حدود سے باہر ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ’اسلام آباد‘ کا نام ہٹانے کا حکم

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد‘ نام کی تبدیلی سے یہ تاثر ختم ہوگا کہ یہ رہائشی سوسائٹیز اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا داحلی دروازہ (انڈپینڈنٹ اردو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی حدود سے باہر واقع ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ’اسلام آباد‘ نام استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن منسوخی کے خلاف کیس میں سوسائٹیز کو اپنے ناموں میں سے ’اسلام آباد‘ نام ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی حدود سے باہر واقع 18 ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن منسوخی بھی کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد‘ نام کی تبدیلی سے یہ تاثر ختم ہوگا کہ یہ رہائشی سوسائٹیز اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ سوسائٹیز کے خرچ پر قومی اخبارات میں اشتہار دیے جائیں کہ یہ اسلام آباد کی حدود میں نہیں ہیں۔ عوامی آگاہی کے لیے اشتہارات مستقل ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مرکزی جگہوں پر چسپاں رہیں گے۔

’اسلام آباد نام استعمال کر کے چالاکی سے عوام کو تاثر دیا جا رہا ہے کہ سوسائٹیز اسلام آباد میں واقع ہیں۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن دوبارہ بحال کر دی ہے جبکہ رجسٹریشن منسوخی کا گذشتہ سال 23 ستمبر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصلے کے مطابق رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز نے رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، مختلف انکوائریز کے بعد رجسٹرار سوسائٹیز قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی کر سکیں گے۔ رجسٹرار پہلے خود مطمئن کرے کیا سوسائٹیز نے رجسٹریشن کے ایک سال کے اندر ڈویلپمنٹ شیڈول دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار کی تصدیق کے بعد مقررہ وقت میں سوسائٹیز نے متعلقہ صوبے میں ڈیٹا فراہم کرے۔ اگر سوسائٹیز نے ہاؤسنگ پراجیکٹ پر عمل درآمد کرنے کا ڈیٹا نہیں دیا تو رجسٹرار کارروائی کر سکتا ہے۔

’رجسٹرار یہ انکوائری کرے گا کہ کیا سوسائٹیز نے متعلقہ صوبوں میں پراجیکٹس بروقت مکمل کیے۔ رجسٹرار انکوائری کرے کیا پراجیکٹ کے لیے جگہ خریدی گئی، اگر نہیں تو ان کے مالی معاملات کی انکوائری کریں۔ رجسٹرار یہ بھی انکوائری کرے گا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پاس کیا ہاؤسنگ سکیم چلانے کی صلاحیت ہے۔ رجسٹرار پنجاب کے متعلقہ محکمے سے بھی اس حوالے سے معاونت لے سکے گا۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو ماہ میں رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کو عدالت کو عمل درآمد رپورٹ دینے کا حکم دیا ہے۔

’عدالت کے سامنے آیا ہے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز نے کبھی بھی قانون پر عمل نہیں کرایا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ورکنگ اور ان کے فنانشل افیئرز کو کبھی مانیٹر نہیں کیا گیا، ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ کبھی رجسٹرار نے پنجاب کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے معلومات حاصل کی ہوں۔‘

اسلام آباد میں رجسٹرڈ لیکن اسلام آباد کی حدود سے باہر واقع سوسائٹیز کی رجسٹریشن ڈپٹی کمشنر نے منسوخ کیں تھیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت