پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے ایشیا کپ کا انعقاد اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
انڈیا کے پاکستان آنے سے انکار کے بعد پی سی بی نے ہائبرڈ ماڈل پیش کیا تھا جس کے تحت انڈیا اپنے تمام میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلتا جبکہ بقیہ ٹورنامنٹ پاکستان میں کھیلا جاتا، لیکن پی سی بی کی اس تجویز کو سری لنکا اور بنگلہ دیش نے بھی مسترد کر دیا ہے۔
سری لنکا کا موقف ہے کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں خلیجی ملک میں شدید گرمی ہوگی، اس لیے کھیلنا ناممکن ہے۔
دوسری طرف پی سی بی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک اس ہائبرڈ ماڈل سے اتفاق کرچکے ہیں اور کھیلنے پر کوئی اختلاف نہیں ہے، تاہم ایسی یقین دہانیاں ایشین کرکٹ کونسل کو متاثر نہیں کرسکی ہیں۔
سری لنکا کا موقف اس لحاظ سے مضحکہ خیز ہے کہ انہی ایام میں گذشتہ سال ایشیا کپ منعقد ہوا تھا اور تمام ٹیموں نے بلا کسی عذر کے اس میں حصہ لیا تھا تاہم یہ ٹورنامنٹ بیس اوورز کا تھا جبکہ اس سال ایشیا کپ پچاس اوورز کا ہونا ہے۔
سری لنکا نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان ایشیا کپ کا میزبان رہے لیکن میچز سری لنکا میں کھیلے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کی تجویز
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھ تناؤ کی کیفیت کے پیش نظر تجویز دی تھی کہ انڈیا کے میچ عرب امارات میں کھیلے جاسکتے ہیں۔ انڈیا نے چند ماہ قبل واضح طور پر اعلان کر دیا تھا کہ ٹیم کسی بھی صورت میں پاکستان نہیں جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس اعلان کے بعد پی سی بی نے اگرچہ کچھ سخت بیان دیئے تھے لیکن پھر پسپائی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی تجویز پیش کی تھی اور توقع تھی کہ وہ قابل قبول ہوگی تاہم ایسا نہ ہوسکا۔
گذشتہ سال ایشیا کپ انڈیا کی میزبانی میں ہی متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ انڈیا اس سال کے لیے وہاں رضامند نہیں ہے۔
سری لنکا کا موقف
سری لنکن بورڈ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے کرکٹ ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایشیا کپ پاکستان کے ماڈل کے مطابق ہو تو ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ لاجسٹک مسائل کو حل کرسکیں کیونکہ ٹیم کے ساتھ بہت سے اضافی افراد بھی ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش بھی اس معاملے پر پاکستان کے ماڈل سے متفق نہیں ہے اور اس نے اس مقابلے کو ایک ہی ملک میں کرانے کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کی دھمکی
پی سی بی کے حکام اس صورت حال میں خاصے برہم ہیں اور ایشیا کرکٹ کونسل کے اجلاس میں واضح کردیا ہے کہ اگر ٹورنامنٹ پاکستان سے کہیں اور منتقل کیا گیا تو پاکستان بائیکاٹ کرے گا۔
پی سی بی کے نمائندوں نے منگل کو دبئی میں ایشین کرکٹ کونسل کے حکام سےملاقات کی ہے اور لاجسٹک مسائل کے لیے حل پیش کیا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ پاکستان ایشیا کپ کے حقوق اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اور رکن ممالک کو اس حق کا احترام کرنا چاہیے۔
پاکستان کی بائیکاٹ کی دھمکی اگرچہ کسی سرکاری اعلامیے میں نہیں کی گئی ہے لیکن پاکستان کے پاس اس کا آپشن موجود ہے۔ پاکستان کا کوئی ایسا قدم اس کی مشکلات کو مزید بڑھا دے گا اور پاکستان، جس کے کرکٹ شیڈول پہلے ہی اس سال کوئی زیادہ نہیں ہیں، اس میں مزید ایک ٹورنامنٹ کی کمی ہوجائے گی۔
آئی سی سی کی غیرجانبداری
پی سی بی نے اگرچہ اس مسئلے کے حل کے لیے آئی سی سی کی مدد طلب کی تھی لیکن آئی سی سی نے ایشیا کپ کے تنازع میں پڑنے سے معذرت کر لی ہے کیونکہ آئی سی سی کے لیے ایشیا کپ ایک الگ آرگنائزیشن کا مسئلہ ہے اور وہ ورلڈ کپ سے قبل کسی ایسے تنازعے کا حصہ نہیں بننا چاہتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کے باوجود سری لنکا اور بنگلہ دیش نے اس کے موقف کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جبکہ تیسرے اہم رکن افغانستان نے فی الحال چپ سادھ رکھی ہے۔
پاکستان کے لیے افغانستان کی خاموشی بھی تکلیف دہ ہے اور کونسل کے اجلاس میں تنہا رہ جانے کا قلق ہے۔
آئی سی سی کا نیا فنانشل ماڈل
آئی سی سی نے اپنے نئے فنانشل ماڈل کی تصدیق کردی ہے جس میں انڈیا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا ہے۔ نئے منصوبے کے مطابق انڈیا اگلے چار سال میں 230 ملین ڈالر سالانہ حاصل کرے گا جبکہ انگلینڈ 41 ملین اور آسٹریلیا 37 ملین ڈالر لے سکے گا۔
پاکستان کو 34 ملین ڈالر سالانہ ملیں گے۔
خدشہ ہے کہ آئی سی سی کے نئے فنانشل ماڈل سے انڈیا کی بالادستی مزید بڑھ جائے گی اور دوسرے ایشیائی ممالک کے لیے اب مستقبل میں مزید انڈیا کی طرف دیکھنا پڑے گا۔