جمہوری دنیا میں جہاں کٹر سیاست کا نیا چہرہ عریاں ہو رہا ہے، وہیں مزاحیہ اداکاروں کی شامت بھی آئی ہوئی ہے۔
ہالی وڈ سے لے کر بالی وڈ تک اداکاروں کے پیروں تلے کی زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ ہالی وڈ کے بعض اداکار دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کی تلاش میں ہیں جہاں خدشہ ہے کہ انہیں نام نہاد اور انتہا پسند جمہوری رہنماؤں کی سیاست کی آبیاری کے لیے اپنی تخلیقات کا سودا نہ کرنا پڑے۔
حالت یہ ہے کہ جمہوری اور غیر جمہوری نظام میں اس وقت فرق ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے اور حکمران جماعت یا لیڈر کے خلاف تنقید کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ دھمکی، پٹائی یا ملک بدری کئی ناقدین کی تقدیر بن چکی ہے۔
جن ملکوں کے قصے میڈیا کے موضوع بنائے جاتے تھے وہاں آج تو پھر بھی قدرے خاموشی ہے گو کہ وہ بھی اندرونی طور سیاسی طوفان سے نمٹ رہے ہیں۔ کم از کم وہ خود کو لبرل ملکوں میں شمار نہیں کرتے، وہ چاہے بنگلہ دیش ہو، پاکستان، سوڈان یا سری لنکا ہو۔
خود کو بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک کہلانے والا انڈیا ہندوتوا کی گہری کھائی میں گرتا جا رہا ہے اور تفریح کے شعبے سے وابستہ آرٹسٹ بھی عتاب کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔
چند روز قبل ممبئی میں مشہور مزاح کار کنال کمرا کو اس وقت محفوظ مقام کی تلاش میں نکلنا پڑا جب ان کے ایک شو کے بعد مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت میں شامل شیو سیناؤں نے عمارت کو تہس نہس کر دیا اور بعض نے کنال کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔
سوشل میڈیا پر بی جے پی اور شیو سینا دھڑے نے ان کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی جس میں ان پر شیو سینا رہنما اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے کو غدار کہنے پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ انہوں نے کامیڈی شو میں موجودہ سیاسی منظر نامے پر طنزیہ فقرے بولے تھے۔ کنال سے معافی مانگنے کا مطالبہ ہوا مگر انہوں نے اس سے صاف انکار کر دیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل ایسے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جب بی جے پی کے خلاف بلا واسطہ یا بالواسطہ کوئی لفظ بولنے پر آرٹسٹوں، مصنفوں، فلم بینوں یا مزاح کاروں کو سبق پڑھایا گیا، وہ چاہے ویر داس ہو، منور فاروقی یا اب کنال کمرا ہو۔
انڈیا کے پکاسو کہلانے والے معروف مصور ایم ایف حسین دیار غیر میں انتقال کر گئے کیونکہ ان پر مدر انڈیا کی برہنہ پینٹنگ بنانے کا الزام تھا۔
ویر داس نے امریکہ میں ایک شو کے دوران کہا تھا کہ انڈیا کے دو رخ پائے جاتے ہیں جہاں دن میں عورتوں کی پوجا ہوتی ہے اور رات کو ان سے جنسی تشدد کیا جاتا ہے۔ پھر میڈیا نے کئی ہفتوں تک ویر داس کو نشانے پر رکھے رکھا۔
فلمی نقاد ریسا درشن کہتی ہیں کہ فنکاروں یا اداکاروں کو نشانہ بنانا ایک بہانہ ہے، اصل میں سیاست کے ساتھ ساتھ ثقافت، فلمیں، کتابیں، موسیقی اور کھیلوں کے نئے انداز سے انڈیا کو ہندو راشٹر بنانے کے پروجیکٹ پر سرعت سے کام ہو رہا ہے۔
چند روز قبل ناگپور میں فلم ’چھاوا‘ کی ریلیز کے بعد فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے۔ فلم میں مغل دور کے بادشاہ اورنگ زیب کو سفاک بتا کر ہندووں پر ان کے ظلم کی کہانی فلمائی گئی ہے۔ مسلمانوں کی برہمی کو برداشت نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ردعمل میں بجرنگ دل اور دوسرے انتہا پسند ہندووں نے اورنگ زیب کی قبر کو منہدم کرنے کی سعی کی۔ جب مسلمانوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں چپ کرانے کے لیے دنگے فساد کروائے گئے۔
چونکہ یہ فلم بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کی حمایت کرتی ہے تو اسے مشتہر کرنے میں حکومت نے پارلیمان میں دکھانے کا اعلان کیا۔
چھاوا سے پہلے ’کشمیر فائیلز‘ اور ’کیرلا سٹوری‘ کی بی جے پی نے خوب تشہیر کی۔ بعض ریاستوں میں خصوصی رعایت دے کر فلم بینوں کی تعداد بڑھائی گئی اور جہاں فلم بنانے والوں کی خاصی آمدنی ہوئی، وہیں مسلمانوں کے امیج کو زک پہنچا کر ہندوؤں میں نفرت کی آگ بھڑکا دی گئی۔
بالی وڈ ہر سال ایک ہزار سے زائد فلمیں بناتا ہے جن میں سے بہت سی ایسی ہوتی ہیں جن میں ہندو مذہب، مسلم دور اور ہندوؤں پر زیادتیوں کی داستانیں ہوتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آپ کو یاد ہو گا کہ مشہور مزاح نگار منور فاروقی، نلین یادو اور سارتھک گوسوامی کو ہندو بھگوانوں کی تضحیک کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
جمہوری انڈیا میں بی جے پی نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ظالم، سفاک اور ملک دشمن جتانے میں نہ صرف سیاسی طور مہم چلائی بلکہ تفریح دنیا کے ذریعے اسے گھر گھر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
مسلم مخالف لہر انڈیا میں ہی نہیں بلکہ امریکہ برطانیہ اور دوسرے جمہوری ملکوں میں بڑی گہری ہوتی جا رہی ہے جس کے لیے مین سٹریم میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا خاصا سرگرم دکھائی دے رہا ہے اور جس پر حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی سخت بیان دیا تھا۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد گو کہ رچرڈ گیر سے لے کر جارج کلونی جیسے اداکار ہالی وڈ سے دور بھاگنے لگے ہیں وہیں آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی ہمدان بلال چند روز پہلے غرب اردن میں اسرائیلی انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہو گئے ہیں، چند روز تک لاپتہ کر دیے گئے، پھر انہیں نیم مردہ حالت میں رہا کردیا گیا۔
اب کنال کمرا ہندو انتہا پسندوں سے کیسے بچ سکتے ہیں جہاں پہلے ہی سیکولر ہندو اور اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
رچرڈ گیر نے فروری میں سپین میں ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ گہری دھند میں گُم ہو چکا ہے جہاں ایک ٹھگ صدر بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ رچرڈ اس وقت سپین میں رہ رہے ہیں۔
اس سے قبل آرینا گرنڈے، کرسٹنا اپیلگیٹ اور جان کیوسیک نے ’امریکی جمہوریت کا خطرناک چہرہ‘ بتا کر ہجرت کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ ٹرمپ نے دو روزقبل ہی معروف ایکٹر جارج کلونی کے خلاف بیان دے کر کہا کہ وہ ایک دوسرے درجے کے اداکار اور ناکام سیاسی پنڈت ہے۔
بقول تبصرہ نگاروں کے جمہوری دنیا اس وقت بے لگام گھوڑے کی مانند ہو گئی ہے جس پر نہ کوئی کنٹرول ہے اور نہ ایسے اداروں کی ساخت باقی رہی ہے جنہیں دوسری عالم گیر جنگ کے بعد انتہاپسندی پر قابو رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ریسا درشن کہتی ہیں کہ جب خود ہی ان ملکوں نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے تو یہ کیسے تیسری دنیا کو انسانی حقوق کا سبق پڑھائیں گے۔
غیر جمہوری مملکتوں میں یہ بحث جاری ہے کہ جمہوری حکومتوں یا لبرل مملکتوں میں فاشسزم دوبارہ سر کیوں ابھار رہا ہے جبکہ ہٹلر کے بعد انہوں نے اپنی نئی جمہوریت کا ماڈل افریقہ اور ایشیائی ملکوں پر مسلط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ تارکین وطن کی پالیسیاں بنا کر یہ اپنی سرحدیں بند تو کر رہے ہیں مگر بقیہ دنیا کی سرحدیں پھلانگ رہے ہیں۔
امیر ترین لبرل ممالک شاید اب بھی خود کو جمہوری ممالک مانتے ہیں اور دنیا کو نئے ورلڈ آرڈر کے بیانیے سے بہلاتے بھی ہیں لیکن جمہوریت کے لبادے میں ان ملکوں میں فاشسٹ سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔