صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علویٰ اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے عدالتی احتساب کے معیار کو کم اور ججوں کو احتساب سے بچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایسا رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں حکومتی نظر ثانی (کیوریٹیو) اپیل مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف جمعے کو دائر کی گئی اپیل میں لکھا گیا۔
رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف مذکورہ اپیل دائر کرنے والوں میں صدر پاکستان ڈاکٹر علوی، وفاق پاکستان، وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر اور ایسیٹس ریکوری یونٹ کے قانونی ماہر ضیا المصطفی شامل ہیں۔
رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ کیس کی نظر ثانی کی اپیل کے فیصلے میں عدالتی احتساب کے معیار کو گھٹا دیا جاتا ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو عدالتی آزادی کے نظریے کے پیچھے چھپنے کے لیے ایک ڈھال فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ عدالتی احتساب سے بچ سکیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس کے نتیجے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کی بیرون ملک جائیدادوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سیرینا عیسیٰ نے اپیل دائر کی جسے اعلیٰ عدلیہ کے 10 رکنی بینچ نے سنا اور چار کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کو تحقیقات سے روک دیا۔
حکومت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی نظر ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، جسے رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا۔
رجسٹرار کی جانب سے حکومتی نظر ثانی کی اپیل پر لگائے گئے اعتراضات کا جواب جمعے کو داخل کروایا گیا۔
ریاستی اپیل میں اخبارات میں چھپنے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک خط کے ذریعے جسٹس فائز عیسیٰ کا کیس سننے والے بینچ میں شامل ہونے کی استدعا کی۔
اپیل میں مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے خط کی حقیقت جاننے اور اس کی کاپی حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا جس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اپیل میں مزید کہا گیا کہ اخبارات میں چھپنے والی مذکورہ رپورٹ اس تعصب کی بنیاد اور تعصب کے تاثر کو جو اپیل کنندہ نے حاصل کیا کی تصدیق کرتی ہے۔
اپیل میں رجسٹرار کی طرف سے حکومتی نظر ثانی (کیوریٹیو) اپیل میں نازیبا زبان کے استعمال سے متعلق الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی زبان اور الفاظ اکثر عدالتی فیصلوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں اور ان کا استعمال کسی جج کے خلاف نہیں تھا۔
اپیل میں ایک مقام پر کہا گیا کہ رجسٹرار نے ریاستی نظر ثانی کی اپیل مسترد کرنے کی وجہ متعدد مطالبات بھی بیان کیا ہے، لیکن جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل میں نو مطالبات درج تھے۔ ’رجسٹرار نے ان پر کوئی اعتراض نہیں لگایا تھا۔‘
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
معروف وکیل اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عمران شفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون میں کیوریٹیو اپیل کی کوئی گنجائش موجود نہیں جبکہ اس متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کسی بھی سابقہ حکومت یا موجودہ حکمرانوں نے کسی بھی کیس میں کوئی کیوریٹیو اپیل دائر نہیں کی۔
عمران شفیق نے کہا کہ کسی بھی فیصلے پر ریویو اس صورت میں دائر کیا جاتا ہے جب اس فیصلے میں غلطیاں بہت واضح ہوں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اور وہ بھی صرف ایک ریویو ہو سکتا ہے، کیوریٹیو ریویو کی تو کوئی گنجائش ہی موجود نہیں۔‘
انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکومت جسٹس فائز عیسیٰ کو ہر صورت ہٹانا چاہتی ہے، اسی لیے ان کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کیوریٹیو اپیل دائر کی گئی۔
سپریم کورٹ کے دو ججوں کی جسٹس قاضٰ فائز عیسی کا کیس سننے والے بینچ میں شمولیت کی خواہش سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا انتظامی اور ججوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔ ’اس سے حکومت کا کیا لینا دینا جو وہ چیف جسٹس سے خط مانگ رہی ہے۔‘
عمران شفیق نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں فیصلہ بہت کم اکثریت سے آیا جبکہ اس بینچ میں شامل جسٹس مقبول باقر ریٹائر ہو گئے ہیں۔
’اب حکومت چاہتی ہے کہ بینچ میں ان کی جگہ دوسرا جج آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ فیصلہ حکومت کے حق میں آ جائے اور یہ تبھی ممکن ہو گا اگر کیوریٹیو اپیل کی سماعت ہوتی ہے۔‘