مندوب عاصم افتخار احمد نے جنگ بندی پر مکمل اور فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جس میں جنگ بندی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیل کا انخلا، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی اور غزہ کے لیے ایک جامع تعمیر نو کے منصوبے کو یقینی بنانا شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو عالمی برادری کی سرپرستی حاصل ہونی چاہیے، لیکن قیادت اور ملکیت فلسطینیوں کے پاس ہونی چاہیے۔

انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جارحیت کے خاتمے، جنین میں پناہ گزین کیمپوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد 2720 (2024) اور 2334 (2016) کے مطابق جبری نقل مکانی اور غیر قانونی الحاق کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔ یہ واضح ہے کہ مسلسل قبضے اور جبر کے ذریعے استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان نے امدادی ایجنسیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے اسے اخلاقی توہین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

مندوب عاصم نے کہا کہ انسانی امداد کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اقوام متحدہ کے پاکستان کے متبادل مندوب نے ایک ایسے سیاسی عمل پر زور دیا جو قابل اعتماد ہو، جس سے ہٹا نہ جا سکے اور جو فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کوئی علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک قانونی اور اخلاقی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امن قابض طاقت کی خواہش پر مسلط نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کی بنیاد انصاف، بین الاقوامی قوانین اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت پر ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ جبری نقل مکانی اور الحاق کے خلاف مضبوط موقف اپنائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ منصفانہ امن سفارتی بیانات سے زیادہ کا متقاضی ہے، اس کے لیے نفاذ، احتساب، استثنیٰ کو مسترد کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کی پاسداری کے لیے قابض طاقت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا حق اور ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام محض خواہشات نہیں، بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔

مندوب عاصم نے کہا کہ دنیا اخلاقی دوہرے معیارات کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ انسانی حقوق پر دوغلی پالیسی ناانصافی کو مزید بڑھاتی اور تنازعے کو برقرار رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب نے زور دے کر کہا کہ عرب علاقوں پر اسرائیل کا غیر قانونی قبضہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام، لبنان اور فلسطین کے حوالے سے اس کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔

مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا موقف

پاکستان ہمیشہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے۔

11 فروری 2025 کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دبئی میں سمٹ آف گورنمنٹس سے خطاب میں کہا تھا کہ غزہ میں پائیدار اور مستقل امن صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستوں کے قیام میں ہی پنہاں ہے۔

شہباز شریف نے دو ریاستی حل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جس کا مطلب ہے کہ ’ایسی آزاد فلسطینی ریاست کا بنایا جانا، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے جیسی ہوں اور القدس اس کا دارالحکومت ہو۔

6 فروری 2025 کو پاکستانی دفتر خارجہ نے غزہ کے شہریوں کو بے گھر کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو ’انتہائی پریشان کن‘ اور ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی سرزمین صرف فلسطین کے عوام کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل اور منصفانہ آپشن ہے۔

’پاکستان فلسطینی عوام کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کھڑا رہا ہے اور کھڑا رہے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ