پاکستان میں نگران حکومت کے آنے کے بعد ملک میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں پہلا ’بڑا‘ اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 290 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بیان فنانس ڈویژن کی جانب سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد پاکستان میں بھی قیمتوں میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔‘
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 17 روپے 50 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد اس کی نئی قیمت 290 روپے 45 پیسے ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 20 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 293 روپے 40 پیسے ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست سے ہوگا۔
— Ministry of Finance (@FinMinistryPak) August 15, 2023
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی اس وقت کی اتحادی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ’بڑا‘ اضافہ کیا تھا جس پر اسے عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس وقت حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 19 روپے 95 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس بارے میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں، سب کو پتہ ہے کہ ہم سٹینڈ بائی معاہدے پر ہیں اور اگر آپ کو یاد ہو تو ماضی کی حکومت میں بھی یہی مسائل ہوئے تھے کہ جاتے جاتے انہوں نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا تھا بلکہ جاتے جاتے کم کر دیا۔‘
سوشل میڈیا صارفین نے اس مرتبہ بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
عبداللہ سلطان نامی صارف کہتے ہیں کہ ’جس طرح ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ضرورت سے زیادہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دینا ہے۔‘
دنیا کے سب سے مظلوم پاکستانی عوام ہے ۔جہاں حکومت رات 12 بجے قیمتوں میں اضافہ کرکےصبح سویرےسزاسنائی جاتی ہے۔۔#PetrolDieselPrice #Petrol
— Syed Tariq Munir (@syedtariqmunir) August 16, 2023
سوشل میڈیا صارف تیمور خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہوتی نہیں جو قوم 150 پر بھی راضی 290 فی لیٹر ہی اس قوم کی سزا ہے۔‘
ہوتی نہیں جو قوم 150 پر بھی راضی
— Taimur Khan (@TaimurKhaNNN) August 16, 2023
290 پر لیٹر ہی اُس قوم کی سزا ہے#PetrolDieselPrice
ایکس پر ایک اور صارف طارق منیر کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے سب سے مظلوم پاکستانی عوام ہے۔ جہاں حکومت رات 12 بجے قیمتوں میں اضافہ کر کے صبح سویرے سزا سنائی جاتی ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے منگل کو کہا کہ وہ گذشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔
مختلف وزارتوں سے بریفنگ کے بعد نگران وزیر اعظم کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’ہم قومی معاشی پالیسیوں میں تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور مزید معاشی بہتری لائیں گے۔‘
پاکستان میں نگران حکومت کے قیام کے دوسرے روز پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ دیکھی گئی اور امریکی ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں 300 روپے سے بڑھ گئی۔
اس کے علاوہ انٹربینک میں بھی ڈالر کی قیمت گذشتہ روز کی نسبت چار روپے کے اضافے کے ساتھ 292 روپے 50 پیسے رہی۔