صدر پاکستان عارف علوی کے صاحبزادے ڈاکٹر اواب علوی کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی تقریب میں ان سے دو غلطیاں ہوئی ہیں۔
گذشتہ روز اواب علوی نے ایک ٹویٹ میں ’علوی ڈینٹل‘ کی حالیہ کاروباری سرگرمی شیئر کی تھی جس میں انہوں نے ایک امریکی کمپنی ’برنگنگ سمائلز یو ایس اے‘ کے ساتھ مفاہمی یاد داشت پر دستخط کیے تھے۔
اس تقریب میں صدر پاکستان عارف علوی اور خاتون اول بھی موجود تھیں۔ اس تقریب کا انعقاد کراچی کے گورنر ہاؤس میں کیا گیا تھا۔
کیوں کہ یہ ڈاکٹر اواب علوی کے ذاتی کاروبار سے متعلق سرگرمی تھی اس لیے گورنر ہاؤس میں اس تقریب کے انعقاد پر اور اپنے بیٹے کے کاروبار میں بطور صدر شرکت کرنے پر انہیں تنقید کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی معاملے پر صدر مملکت کے بیٹے اواب علوی کا انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہم سے دو غلطیاں ہوئیں۔ ایک گورنر ہاؤس میں تقریب کرنا دوسرا میز کے اوپر سرکاری علامتی نشان ہونا۔‘
انہوں اس بارے میں مزید بتایا کہ ’اس میز پر پھول پڑے ہوئے تھے تو جب وہ ہٹے تو وہاں یہ گرین ایمبلم (علامتی نشان) موجود تھا۔‘
ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس تقریب میں صدر کو مدعو کرنے کے لیے کسی قسم کی درخواست دی گئی تھی تو ان کا کہنا تھا ’عارف علوی میرے والد ہیں تو ایسی ضرورت نہیں پڑی۔ اگر یہ تقریب علوی ڈینٹل کلینک پر ہوتی تو اس میں بھی صدر عارف علوی شرکت کرتے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر اواب علوی سے جب پوچھا گیا کہ علوی کلینک سے عارف علوی کا تعلق رہا تو کیا ان کی بطور صدر اس تقریب میں موجودگی مفادات کا ٹکراؤ نہیں؟ تو اس پر انہوں نے جواب دیا: ’عارف علوی نے 2018 میں علوی ڈینٹل سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور اب ان کا اس سے کوئی بھی معاشی مفاد نہیں جُڑا ہوا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ یادداشت میں یعنی ڈاکٹر اواب علوی، میرے یونیورسٹی کے دوست، ان کے دو دوست اور ڈاکٹر انس کے درمیان ہے اس میں علوی ڈینٹل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ مکمل ذاتی نوعیت کی شراکت داری ہے۔
ڈاکٹر اواب علوی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے یہ تو بتایا کہ اس ایم او یو کا ڈینٹل کلینک سے کوئی تعلق نہیں مگر اس تقریب کے لیے لگائے گئے پوسٹر میں علوی ڈینٹل لکھا گیا ہے اور اواب علوی نے اپنی ٹویٹ میں بھی علوی ڈینٹل کا ذکر کیا ہے۔
Excited to share that we signed an MoU between @AlviDental & Bringing Smiles USA to open a chain of dental practices bring affordable dental care to Pakistan with no compromise in quality of treatment or sterilization but focus on the best treatment possible at affordable rates pic.twitter.com/Zj02sW1uVp
— Awab Alvi (@DrAwab) November 29, 2021
ان کا کہنا تھا صدر عارف علوی کی بطور صدر موجودگی سے فائدہ نہیں نقصان ہوا اور میں اپنی خوشیوں میں اپنے والدین کو الگ نہیں کر سکتا۔
اواب علوی نے بتایا کہ ان کی اس شراکت داری سے قبل والد سے گفتگو ہوئی کہ کہیں اس کا منفی اثر نہ ہو تو ان کا جواب تھا محنت اور حق حلال کی کمائی آپ کا حق ہے۔
انہوں مزید کہا: ’یہ میرا نقصان ہے کہ میرے والد صدر ہیں اور میں ترقی نہیں کرسکتا۔‘
کیٹرنگ کی رقم ادا کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’گورنر ہاؤس اور صدر ہاؤس کی یہ روایت ہے کہ اگر آپ وی وی آئی پی کو بلاتے ہیں تو آپ جگہ کا استعمال کر سکتے ہیں اور چائے بسکٹ کی قیمت آپ کو ادا کرنی ہو گی اور میں نے بالکل ایسا ہی کیا۔‘
اواب علوی نے کہا کہ ’میں کراچی میں ہوتا ہوں اگر آپ کیڑنگ کمپنی کو ادا کی جانے والی رقم کی رسید دیکھنا چاہتے ہیں تو میں دیکھا سکتا ہوں۔‘
تقریبا 18 گھنٹے قبل صدر عارف علوی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے بیٹے کو شراکت داری پر مبارک دی اور یہ بھی لکھا کہ اس کے ذریعے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے۔
Congratulations @DrAwab Wish you success in this collaboration with your friends who are also bringing in foreign investment. https://t.co/yv4sgo2MYs
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) November 29, 2021
اور اس کے بعد ہی انہوں نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں لکھا کہ مقام کا چناؤ اچھا نہیں تھا۔
For the signing ceremony of an MOU between @DrAwab and his friend in my presence, the venue selection was a matter of poor judgment.
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) November 30, 2021
صدر مملکت عارف علوی کی تقریب میں شرکت کے بارے میں عارف علوی کی رائے جاننے کے لیے ان کے ترجمان اختر میر سے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل مفادات کے ٹکراؤ وزیراعظم عمران خان اور صدر عارف علوی کا موقف ان ٹوئٹس میں دیکھا جا سکتا ہے۔
31 مئی 2014 کو عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ حضرت ابوبکر نے خلیفہ بننے کے بعد اپنی کپڑے کی دوکان بند کردی تھی کیوں کہ انہوں محسوس کیا اس کاروبار میں دیگر افراد ان کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
دوسری جانب صدر عارف علوی ماضی نے نومبر 2016 میں ایک ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں مفادات کے ٹکراؤ کا تصور نہیں۔ فرسٹ فیملی جب طاقت میں آتی ہے تو انہیں ’میڈاس ٹچ‘ (جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے) مل جاتا ہے اور ان کا کاروبار پھلنے پھولنے لگتا ہے۔‘