پاکستان اور یونان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون پر اتفاق

پاکستان کی ایف آئی اے اور یونانی پولیس نے ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دیتے ہوئے انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دی ہیلینیک کوسٹ گارڈ کی جانب سے 14 جون، 2023 کو جاری کی گئی اس تصویر میں یونان کے پیلوپونیس ساحل کے قریب ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتی کا ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر سے لیا گیا فضائی منظر۔ اس حادثے میں درجنوں اموات ہوئیں (دی ہیلینیک کوسٹ گارڈ/ ہینڈ آؤٹ/ روئٹرز)

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور یونان کی پولیس نے ہفتے کو ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دیتے ہوئے انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس ایم او یو میں اہم معلومات کے تبادلے، مجرموں کے بارے میں تحقیقات میں باہمی تعاون بڑھانے اور دونوں محکموں کے درمیان استعداد کار کے اقدامات کو فروغ دینے پر بات ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اہم معاہدے سے دونوں ممالک کے محکموں کا بین الاقوامی جرائم کی روک تھام کے لیے عزم ظاہر ہوتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت پر اتفاق ایک ایسے وقت سامنے آیا جب چند ماہ قبل یونان کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں سینکڑوں پاکستانی لقمہ اجل بن گئے تھے۔

14 جون کو یونان کے جزیرہ نما پیلوپونیس خطے کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں پاکستان، مصر اور شام کے تقریباً 750 افراد سوار تھے، جو لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ حادثے میں صرف 104 لوگوں کو ہی بچایا جا سکا۔ ان مسافروں میں 350 سے زائد پاکستانی بھی شامل تھے۔

14 جون کے واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے انسانی سمگلروں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

اس دوران ایف آئی اے نے غیر قانونی انسانی سمگلروں کے خلاف مہم بھی شروع کی۔

گذشتہ ہفتے ایف آئی اے نے یونان قریب کشتی واقعے میں ملوث ایک ’انتہائی مطلوب‘ مشتبہ شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

محکمے نے ایک بیان میں کہا کہ ’یونان کشتی حادثے میں ملوث انتہائی مطلوب انسانی سمگلر کو ایف آئی اے کے گجرات سرکل نے گرفتار کر لیا۔‘

ملزم جاوید حسین ایف آئی اے کو سات مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان