عمر شریف امریکہ روانہ: ایئر ایمبولینس ہوتی کیا ہے؟

کئی دنوں کی تاخیر کے بعد آخر کار ایک ایئر ایمبولینس پاکستانی اداکار عمر شریف کو علاج کے لیے امریکہ لے گئی۔

منگل کی دوپہر ایئر ایمبولینس عمر شریف کو کراچی سے لے گئی (تصاویر: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی )

معروف پاکستانی کامیڈین اور اداکار عمر شریف کو کئی دنوں کی تاخیر کے بعد آخر کار منگل کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے علاج کی غرض سے امریکہ روانہ کر دیا گیا۔  

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ترجمان سیف اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمر شریف کی ایئر ایمبولینس دوپہر 12 بجے روانہ ہوئی۔ ان کے مطابق: ’یہ ایئرایمبولینس کراچی سے جرمنی جائے گی، جہاں سے ایندھن بھروانے کے بعد یہ امریکی شہر واشنگٹن ڈی سی جائے گی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کو سندھ حکومت کی جانب سے فنانس ڈویژن کو لکھے جانے والے خط کی کاپی موصول ہوئی ہے جس کے مطابق عمر شریف کو کراچی سے امریکی شہر واشنگٹن علاج کے لیے منتقلی کی مد میں امریکی کمپنی آن کال انٹرنیشنل کو ایئرایمبولینس کے لیے ایک لاکھ 69 ہزار 800 امریکی ڈالرز یا تقریباً ساڑھے 28 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔

عارضہ قلب سمیت مختلف امراض میں مبتلا اداکار عمر شریف کئی دنوں سے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں داخل تھے۔

بیماری کے دوران ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ انتہائی کمزرو نظر آرہے ہیں۔ اس کے بعد صارفین نے حکومت سے عمر شریف کا علاج سرکاری خرچے پر کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ 

سندھ حکومت نے عمر شریف کے امریکہ میں علاج اور ایئر ایمبولینس کے لیے چار کروڑ روپے کی رقم جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ رقم طبی یا دیگر ہنگامی حالات میں مدد کرنے والی امریکی کمپنی آن کال انٹرنیشنل کو جاری کی گئی۔ 

آن کال انٹرنیشنل نے جرمنی کی کمپنی ایف اے آئی ایئر ایمبولینس  کی خدمات حاصل کیں۔ یہ ایئر ایمبولینس ایک فکسڈ ونگ دو انجن والا جہاز ہے  جس میں دو بستر نصب ہیں۔

کراچی پہنچنے والی اس ایئر ایمبولنس میں کپتان سمیت پانچ افراد کا عملہ ہے جن میں دو پیرامیڈکس بھی شامل ہیں۔ 

آن کال انٹرنیشنل عالمی سطح پر دیگر خدمات کے ساتھ ایئر ایمبولنس چلاتی ہے۔ ان کی ایئر ایمبولینس کا عملہ مریض کو ہسپتال سے ایئرپورٹ تک خود ہی لے جاتا ہے، جبکہ منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد عملہ مریض کو ایئرپورٹ سے ہسپتال بھی پہنچاتا ہے۔  

کئی دنوں کی تاخیر کے بعد ایئر ایمبولینس پیر کی صبح کراچی ایئرپورٹ پہنچی۔ طبیعت بگڑنے کے باعث نجی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے عمر شریف کی سفر کی اجازت نہیں دی ہے۔ تاہم  منگل کی صبح کو ان کو ہوائی سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی۔  

ویب سائٹ فلائٹ اوئر کے مطابق اس سے قبل یہ  24 ستمبر کو جرمنی کے شہر نوریمبرگ سے اٹلی کے شہر کومیسو گئی، جہاں سے 25 سمتبر کو ایک مریض کو فلپائین کے منیلا کے میٹرو ایئریا پہنچایا۔ فلپائین سے یہ پرواز پیر کو کراچی کے جناح انٹنیشنل ایئرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 56 منٹ پر پہنچی اور اگے دن تک رہی۔ 

 

ایئر ایمبولینس ہوتی کیا ہے؟ 

ایئر ایمبولینس ایک چھوٹا جہاز یا ہیلی کاپٹر ہوتا ہے، جس کے اندر بیٹھنے والے حصے کو مخصوص انداز میں ڈزائین کیا جاتا ہے۔ یہ جہاز یا ہیلی کاپٹر کسی بیمار یا زخمی فرد، یا ہنگامی طور پر طبی امداد کی ضرورت والے میرض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ باحفاظت پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔  

کچھ ایئر ایمبولینسز کو میڈیوک بھی کہا جاتا ہے جو روائتی طور پر جنگ کے میدان میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو بروقت اٹھانے اور بروقت طبی امداد دینے والے مرکز تک لے جاتے ہیں۔  

ایئر ایمبولینس زخمیوں اور مریضوں کی منتقلی کے ساتھ ساتھ ایسے انسانی عضا جن کو فوری طور پر کسی انسان میں ٹرانسپلانٹ کرنا ضروری ہوتا، کو بھی ایک ہسپتال سے دوسری ہسپتال لے جانے کا کام کرتی ہے۔  

آسٹریلیا اور امریکہ سمیت مختلف مملاک میں ایئر ایمبولینس دودراز کے علاقوں میں زخمیوں اور مریضوں کو ایمرجنسی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں سے زمینی ایمبولینس کے ذریعے مریضوں کی منقتلی ممکن نہیں یا راستہ لمبا ہو۔ بہت کم کسی مریض کو دوسری ملک منتقل کرنے کے لیے ایئر ایمبولینس کا استعمال کیا جاتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ایئر ایمبولینس میں عام طور پر مریض یا زخمی کے لیٹنے کے لیے بستر، آئی سی یو وینٹی لیٹر، ای سی جی مشین، الیکٹرک ویل چیئر، سیٹلائٹ فون، میڈیکل کٹ کے علاوی ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کا عملہ بھی ہوتا ہے۔  

ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی کے مطابق ایئر ایمبولینس ایک اچھی زمینی ایمبولینس کی طرح ایک موبائیل میڈیکل یونٹ کا کام دیتی ہے۔ ’ایئر ایمبلینس میں مریض کو لے جانے کے لیے سٹریچر، آکسیجن سلنڈر، ادوایات کے ساتھ طبی ماہرین کی ایک ٹیم بھی ہوتی ہے، جو راستے میں ضرورت پڑنے پر مریض کا علاج جاری رکھتی ہے، جب تک انہیں ہسپتال نہ پہنچایا جائے۔‘  

یہ سروس بہت مہنگی ہوتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اس کا استعمال عام نہیں۔ 

2019 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن لے جانے کے لیے پاکستان میں ایئر ایمبولینس نہ ہونے کی صورت میں قطر کے شاہی خاندان کی وی آئی پی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کے ذریعے لے جایا گیا۔  

جبکہ 2012 میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو لندن لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ 

 سعد ایدھی کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایئر ایمبولینس کی سہولت صرف ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس موجود ہے۔ ان کے مطابق: ’ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ایئر ایمبولینسز ہیں، جن میں ایک پائپر سینیکا اور ایک پائپر سیسنا جہاز ہیں۔ مگر یہ چھوٹے سائیز کے جہاز ہیں جو صرف اندرون ملک ہی سفر کرسکتے ہیں۔‘  

ایئر ایمبولینس کا خرچہ کتنا ہوتا ہے؟   

 کچھ ایئر ایمبولینسز صرف کیریر کا کام کرتی ہیں، جن میں منتقل ہونے والے مریض یا زخمی کے علاج کے لیے کوئی سہولت نہیں ہوتی، صرف مریض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ ایئر ایمبولینس سستی ہوتی ہے۔  

مگر کچھ ایئر ایمبولینسز بڑی اور مکمل سہولیات کے ساتھ آراستہ ہوتی ہیں، جن میں ایمرجنسی کی صورت میں مریض یا زخمی کا علاج ہسپتال کی طرح جاری رہتا ہے۔ یہ مہنگی ہوتی ہیں۔

ایئر ایمبولینس کے خرچے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جہاز کتنا بڑا ہے، اس میں کتنی سہولیات ہیں اور فاصلہ کتنا طے کرنا ہے۔  

جہاز کی فیس کے علاوہ ایئر ایمبولینس میں موجود میڈیکل سہولیات، ادویات اور نرسوں اور ڈاکٹروں کی بھی فیس ہوتی ہے۔

سعد ایدھی کے مطابق اندورن ملک پرواز کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کی ایئر ایمبولینس کے پائپر سینیکا جہاز کا کرایہ 60 ہزار روپے فی گھنٹہ جبکہ پائپر سیسنا کا کرایہ 55 ہزار روپے فی گھنٹہ ہے۔ 

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان