پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں، تحقیقات کی جائیں: کراچی پریس کلب

کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے حالیہ دورے کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم  کی حقیقت چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

کراچی پریس کلب کی عمارت کا ایک منظر (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کی اہم صحافتی تنظیموں کی نمائندگی کرنے والی کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے چند پاکستانی صحافیوں کے اسرائیل کے حالیہ دورے کی مذمت کرتے ہوئے اس دورے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی  کی صدارت میں  مشترکہ ایکشن کمیٹی  کے اجلاس نے کہا ہے کہ ایسے وقت جب فلسطینیوں کے خلاف جاری وحشیانہ جارحیت جاری ہو اور اس جارحیت سے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہو، پاکستانی صحافیوں کے وفد کے دورہ اسرائیل پر غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔

کراچی پریس کلب کے سیکرٹری محمد سہیل افضل خان کی جانب سے جاری بیان میں مشترکہ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اس وفد میں شامل افراد کے اسرائیل کے دورے کی فوری طور پر تحقیقات کی جائیں۔

بیان کے مطابق: ’پاکستانی شہریوں کے لیے اسرائیل کا سفر کرنے پر سرکاری پابندی عائد ہے۔ پاکستان کے قوانین اور خارجہ پالیسی کے مؤقف کی اس کھلی خلاف ورزی کی مکمل چھان بین ہونا چاہیے اور ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

واضح رہے اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ کے وسط میں 10 افراد پر مشتمل پاکستانیوں کے ایک وفد کو تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کروایا گیا۔

اسرائیل کا دورہ کرنے والے اس وفد میں صحافیوں اور محقیقین کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔

اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی صحافیوں کے وفد سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستانی پاسپورٹ پر واضح تحریر ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہے۔

’تکنیکی طور پر کوئی پاکستانی اس پاسپورٹ پر اسرائیل داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی داخل ہوتا ہے تو اس کے لیے خصوصی انتظامات اس متعلقہ ریاست کی جانب سے کیے گئے ہوں گے۔‘

 انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں دوہری شہریت رکھنے والوں نے اسرائیل کا دورہ کیا جس میں انہوں نے پاکستان پاسپورٹ پر سفر نہیں کیا بلکہ اپنی دوسری شہریت کو استعمال کیا۔‘

20  مارچ کو ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ اور حکومت پاکستان کو اس دورے کے بارے میں کوئی پیشگی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ہمارا اس دورے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں اس دورے کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے ذریعے ہی پتہ چلا، جو میرے خیال میں گذشتہ روز شائع ہوئی تھیں۔ ہمارے پاس معلومات کا یہی واحد ذریعہ ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان نے کہا کہ  ’اسرائیل کو تسلیم کرنے یا فلسطین یا اسرائیل کے سوال یا فلسطین یا عرب اسرائیل مسائل کے سوال پر پاکستان کے موقف میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

’ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور جب ہمارے پاس واضح تصویر ہو گی تو ہم اس پر تبصرہ کر سکیں گے۔'

کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے جارہ کردہ بیان میں کمیٹی نے واضح کیا کہ اس دورے میں شامل ہونے والے صحافی پاکستان کے وسیع تر میڈیا کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ یہ دورہ، جو اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجوں نے سچائی کو بے نقاب کرنے والے 150 سے زائد صحافیوں کو ہلاک کر دیا ہے، فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی میں معاونت کے مترادف ہے۔

بیان کے مطابق: 'ہم فلسطینی مسئلے کے حوالے سے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہیں اور کسی بھی ایسی کوشش کی مذمت کرتے ہیں جو نسل کشی میں ملوث حکومت کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرنے کی کوشش کرے، پاکستان کے صحافی ہمیشہ مظلوم لوگوں کی تکالیف کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہے ہیں، اور ہم ایسے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے جو اس یکجہتی کو کمزور کرے۔'

کمیٹی نے سچائی، انصاف اور مظلوموں کے حقوق کے لیے اپنی عہد بندی کا اعادہ کیا اور فلسطینی عوام کی آوازوں کی حمایت جاری رکھنے اور اسرائیل کے اقدامات کو جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مزاحمت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

مشترکہ ایکشن کمیٹی نے پاکستان کی تمام میڈیا تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف، سچائی اور انسانی حقوق کے اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور اسرائیل کے مظالم کو نارمل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان