پاکستان میں 50 لاکھ روپے کی موٹرسائیکل

پاکستان میں 70 اور 125 سی سی سے اوپر جو کچھ بھی رکھا جائے وہ شوق کے کھاتے میں شامل کیا جاتا ہے۔

دنیا میں چھ قسم کی موٹر سائیکلیں بنائی جاتی ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

ابھی پچاس، ساٹھ برس پہلے تک سڑکوں پہ امریکی گاڑیوں کا راج ہوتا تھا۔

لاہور کی مال روڈ ہو، راولپنڈی کینٹ یا کراچی کا طارق روڈ، ہر جگہ یہ لمبی لمبی شیورلیٹ، فورڈ، لنکن یا پونٹیاک چلا کرتی تھیں۔

پھر جرمن گاڑیاں ہمارے یہاں پسند کی جانے لگیں۔ فوکسی کے بعد مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو وغیرہ نے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی۔

ابھی کچھ عرصے پہلے آڈی بھی لائن میں لگ چکی ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ امریکن گاڑیاں پیٹرول پیتی تھیں۔

ان کے فیول ٹینک اتنے بڑے تھے کہ پانچ پانچ سو میل تک پیٹرول ڈلوانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

جرمن گاڑیاں ان کے مقابلے میں فیول ایفیشنٹ تھیں۔ پیٹرول امریکیوں کا مسئلہ نہیں تھا لیکن جرمنی والوں کا تھا۔

کھلی لمبی سڑکیں امریکیوں کو میسر تھیں لیکن عام جرمن شخص کو مقابلتاً کم فاصلے طے کرنا ہوتے تھے تو ان کی گاڑیاں تھوڑی سمارٹ بننی شروع ہو گئیں۔

یہی چیز پاکستانیوں کو وارا کھاتی تھی۔ جاپانی گاڑی آپ کے اور ہمارے سامنے کی گیم ہے۔ امریکی اور جرمن، دونوں میکرز کو پیچھے چھوڑ کے اس وقت جاپانی گاڑیوں کا راج ہے۔

اس کی وجہ بھی وہی فیول ایفیشنسی، چھوٹا سائز اور پاکستانی سڑکوں کے حساب سے بنا سسپنشن۔ پاکستانی موٹر سائیکل مارکیٹ میں بھی یہی سب کچھ ہوا۔

ٹرائمف ٹائیگر انگلینڈ کی موٹر سائیکل تھی۔ آپ اپنے ابا سے پوچھیے تو انہیں یاد ہو گی۔

اس کے بعد ویسپا کا دور شروع ہوا، وہ اٹلی کا تھا اور پھر سوزوکی، ہونڈا، کاواساکی، یاماہا سے ہوتے ہوئے ہم لوگ چینی موٹر سائیکلوں پہ لینڈ کر گئے۔

وجوہات وہی تھیں۔ فیول اکانومی اور دیسی حالات پہ فٹ ہوتی ہوئی چیز کا مارکیٹ بنانا۔

اس سب کے بیچ میں ایک راستہ اس وقت بھی اکیلا تھا، اب بھی ہے۔ تب بھی کئی لوگ اس طرف جاتے تھے، آج بھی جاتے ہیں۔ وہ شوق کا راستہ ہے۔

موٹر سائیکلیں دنیا میں چھ قسم کی بنائی جاتی ہیں۔ ڈوئل پرپز، جیسے ہماری سی ڈی سیونٹی یا ہونڈا ون ٹو فائیو ہے۔

کروزر، جس پہ آپ لمبا سفر آرام سے کر سکتے ہوں۔ اس میں گورے تو ہزار سی سی کو بھی کراس کرتے ہیں، ہم لوگ جو نسبتاً ہیوی بائیک مل جائے اس پہ گزارا کر لیتے ہیں۔

سپورٹس، یہ جو ریسر موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں، جو ہم لوگ بچپن سے ٹی وی پہ دیکھتے ہیں کہ موڑتے ہوئے بندے کا گھٹنا زمین کو لگ رہا ہوتا ہے۔

سٹینڈرڈ، ایسی موٹر سائیکلیں جن میں بیٹھنے کا اینگل یہی ہو جس کی ہم سب کو عادت ہے، لیکن اس میں سائز اور انجن کا حساب پھر دنیا بھر میں الگ ہوتا ہے۔

چوپرز (ہیلی کاپٹر جیسی آواز والی بھاری موٹرسائیکلیں جیسے ہارلے ڈیوڈسن) کو سٹینڈرڈ موٹر سائیکل سے فرق ہی تب نصیب ہوتا ہے جب دونوں کی سیٹنگ پوزیشن کو پرکھا جاتا ہے۔ چوپر نسبتاً کم آرام دہ ہوتی ہے اور ہینڈل موڑنے کی گنجائش اس میں کم ہے۔

ٹورنگ، یہ ایسی کیٹیگری ہے جس میں ایک آرام دہ 250 سی سی ہو یا 1800 سی سی چوپر، ساری موٹرسائیکلیں فٹ ہو جاتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ پہاڑی راستوں پہ موڑنا آسان ہو اور لمبی ڈرائیو تھکا نہ دے۔

ڈرٹ بائیکس، میں وہ سارے ٹریل اور اونچے مڈگارڈوں والی موٹرسائیکلیں شامل ہیں جنہیں ہم ایڈوینچر بائیک یا کچھ بھی نام دیتے پھرتے ہیں۔

پاکستان میں 70 اور 125 سی سی سے اوپر جو کچھ بھی رکھا جائے وہ شوق کے کھاتے میں شامل کیا جاتا ہے۔

مجھ جیسے شوقین زیادہ سے زیادہ ویسپا، ہونڈا ٹو ہنڈرڈ یا بینیلی (اٹلی) تک چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ جو ڈائی ہارڈ فین ہوتے ہیں، جو افورڈ کرتے ہیں، ان کے لیے افق بہت وسیع ہے۔

رائیڈ آن اسلام آباد میں ایک ایسی جگہ ہے جسے آپ خوابوں کی جنت کا نام دے سکتے ہیں۔ ایک چھت کے نیچے آٹھ، دس ہارلے ڈیوڈسن، دو بی ایم ڈبلیو ایڈونچر، ایک سوزوکی، ایک انڈین چیف ونٹیج اور دو تین چینی مینی سٹینڈرڈ بائیکس موجود ہیں۔

چین ساختہ ہیوی بائیکس پانچ لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہیں، سوزوکی کا اچھا ہزار سی سی سے اوپر ماڈل بیس، بچیس لاکھ روپے کا مل جاتا ہے اور بڑے برانڈز جیسے ہارلے ڈیوڈسن یا انڈین کی بات کریں تو وہ پچاس، ساٹھ لاکھ روپے کی گیم ہے۔

زلفی شاہد اس شوروم کے مالک ہیں۔ انہیں فون کیا، درخواست کی، مان گئے کہ ٹھیک ہے کل آ جائیں۔

تھوڑا سا ہوم ورک کیا اور اگلے دن بھائی پہنچ گیا وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے۔ ابھی زلفی بھائی نہیں پہنچے تھے۔ حمزہ وہاں موجود تھے۔ حمزہ کی نوکری کا وہاں پہلا دن تھا، ابا نے انہیں وہاں بیٹھنے کا کہا تو بس وہ پہنچ گئے۔

حمزہ سے بڑی دیر ہیوی بائیکس پہ بات ہوتی رہی، ماڈلز کے نام، قیمتیں اور کافی چیزیں جو انہیں پتہ تھیں وہ ڈسکس ہوئیں۔ اتنی دیر میں دفتر سے سہیل بھائی آ گئے۔ کیمرہ، ڈرون سبھی کچھ ان کے پاس ہوتا ہے۔

ہم لوگ شوٹ کرتے رہے اتنی دیر میں زلفی بھائی آئے تو ان کے ساتھ یاسر صاحب بھی تھے۔ یاسر صاحب پرانے ترین کار اینتھوزیسٹ، بائیکس اور ویسپا لوور ہیں۔

شوٹنگ میں اور اس کے بعد جو چیزیں میں نے ان دونوں سے سیکھیں وہ پہلے دیکھ لیں۔

پہلی چیز کہ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہے تو بھی اولاد کو ڈائریکٹ ہارلے ڈیوڈسن خرید کے نہ دیں۔ وہ سمجھیں پروفیشنل لیول کی گیم ہے۔

پہلے 125 دیں، پھر کوئی 250 پھر چار، پانچ سو سی سی اس کے بعد کوئی اور سیف بائیک اور پھر اسے ایسی کوئی ہیوی مشین لے کر دیں تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکے۔

بائیک ایسی مست مشین ہے کہ آپ اشارہ دیتے ہیں اور یہ چھوٹتی ہے، تو تھوڑا دھیان، دھیرج! یہی مشورہ اباؤں کے لیے باقی چیزوں میں بھی ہے۔

آئی فون 12 کی بجائے پہلے اولاد کو تھوڑے ہلکے فونز پہ جینا سکھائیں، الٹرا پرو میکس لیول پہلے ہی دن ہاتھ میں دیں گے تو بعد میں اس نے آگے کی ہی سوچنی ہے۔

زلفی بھائی نے بتایا کہ ایک 16 سالہ بچے کے ساتھ ان کے ابا آئے جو انہیں فیٹ بوائے ہارلے ڈیوڈسن دلانا چاہ رہے تھے۔

پیسے کا مسئلہ کوئی نہیں تھا، افورڈنگ فیملی تھی۔ انہوں نے خود منع کر دیا کہ صاحب میں نہیں دوں گا، آپ اپنے لیے خریدیں تو الگ بات، بچہ خود کو نقصان پہنچا لے گا۔ تو بات ساری یہ ہے۔

اسی طرح دوسری چیز میں نے سیکھی کہ موٹرسائیکل پہ بیٹھنے سے پہلے ہیلمٹ، دستانے، جیکٹ، بوٹ، کہنی اور گھٹنے کے سیفٹی پیڈز اور سائیڈ والے شیشے بہت ہی زیادہ لازم ہیں۔

عام بائیک پہ تو ہیلمٹ اور شیشے ہی فرض ہیں لیکن ہیوی بائیک پہ اگر آپ بیٹھ رہے ہیں تو اس کے لیے یہ تمام لوازمات ضروری ہیں۔

صرف ایک چوپر (فرض کر لیں ہارلے ڈیوڈسن) کو پیچھے کرنے میں اتنا زور لگتا ہے کہ گرپ والے اچھے جوتے نہ ہوں تو پارکنگ کرتے ہوئے پیر پھسل سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زلفی بھائی اور یاسر صاحب دونوں کی کہانی ہم آپ جیسی تھی۔ بلٹ ناٹ باٹ (built not bought) والا فلسفہ ان کے یہاں مکمل موجود ہے۔

موٹر سائیکلوں کے ایک ایک پرزے سے واقف ہیں اور نئے شوقینوں کی طرح چٹی ناواقفیت والا سین ان کے دور دور تک نہیں پایا جاتا۔

تین چار گھنٹے میں نے اور سہیل بھائی نے وہاں گزارے۔ فیٹ بوائے اور انڈین چیف ونٹیج کوئی اخیر قیامت قسم کی چیزیں تھیں۔

دونوں 50 لاکھ روپے سے اوپر کہانی ہے۔ جب مولا دے گا تب لیں گے، ابھی تو مزے کیے اور شوٹ کیا۔

واپسی پہ سہیل بھائی کے گھر سے کھانا کھایا اور پہنچ گیا اپنے فلیٹ۔

ہیوی بائیکس کی باقی ساری کہانی آپ کے سامنے ویڈیو کی شکل محفوظ ہے۔ دیکھیے، موج کریں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا