لڑکوں کی اکیڈمی سے فٹ بال سیکھنے والی کشمیری لڑکی

23 سالہ خولہ راجہ کو بچپن میں خواہش کے باوجود فٹ بال سیکھنے کا موقع نہیں ملا مگر اب وہ مظفرآباد میں اکیڈمی کھولنا چاہتی ہیں تاکہ نوجوان لڑکیوں کو فٹ بال کھیلنے اور سیکھنے کے لیے محفوظ ماحول میسر ہو۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد کی خولہ راجہ خود تو پروفیشنل فٹ بالر نہیں بن سکیں مگر اب وہ اپنے جیسی دوسری لڑکیوں کے لیے وہ راستے ہموار کر رہی ہیں جن پر چل کر وہ فٹ بال کھیلنے کا خواب پورا کر سکتی ہیں۔

23 سالہ خولہ پیشے کے لحاظ سے انجنییئر ہیں اور ساتھ ہی وہ مظفرآباد کے سرکاری سکولوں کی بچیوں کو فٹ بال سکھانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ امریکی سفارت خانے کے تعاون سے جاری اس منصوبے میں اب تک 50 بچیوں کو فٹ بال کی ابتدائی تربیت دی گئی ہے اور ان کی ایک فٹ بال لیگ بھی منعقد ہو چکی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خولہ نے بتایا کہ وہ بچپن میں فٹ بال کھیلنا چاہتی تھیں مگر شہر میں اس طرح کی کوئی اکیڈمی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا شوق پورا نہ کر سکیں۔

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے انجینیئرنگ کی تعلیم کے دوران انہوں نے فٹ بال سیکھنا شروع کیا۔ لڑکیوں کی کوئی فٹ بال اکیڈمی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ابتدائی تربیت لڑکوں کے ساتھ  ہی کھیل کر حاصل کی۔

انہوں نے بتایا: ’ابتدائی طور پر جب میں اسلام آباد میں لڑکیوں کے فٹ بال کلب ڈھونڈنے لگی تو مجھے اتنا پتہ نہیں تھا اور مجھے لڑکیوں کے لیے فٹ بال کی کوئی اکیڈمی ملی نہیں۔ ایک نائیجیرین کوچ ہوتے تھے، جن کا سیکٹر ایف 10 کے علاقے میں کلب تھا۔ میں نے ان سے درخواست کی۔ پہلے تو وہ مجھے نہیں رکھ رہے تھے، کیونکہ وہاں وہ سارے لڑکوں کو فٹ بال سکھاتے تھے، تاہم میرے شوق کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وہاں مجھے رکھ لیا۔ وہاں میں نے کچھ عرصہ سیکھا مگر لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں تھوڑی ہچکچاہٹ تھی، جس کے بعد میں نے لڑکیوں کا ایک کلب جوائن کر لیا۔‘

وہ کہتی ہیں: ’فٹ بال کو ہمارے معاشرے میں مردوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس لڑکیوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں، جہاں وہ فٹ بال سیکھ سکیں۔ جب میں نے فٹ بال سیکھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میری عمر کی جو لڑکیاں ہیں، وہ اس کھیل میں کافی اچھی ہیں کیونکہ انہوں نے کم عمری میں ہی فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ کوئی بھی کھیل، خاص طور پر فٹ بال کھیلنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ کم عمری میں آپ جو بھی کھیل کھیلنا شروع کریں گے، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں آپ کی مہارت بڑھ جاتی ہے۔‘

اپنے منصوبے کے دوران خولہ راجہ نے مظفرآباد کے سرکاری سکولوں سے 50 لڑکیوں کو منتخب کرکے انہیں فٹ بال کی تربیت دی اور پہلی مرتبہ مظفرآباد میں ویمن فٹ بال لیگ کا انعقاد کروایا۔

انہوں نے بتایا: ’دو ہفتے میں بچیاں جتنا سیکھ سکتی تھیں انہوں نے سیکھا اور پھر کشمیر میں پہلی بار ویمن فٹ بال لیگ ہوئی ہے، پانچ سکولوں نے اس فٹ بال لیگ میں حصہ لیا۔ ہمارا یہی ارادہ ہے کہ ہم مظفرآباد میں لڑکیوں کے لیے فٹ بال کی پہلی اکیڈمی بنائیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ میرا پراجیکٹ ختم ہو اور لڑکیوں کو مزید آگے کھیلنے کا کوئی پلیٹ فارم نہ ملے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خولہ راجہ کے بقول کشمیر کی لڑکیوں اور خواتین میں فٹ بال کا اتنا ہی ٹیلنٹ ہے جتنا پاکستان کے کسی دوسرے علاقے میں ہیں۔ صرف مواقع نہ ہونے کہ وجہ سے یہ خواتین آگے نہیں آ سکتیں۔

’آپ دیکھیں گے کہ ہماری فٹ بال کی قومی ٹیم میں آدھے سے زیادہ لڑکیاں گلگت بلتستان کی ہیں۔۔۔اگر گلگت بلتستان کی لڑکیاں قومی ٹیم تک جا سکتی ہیں تو کشمیر کی لڑکیاں کیوں نہیں؟‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میرے مدنظر صرف یہ بات تھی کہ جو مواقع مجھے بچپن میں نہیں مل سکے، کشمیر کی باقی لڑکیوں کو وہ مواقع ملیں تاکہ وہ کشمیر کی نمائندگی قومی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر کر سکیں۔ میں چاہتی ہوں کہ کشمیر سے ایک پوری ٹیم آئے اور نیشنل چیمپیئن شپ میں حصہ لے۔‘

خولہ نے بتایا کہ مظفرآباد میں والدین تب تک اپنی بچیوں کو بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک ہم انہیں ضمانت نہ دے دیں کہ ان کی بچیاں ایک محفوظ ماحول میں کھیلتی ہیں۔

’لڑکوں کے لیے بہت آسان ہے کہ جب ان کا دل چاہتا ہے وہ گھر سے باہر جاتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔ میرا یہ مقصد ہے کہ میں اپنے اس منصوبے کے ذریعے والدین کو یہ یقین دلا سکوں کہ ان کی بچیوں کو ایک محفوظ ماحول ملے گا۔‘

انہوں نے کشمیر کی حکومت سے بھی درخواست کی کہ وہ یہاں فٹ بال کے فروغ کے لیے کوئی ایسا گراؤنڈ مقرر کریں یا کوئی وقت مقرر کردیں جہاں لڑکیاں آئیں اور کھیل سکیں۔ ساتھ ہی ان کے لیے مناسب کوچنگ کا اہتمام بھی ہو تاکہ مستقبل میں کشمیر کی اپنی لڑکیوں کی فٹ بال ٹیم ہو۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال