ماہرین آثار قدیمہ نے اردن کے صحرا میں نو ہزار سال پرانا مذہبی تقریبات کا کمپلیکس دریافت کیا ہے جو انسانوں کے بنائے ہوئے قدیم ترین سمجھے جانے والے ایک مرکز کے قریب ملا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ پتھر کے زمانے کے اس کمپلیکس کو، جس کی کھدائی گذشہ سال ہوئی، مذہبی تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
قدیم شکاری جانوروں کو جمع کر کے یہاں رکھتے تھے۔ یہاں سے تراشے ہوئے پتھر، قربان گاہ اور شکاری جال کا ایک بڑا ماڈل ملا ہے۔
یہ ماڈل ’صحرائی پتنگوں‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ بھاگتے جانورں کا پیچھا کر کے انہیں ان دیواروں کے درمیان لایا جاتا تھا تاکہ وہ قید ہو سکیں اور پھر انہیں ذبح کیا جا سکے۔
کئی کلومیٹر لمبی ’صحرائی پتنگیں‘ سعودی عرب، شام، ترکی اور قازقستان کے صحراؤں میں بھی ملی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنوب مشرق بدیہ آرکیولاجیکل پراجیکٹ پر کام کرنے والی اردن اور فرانس کی مشترکہ ٹیم نے یہ کمپلیکس گذشتہ سال اکتوبر میں دریافت کیا۔
ٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ جبل الخشابیہ میں صحرائی پتنگیں ’اب تک کے دریافت کردہ انسانوں کے بنائے ہوئے سب سے بڑے ڈھانچے ہیں۔‘
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دریافت ’پتھر کے زمانے کی نامعلوم آبادیوں کی علامت ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کے ساتھ ساتھ روحانی ثقافت پر نئی روشنی ڈالتی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ اس جگہ پر شکاری جالوں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے باشندے خصوصی شکاری تھے اور یہ جگہیں ان کی ثقافتی، معاشی اور یہاں تک کہ علامتی زندگی کا مرکز تھیں۔