گورنر کے پی نے انتخابات کی باضابطہ تاریخ تجویز نہیں کی: الیکشن کمیشن

خیبرپختونخوا کے گورنر غلام علی نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینے کی جو ہماری ذمہ داری تھی اس پر عمل کرتے ہوئے ہم نے 28 مئی کی تاریخ دے دی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کی (سکریب گریب)

خیبر پختونخوا کے گورنر غلام علی نے منگل کو صوبے میں انتخابات کے لیے 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر کوئی تاریخ تجویز نہیں کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا غلام علی کا کہنا تھا کہ ان کی الیکشن کمیشن سے مشاورت ہوئی، جس میں انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے اپنے خدشات بیان کر دیے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارا بنیادی مسئلہ امن و امان کا تھا۔ لکی مروت، ٹانک اور چارسدہ میں گذشتہ روز بھی پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔‘

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا جو ہم سب کے مدنظر ہے اور آئینی طور پر سب سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’امن و امان کے حوالے سے ہمارے خدشات اب بھی موجود ہیں لیکن انتخابات کی تاریخ دینے کی جو ہماری ذمہ داری تھی اس پر عمل کرتے ہوئے ہم نے 28 مئی کی تاریخ دے دی۔‘

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے یکم مارچ کو فیصلہ دیا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ صدر پاکستان اور گورنر خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔

اس سے قبل پنجاب میں عام انتخابات کے لیے 30 اپریل کی تاریخ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

الیکشن کمیشن نے صدر پاکستان کو پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے دو تاریخیں تجویز کی تھیں جس پر صدر عارف علوی نے 30 اپریل کی تاریخ کی منظوری دی تھی۔

’باضابطہ تاریخ نہیں دی گئی‘

بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج چیف سیکرٹری پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا اور وزارت دفاع کے ساتھ تین الگ الگ اجلاس ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ سیکشن 144 قانون کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا اختیار ہے، کمیشن کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘

وزارت دفاع کی جانب سے کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) مہیا کرنے سے متعلق سوال پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’وزارت دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر ممکن ہے کہ کیو آر ایف بھی نہ دے سکیں۔‘

پی ٹی آئی کی جانب سے ریٹرننگ آفیسرز عدلیہ سے لینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے رابطہ بھی کیا جا چکا ہے لیکن انہوں نے معذرت کی ہے۔

’چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے تحریری معذرت کی جس کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’گورنر خیبر پختونخوا نے میڈیا سے جو بات کی اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کی تاہم انہوں نے باضابطہ طور پر کوئی تاریخ تجویز نہیں کی۔ تاریخ تجویز کرنے کے لیے انہیں تحریری طور پر لکھیں گے تاکہ وہ تحریری طور پر ہمیں جواب دے سکیں۔‘

صوبوں میں انتخابات کی تاریخ کے معاملہ پر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ صدر مملکت کو تاریخیں تجویز کیں جس کے بعد انہوں نے تاریخ کا انتخاب کیا۔ تاہم گورنر کے معاملہ میں آئینی طور پر ’نہ وہ ہم سے مشاورت کر سکتے ہیں اور نہ ہم ان سے مشاورت کر سکتے ہیں۔‘

’چونکہ سپریم کورٹ کے احکامات ہیں اسی لیے ہم نے ان سے مشاورت کی، اگر احکامات نہ ہوتے تو ہم مشاورت نہ کرتے۔ ‘

’الیکشن کمیشن کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں‘

انتخابات میں سکیورٹی خدشات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں فرق ہوتا ہے۔ ایک طرف الیکشن کروانا آئینی و قانونی ذمہ داری ہے لیکن دوسری طرف آئین پاکستان کے آرٹیکل 218 کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ الیکشن صاف، شفاف اور پر امن ہوں۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’کمیشن اس بات پر کچھ پریشان ہے کہ اب جب نگراں حکومتیں ہیں تو اس صورت حال میں وفاقی حکومت کی موجودگی میں کچھ نہ کچھ ان کا اثر و رسوخ ہوگا۔ کل جب صوبوں میں مستقل حکومتیں آ جائیں گی اور وہاں پر الیکشن ہوں، اس کے لیے کچھ لوازمات بھی ضروری ہیں۔‘

’کیا ہم ان حکومتوں کو معطل کریں؟ ہم نے لوکل گورنمنٹ معطل کی جو عدالت نے بحال کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں۔‘

کسی بھی وجہ سے انتخابات وقت پر نہ ہونے کی صورت سے متعلق سوال پر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 218 یہ گنجائش دیتا ہے کہ جب غیر معمولی حالات ہوں تو الیکشن کمیشن پھر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے اور سپریم کورٹ بھی ہدایت کر سکتا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست