مون سون کی بارشوں اور سیلاب کے باعث صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع سے صوبائی دارالحکومت کراچی پہنچ کر سرکاری عمارتوں میں پناہ لینے والے سیلاب متاثرین نے ریلیف کیمپوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ ان کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی شکایات کی ہیں۔
سیلاب کے بعد صوبائی دارالحکومت کے علاقوں بشمول سچل گوٹھ، گلشن معمار، گلشن حدید وغیرہ میں موجود سرکاری عمارتوں میں متاثرین سیلاب کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
جیکب آباد کی تحصیل ٹھُل کے رہائشی مشتاق احمد جمالی کا خاندان نے سچل گوٹھ کے نیو گرامر گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول میں قائم کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔
مشتاق احمد جمالی کا کہنا تھا کہ انہیں کیمپوں میں ہر چیز کے ملنے کی یقین دہانئی کرائی گئی تھی، لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں 86 سالہ مشتاق جمالی نے کہا: ’یہاں تو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ چند روز پہلے تک ناشتہ دیا جاتا تھا، اب وہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مذہبی جماعت کے لوگ چاول اور رات کا کھانا دیتے ہیں، ضلعی حکومت کی جانب سے متاثرین کو کھانا نہیں دیا جاتا۔ پہلے یہاں میڈیکل کیمپ تھا، جو اب بند کر دیا گیا ہے۔
مشتاق احمد نے شکایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ کیمپ میں قیدیوں جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور یہاں سے کسی دوسری جگہ جا بھی نہیں سکتے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمارے گاؤں میں سیلاب کا پانی موجود ہے، مگر اب ہم کیمپ میں تنگ آچکے ہیں، واپس جانا چاہتے ہیں۔‘
مشتاق جمالی نے واپسی کے کرایہ کے لیے ڈپٹی کمشنر شرقی سے درخواست کر رکھی ہے، تاہم ابھی تک انہیں جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیمپ میں بنیادی ضرورتوں کے فقدان کے باعث ان کے خاندان کے 24 افراد میں سے بعض دوائیاں خریدنے کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مشتاق جمالی نے بتایا کہ دو روز قبل ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے کیمپ میں مقیم لوگوں کی فہرست تیار کی ہے، اور بتایا جا رہا ہے کہ یہاں سے کئی ایک خاندانوں کو زبردستی نکالا جائے گا۔
’ضلعی انتظامیہ کے رویے سے تنگ آکر اس کیمپ سے 20 خاندان خود سے ہی واپس چلے گئے ہیں۔‘
حال ہی میں سندھ حکومت نے مختلف اضلاع کے سرکاری سکولوں میں قائم ریلیف کیمپوں سے سیلاب متاثرین کو’ٹینٹ سٹیز‘ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم کراچی کے کئی سرکاری تعلیمی ادارے ابھی تک متاثرہ خاندانوں سے بھرے پڑے ہیں۔
اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر کراچی شرقی راجہ طارق حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ کسی کو کیمپوں سے بے دخل نہیں کیا جا رہا، بلکہ اب متاثرین کو ٹینٹ سٹیز میں منتقل کیا جائے گا تاکہ وہاں تمام سہولیات میسر کی جا سکیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راجہ طارق حسین کے مطابق: ’میں خود کیمپ میں جا کر سہولیات کا جائزہ لیتا ہوں۔ کراچی کا ٹینٹ سٹی ملیر ضلع میں بنایا گیا ہے۔ ڈی سی ملیر کا گرین سگنل ملتے ہی انہیں وہاں بھیج دیا جائے گا۔‘
عارضی کیمپوں میں خوراک کی کمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کیمپوں میں کھانا دینے کے لیے ایک مذہبی جماعت کی خدمات حاصل کی ہیں اور دنیا میں قدرتی آفات کی صورت میں غیر سرکاری تنظیموں سے مدد لینا نئی بات نہیں ہے۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں دو اکتوبر تک 73 لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے چار لاکھ سے زیادہ کو ضلعی حکومت، پی ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) کے قائم کردہ تقریبا تین ہزار عارضی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلی سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سندھ حکومت کے زیر انتظام قائم کیمپوں میں سہولتوں کی کمی کی تردید کرتے ہوئے بعض متاثرین کے واپس جانے کی بڑی وجہ ان کے علاقوں میں سیلابی پانی کے اترنے کو قرار دیا۔
ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’کیمپوں سے انخلا کی دوسری وجہ یہ ہے کہ متاثرین کے مویشی بڑی تعداد میں ابھی تک ان کے علاقوں میں موجود ہیں، اور یہ لوگ ان جانوروں کو بچانے کے لیے واپس جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کراچی سے 25 خاندان واپس جانا چاہتے تھے تو ڈپٹی کمشنر نے ان کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کروایا تاکہ وہ آسانی سے اپنے علاقوں تک پہنچ سکیں۔
عبدالرشید چنا کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں سیلاب متاثرین کے لیے بنائے گئے ٹینٹ سٹی میں آٹھ ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش موجود ہے، اور جلد ہی سرکاری سکولوں اور دیگر عمارتوں میں رہنے والوں کو ٹینٹ سٹی منتقل کر دیا جائے گا۔
پیر کو وزیر اعلی ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا صوبے کے مختلف اضلاع میں سیلابی پانی 30 سے 60 فیصد تک نکال دیا گیا ہے۔