جانتا ہوں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا رہے ہیں: عمران خان

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقعے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ بجٹ کے اعداد و شمار میچ نہیں کر رہے۔ قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان (دائیں) 12 جون 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے وکلا کے ہمراہ موجود (تصویر: پی ٹی آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائے جا رہے ہیں تاہم وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر تین میں پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا رہے ہیں۔‘

اپنی پیشیوں پر انہوں نے کہا کہ ’ہر کرائسز میں مواقع ہوتے ہیں، میرے لیے یہ کوئی اتنا بڑا کرائسز نہیں ہے، جس طرح کا ظلم کیا جا رہا اس کا مقبوضہ کشمیر میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا کی جمہوریت میں کہاں ملٹری کورٹس ہوتی ہیں جہاں سمری ٹرائل ہو۔‘

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’انشااللہ دوبارہ آیا تو سب سے پہلے جسٹس سسٹم کو  ٹھیک کروں گا۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’نواز شریف نے بھی احتساب عدالت میں یہی کہا تھا کہ دوبارہ اقتدار ملا تو نظام انصاف درست کروں گا؟‘ اس پر انہوں نے کہا: ’نواز شریف کو اپنا پیسہ ملک واپس لانا چاہیے تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے دور حکومت میں ان کا پیسہ وطن واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کی تو اس پر  انہوں نے جواب نہیں دیا اور صرف اتنا کہا کہ ’میں کچھ اور بات کر رہا ہوں۔‘

اس سے قبل پیر ہی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کو ’بے اختیار‘ قرار دیتے کہا ہے کہ ’ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ میں ان کے پاس کیا بیٹھوں۔‘

اس دوران نہ صرف انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پر ان کی ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کا الزام عائد کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ انہوں نے کسی سے ’غداری‘ نہیں کی ہے بلکہ ان سے ’غداری‘ ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ ’جو بھی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ویگو ڈالا پہنچ جاتا ہے۔‘

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے واضح کیا ہے کہ مذکرات وزیراعظم شہباز شریف سے ہوں گے، لیکن آپ کیوں اسٹیبلشمنٹ کو درمیان میں لاتے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا: ’اصل طاقت اور فیصلہ ساز تو اسٹیبلشمنٹ ہے۔ ان حکمرانوں کے پاس کوئی اختیار نہیں، ان کے پاس کیا بیٹھوں۔ فیصلہ ساز تو وہ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف کمشنر کو عمران خان کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، لہذا تحریری حکم نامہ لینے کے لیے پی ٹی آئی چیئرمین کمرہ عدالت کے اندر ہی بیٹھے رہے۔

سماعت کے بعد وکلا بھی عمران خان کی قریبی نشست پر آ گئے۔ ایک خاتون وکیل نے ان سے کہا کہ ’خان صاحب مسکرائیں، آپ کی مسکراہٹ ہی ہمارے لیے امید ہے۔‘

جس پر پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا: ’کیا آپ کو لگ رہا ہے کہ میں کسی پریشر میں ہوں؟‘

’قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے‘

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بجٹ کے اعداد و شمار میچ نہیں کر رہے۔ قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے جو بجٹ دیا ہے اس کو آگے کون چلائے گا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ ملک کا دیوالیہ نکل گیا۔ انڈسٹری تباہ ہوگئی۔ ملک کی آمدنی بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ ایکسپورٹس 13 فیصد نیچے گر گئیں۔ ڈالر کم ہوگئے ہیں۔ جو طاقتیں بیٹھی ہیں ان سے پوچھتا ہوں ٹھیک ہے آپ نے مجھے باہر کردیا لیکن کیا یہ حل ہے؟ ملک کو کون اس دلدل سے نکالے گا ؟ آگے ان کا پلان کیا ہے؟‘

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ’میری بہن کے اوپر چھ ارب روپے کی زمین کا الزام ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ صحافی وہاں جا کر خود دیکھیں اور اس کی قیمت کا تخمینہ لگائیں۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ ’ساری پالیسی سارے اداروں کا ایک ایجنڈا ہے عمران خان کو باہر کرنا ہے۔ پلان تو واضح ہو گیا کہ یہ ایک نئی پارٹی بن گئی۔ یہ سب وہ کر رہے ہیں جن کو پتہ ہے ان کو کوئی پکڑے گا نہیں۔‘

’ن لیگ پر بڑا افسوس ہو رہا ہے ان کی سیٹیں تو کم ہو جائیں گی۔ پی ڈی ایم کا ووٹ بینک کم ہے اس لیے یہ الیکشن میں نہیں جا رہے۔ عمران خان جیل میں بھی چلا جائے تو جیتے گی پارٹی۔ کیونکہ کسی کو وہ نہیں پتہ جو مجھے پتہ ہے۔ شکر ہے ہمیں الیکٹیبلز سے چھٹکارا مل گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں باجوہ کو ڈی نوٹی فائی کر سکتا تھا۔ تین دفعہ اسے خوف تھا ڈی نوٹی فائی کر دوں گا۔ ارشد شریف کے کیس میں جے آئی ٹی سے تعاون کروں گا۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں آگیا تو عمران خان بدلے لے گا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ انہوں نے سب کو معاف کیا۔ میں اپنی ذات کے لیے نہیں۔ میں رول آف لا قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔‘ 

عمران خان نے اپنے کارکنوں کی ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا کارکن اب بھی کھڑا ہے۔ نو مئی سے کس کو فائدہ ہوا ہے، آخر کسی کو تو فائدہ ہوا ہے ناں؟ جس کو سب سے زیادہ نو مئی سے فائدہ ہوا، وہی نو مئی کے واقعے میں ملوث تھا۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کی عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سماعت سیشن عدالت سے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی درخواست پر سماعت کی، جہاں وکیل علی ظفر عدالت عالیہ کو بتایا کہ ’ہم نے سیشن عدالت منتقلی کی درخواست دائر کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے کمشنر کو درخواست دی ہے؟ تو وکیل نے بتایا کہ ’جی ہم نے کمشنر کو درخواست دی ہے، لیکن وہ زیرالتوا ہے۔ وقت کم ہے، آج ہی ہم نے ضمانت کی درخواستیں دائر کرنی ہے۔ ہم نے درخواست دی تو یہ نہ ہو وہ عدالت کی منتقلی نہ کریں۔‘

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہائی کورٹ ازخود عدالت منتقل نہیں کر سکتی، یہ چیف کمشنر نے کرنا ہے۔ ہم ابھی آرڈر کر دیتے ہیں، وہ کریں گے۔ آپ چیف کمشنر کو درخواست دیں، ہم آرڈر کر دیتے ہیں کہ درخواست پر جلدی فیصلہ کیا جائے۔ عدالت کہہ دیتی ہے، وہ کر دیں گے۔‘

عدالت نے زبانی حکم نامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کے وکلا آج چیف کمشنر کو درخواست دیں گے۔ چیف کمشنر اس حوالے سے درخواست پر آج ہی فیصلہ کریں گے۔‘

معزز جج نے مزید کہا کہ ’ابھی یہ درخواست نمٹا رہے ہیں۔ آپ کی درخواست پر آپ کے خلاف فیصلہ آئے تو دوبارہ آج ہی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔‘

بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگذیب نے نو  مقدمات میں عمران خان کی درخواستوں پر سماعت اور سیشن کورٹ کو جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی جوڈیشل کمپلیکس روانہ، اس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی پولیس لائن انویسٹیگیشن جوائن کرنے بھی جائیں گے۔

عمران خان کی درخواست میں کیا تھا؟

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 10 جون کو سیشن کورٹ ایک روز کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے آج درخواست سماعت کے لیے مقرر کی۔

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’ہائی کورٹ نے گذشتہ ہفتے نو مقدمات میں 12 جون تک حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سکیورٹی خدشات پر اس سے قبل بھی ایک روز کے لیے سیشن عدالت جوڈیشل کمپلیکس منتقل ہوئی تھی۔ ابھی تک اسلام آباد کچہری سیکٹر ایف ایٹ سے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل نہیں سکی۔‘

درخواست میں عمران خان کی جانب سے موقف اپنایا گیا تھا کہ ’سکیورٹی خدشات کے باعث ایف ایٹ کچہری میں پیش نہیں ہو سکتا۔ نو مئی سے متعلق چھ مقدمات اور ایک توشہ خانہ جعل سازی کے مقدمے میں  سیشن کورٹ سے رجوع کرنا ہے، لہذا سیشن کورٹ کو ایک روز کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی ہدایت جاری کی جائے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست