روہڑی: محرم کے جلوس میں بھگدڑ سے چھ اموات، 50 زخمی

روہڑی میں سرکاری ہسپتال کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ محرم کے جلوس میں بھگدڑ مچنے سے 60 افراد زخمی اور 40 بے ہوش بھی ہوئے۔

کراچی میں یکم اکتوبر، 2017 کو 10 محرم کا جلوس جا رہا ہے (اے ایف پی)

سندھ کے شہر روہڑی میں سرکاری ہسپتال کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ پیر کی صبح محرم کے جلوس میں بھگدڑ مچنے سے چھ افراد کی اموات جبکہ 60 افراد زخمی اور 40 بے ہوش ہو گئے۔

روہڑی میں گذشتہ کئی دہائیوں سے تاریخی اور قدیم ضریح اقدس کا ماتمی جلوس روایتی طور پر برآمد ہوتا ہے۔

یہ جلوس امام بارگاہ کربلا معلی سے آٹھ محرم کو برآمد ہوتا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔

جلوس تین دن تک مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا روہڑی ریلوے سٹیشن کے قریب شہدا قبرستان میں 10 محرم کی دوپہر ختم ہوتا ہے۔

روہڑی پریس کلب کے صدر مجاہد بزدار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین شریک ہوتے ہیں۔

جلوس کے راستوں پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں تاہم جلوس کے اندر انتظامات ماتمی پرمٹ ہولڈرز اور سکاؤٹس کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماتمی جلوس میں بعض اوقات دھکم پیل کی وجہ سے بیشتر شرکا زخمی ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نو محرم کی صبح جہاں واقعہ پیش آیا اس گلی میں بمشکل 500 افراد سما سکتے ہیں، یہاں زیادہ لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔

تعلقہ ہسپتال روہڑی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ صلاح الدین اجن کے مطابق واقعے کے بعد چھ افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا جبکہ 40 افراد حبس کے باعث بے ہوش ہوئے جنھیں طبی امداد دے دی گئی، اسی طرح 50 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی ایچ او سکھر ڈاکٹر جمیل کے مطابق واقعے کے بعد سول ہسپتال، سکھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ایک زخمی علی رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جلوس میں حبس بہت زیادہ تھا اور وہ رات سے ہی اسی جگہ کے قریب موجود تھے تاکہ تازیے کو کندھا دے سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ شمع گل کی رسم ادا کرتے وقت تمام راستوں کی  بجلی بند کر دی گئی جس کے بعد اندھیرے میں دھکم پیل کے باعث واقعہ پیش آیا۔

’میں کافی دیر تک کھڑا چیختا رہا کہ بچاؤ مگر دھکم پیل کے باعث میری کسی نے نہیں سنی۔ بعد میں جب ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھا۔‘

ایدھی سکھر سینٹر انچارج گل مہر کے مطابق واقعے کے بعد بھگڈر مچ گئی تو جلوس کی سکیورٹی پر مامور سکاؤٹس اور دیگر امدادی رضاکاروں نے بمشکل حالات پر قابو پایا اور لاشوں اور زخمیوں کو روہڑی اور سکھر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا۔

ڈپٹی کمشنر سکھر ڈاکٹر جاوید احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محرم کے جلوسوں کے حوالے سے تمام ادارے الرٹ ہیں۔

انہوں نے کہا: ’صبح کا افسوس ناک واقعہ موسمی اثرات اور زائرین کی دھکم پیل کے باعث پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد شہری دفاع اور دیگر رضاکاروں کو مزید بہتر انداز میں کام کا کہا گیا ہے جبکہ ماتمی جلوس کی گزر گاہوں میں 50 بڑے پنکھے لگائے گئے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان