سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘ آپ نے پڑھا ہی ہوگا۔ پڑھا نہ ہو تو سرمد کھوست کی فلم "منٹو" میں اس افسانے کا اختتام ضرور دیکھا ہو گا۔
سراج الدین کی بیوی پر بلوائیوں نے حملہ کر دیا تھا۔ اس کی انتڑیاں باہر آ چکی تھیں اور آخری سانسیں لے رہی تھی۔ بیوی نے کہا، ’مجھے چھوڑو سکینہ کو لے کر یہاں سے بھاگو۔‘
سراج الدین بھاگتے دوڑتے بچتے بچاتے اپنی بیٹی سکینہ کو لے کر ریلوے سٹیشن کی طرف بھاگا، سپیشل ٹرین پر سوار ہوا اور امرتسر سے مغل پورہ پہنچ گیا۔ صبح کیمپ کے ٹھنڈے فرش پر سراج الدین کی آنکھ کھلی تو اسے خبر نہیں تھی کہ میں کہاں ہوں۔ چاروں طرف قیامت کا ایک منظر تھا جس میں کوئی اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا تھا، کوئی باپ کو، کوئی بیٹی کو تو کوئی کسی دوسرے رشتے اور سہارے کو۔ کوٹ کی بھری بھری سی جیب میں سراج الدین نے ہاتھ ڈالا تو سکینہ کا دوپٹہ نکل آیا۔ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، دائیں بائیں دیکھا، اندر باہر دوڑا مگر سکینہ نظر نہیں آئی۔
سراج الدین کے ذہن میں مسلسل کچھ سوال تھے۔ کیا سکینہ کو میں کامیابی سے بچا لے گیا تھا، کیا سکینہ سٹیشن پہنچنے تک میرے ساتھ تھی، کیا سکینہ ٹرین میں میرے ساتھ تھی؟ جب بلوائیوں نے ٹرین روکی تو کیا میں ہوش میں تھا۔ بلوائی جب ٹرین میں چڑھے تھے تو کیا میں بے ہوش ہو چکا تھا۔ کیا بلوائی سکینہ کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ کیا سکینہ زندہ ہے۔ کیا سکینہ مر گئی ہے؟
کیمپ میں سب لوگ ہمدردی کے مستحق تھے۔ کسی سے اپنا درد بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ درد حد سے گزر جائے تو رونا بھی نہیں آتا۔ بوڑھا سراج الدین اسی کیفیت میں تھا۔ دوچار دن بعد آٹھ بندوقچیوں کی سماعت میں گنجائش پا کر سراج الدین نے اپنی بات کہہ دی۔ سکینہ میری سترہ برس کی اکلوتی بیٹی ہے، اپنی ماں پر گئی ہے، گال پر ایک تِل بھی ہے، بے حد حسین ہے۔ جانے کہاں مجھ سے بچھڑی ہے کہاں رہ گئی ہے۔ کہیں سے ڈھونڈ لاؤ، خدا تمہارا بھلا کرے گا۔‘
بندوقچیوں نے کہا، ’اگر سکینہ زندہ ہوئی تو ضرور مل جائے گی۔‘
امرتسر جاتے ہوئے ایک سڑک کے کنارے ان جوانوں کو سکینہ مل گئی۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر بدحال سکینہ کھیتوں میں بھاگ نکلی۔ انہوں نے ہزار کہا کہ ہم تمہیں بچانے آئے ہیں مگر اسے یقین نہیں آیا۔ اسے پتہ چلا کہ یہ لوگ میرا نام بھی جانتے ہیں تو بدحواسی میں اور بھی تیز بھاگی۔ بھاگم بھاگ ان جوانوں نے سکینہ کو کھیتوں میں پکڑ لیا۔ انہوں نے سراج الدین کا نام لیا تو سکینہ کا رنگ زرد ہو گیا۔ بہت مشکل سے مانی کہ وہ سراج الدین کی بیٹی ہے۔
ایک آدھ دن بعد چار لوگ ایک لڑکی کو اٹھاکر لائے اور کیمپ کے پاس والے ہسپتال کے حوالے کر دیا۔ اس کا نام سکینہ ہے، ریلوے لائن کے پاس بے ہوش ملی ہے۔ سراج الدین دبے قدموں ہسپتال میں داخل ہوا۔ اندھیرے میں ایک سٹریچر پر لاش پڑی ہے۔ کمرے میں تھوڑی روشنی کر کے ڈاکٹر نے پوچھا، یہ تمہاری بیٹی ہے؟ گال پر تل دیکھ کر سراج الدین نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، ’جی، جی میری بیٹی ہے۔‘
ڈاکٹر نے نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا، ’کھڑکی کھولو۔‘ سکینہ کے جسم میں جنبش ہوئی۔ بے جان ہاتھوں سے اس نے اپنا ازاربند کھولا اور شلوار نیچے کو سرکا دی۔ بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، ’زندہ ہے میری بیٹی زندہ ہے۔‘
ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں شرابور ہو گیا۔
کشمور کی چار سالہ بچی کو ماں رور روکر کہہ رہی ہے، بیٹا بتاؤ نا تمہارے ساتھ کیا ہوا۔ بچی سہمی ہوئی کھڑی ہوئی ہے۔ اسے یہ تو پتہ ہے کہ کچھ ہوا ہے، یہ نہیں پتہ کہ کچھ غلط ہوا ہے۔ اسے جب اندازہ ہوا کہ آج کسی بدتمیزی پر سب میرے طرف دار ہیں تو شلوار سرکاتے ہوئے اس نے کہا، دیکھیں انکل نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔ بچی کے اس جملے کو دہرانا آسان نہیں ہے، مگر کیا کیجیے صاحب؟
مسلسل ہونے والے جنسی سانحوں کے ویڈیو کلپس دیکھ کر سمجھ نہیں آتا کہ یہ سانحے ہو رہے ہیں یا منٹو کے افسانے فلمائے جا رہے ہیں۔ کشمور کی معصوم سی جان پر سے جامہ سرکتا دیکھ کر میری طرح آپ کو بھی سعادت حسن منٹو کی سکینہ یاد آئی ہو گی۔
کیمپ کے ٹھنڈے فرش پر پڑے بے آسرا سراج الدین بھی مجھے یاد آیا۔ قیامت کو حد سے گزرتا دیکھ کر اب سراج الدین کی طرح ہمیں رونا بھی نہیں آتا۔ بات تو اب اس مرحلے پر آن پہنچی ہے جہاں سانحوں کی حیثیت معمول کی ایک خبر جیسی ہو جاتی ہے۔ ڈر یہ ہے کہ بات سمجھ آنے سے پہلے جنسی درندگیوں کے ہم عادی ہی نہ ہو جائیں۔ بلوائیوں اور ہمدردوں کے ستم کا شکار ہونے والی سکینہ کی شلوار سرکی تو موقعے پر کھڑا ڈاکٹر پسینے میں شرابور ہو گیا تھا۔ کشمور کی بیٹی کی شلوار سرکی تو ساتھ کھڑا پولیس اہل کار بچی کے جسم کے برہنہ حصے میں محو ہو گیا۔ سانحے سے بڑا یہ حادثہ ہوا کہ اس بات پر ہم نے غور نہیں کیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کافی حد تک عادی ہو چکے ہوں؟
ڈاکٹر نے کھڑکی کھولنے کی بات کی تو دردنگی کا نشانہ بننے والی نیم بے ہوش سکینہ نے ازار بند کھول دیا۔ یہاں چار سالہ بچی کو ماں مسلسل اپنا دکھ سنانے کو کہہ رہی ہے مگر وہ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی دیر تک چپ چاپ کھڑی ہے۔ بچے ایسے کسی ستم کا ادراک کر بھی کیسے سکتے ہیں؟ بچے تو جس کام کو ٹھیک سمجھتے ہیں، اس پر انکلوں سے مار کھاتے ہیں۔ جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں، اسے اپنا نصیب سمجھ کر بھگت رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور مار اچھی نہیں لگتی، مگر بڑے انہیں بات بات پر ڈانٹتے اور مارتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ اسی سلوک کے شاید وہ مستحق ہیں۔ مار پیٹ سے تکلیف پہنچنا اپنی جگہ، مگر انکل کا یہ حق ہے کہ وہ ہمیں ماریں۔ جب ہم روئیں تو وہ اور بھی ماریں۔
کچھ ہوا ہے، یہ بات تو آخر کار بچی کو سمجھ آ گئی۔ کچھ غلط ہوا ہے، یہ بات بھی کچھ نہ کچھ وہ سمجھ گئی ہے۔ کتنا غلط ہوا ہے اور کیا غلط ہوا ہے، یہ سمجھنے میں اسے زمانے لگیں گے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ کیا زمانے بعد بھی ہم سمجھ پائیں گے کہ نوزائیدہ روحوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے ان ہاتھوں کی پرورش میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے؟ کسی حادثے پر رک کر ثناخوانِ تقدیسِ مشرق نے کبھی گریبان کا جائزہ نہیں لیا۔ برسوں کی ان غفلتوں کا نتیجہ اب سامنے ہے۔ بڑھتے بڑھتے اب یہ ہاتھ معصوم جسموں کے ان حصوں تک پہنچ گئے ہیں جہاں بچوں کے اپنے ہاتھ بھی ٹھیک سے نہیں پہنچتے۔
منٹو کے افسانے میں شلوار سرکنے پر باپ خوشی سے چلایا تھا کہ سکینہ زندہ ہے۔ کشمور میں شلوار سرکنے پر ماں غم سے چلائی کہ ’میری بچی مر گئی ہے۔‘ یہ معاشرہ مرگیا ہے۔