کراچی: مویشی منڈی جہاں بیوپاری اور خریدار دونوں خواتین

منڈی کی منتظم رقیہ فرید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مویشی منڈی فیملیز بالخصوص خواتین خریداروں کی سہولت کے لیے لگائی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی تردد کے یہاں خریداری کے لیے آ سکیں۔

خواتین کے لیے کراچی میں پہلی بار ایسی مویشی منڈی لگائی گئی ہے جہاں خریدار بھی خواتین اور بیوپاری بھی خواتین ہیں۔

منڈی کی منتظم رقیہ فرید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مویشی منڈی فیملیز بالخصوص خواتین خریداروں کی سہولت کے لیے لگائی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی تردد کے یہاں خریداری کے لیے آ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مویشی منڈی بالخصوص ان خواتین کے لیے ہے جن کے گھروں میں کوئی مرد نہیں یا ان کے مرد بیرون ملک کاموں کے سلسلے میں مقیم ہیں اور وہ عام منڈی جانے سے کتراتی ہیں۔

رقیہ کے مطابق اس منڈی کے لیے انہیں حکومت اور مقامی انتظامیہ کا تعاون حاصل ہے۔

مویشیوں کی بیوپاری حمیرہ یہاں اپنے بکرے لے کر آئیں جن میں سے اب تک انہوں  نے سات بکرے اچھے داموں فروخت کر دیے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کو انہوں نے بتایا کہ ’پہلے گھر سے بیٹھ کر جانور فروخت کرنے میں اچھے خاصے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ماضی میں کسی اور شخص کا سہارا لیتے ہوئے بھی جانوروں کو فروخت کروایا جس میں منافعے کا حصہ بھی تقسیم کرنا پڑ جاتا تھا۔‘

حمیرہ کا کہنا تھا کہ مجھے صرف پلیٹ فارم چاہیے تھا جو اس منی مویشی منڈی کے ذریعے ملا تو اب خود سے جانور فروخت کر کے دل مطمئن ہے۔

خریدار خاتون مریم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے گھرکے مردوں کا پورا گروپ مویشی منڈی جاتا تھا اور خواتین اپنی پسند کا جانور دیکھنے اور خریدنے سے محروم رہ جاتی تھیں۔ اس منڈی نے یہ تفریق ختم کر دی اور اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لڑکیاں مویشی منڈی نہیں جائیں گی۔‘

خریدار خاتون غوثیہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر چونکہ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں اس لیے انہوں نے ’مجھے اجازت دی کہ میں خود آ کر مویشی خریدوں۔ آج اپنی بیٹیوں کے ساتھ آئی ہوں اور یہاں سے جانور لے کر ہی گھر جاؤں گی۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا