نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بدھ کو کہا کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے اہم ذرائع ہیں۔
انہوں نے یہ بات منگل کو نیویارک میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) تعاون پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے دوران کہی۔ جی ڈی آئی کی تجویز چینی صدر شی جن پنگ نے 20 ستمبر 2022 کو دی تھی۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کو کرونا وبا، عالمی تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے متعدد بحرانوں کی وجہ سے شدید دھچکا لگا ہے۔
انہوں نے جی ڈی آئی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں حاصل کیے گئے سنگ میلوں کو سراہا۔
انہوں نے پانچ اہم شعبوں میں ان اہداف پر عمل درآمد کی ضرورت پر روشنی ڈالی جس میں خوراک کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، صنعت کاری، صحت کے لچکدار نظام اور ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا شامل ہے۔
وزیر اعظم نے ترقیاتی عمل کی تمام سطحوں پر کافی اور مناسب مالیات کی ضرورت پر مزید روشنی ڈالی اور صدر شی کی طرف سے جی ڈی آئی کے نفاذ کے لیے 10 ارب ڈالر کے ایک اور فنڈ کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
Caretaker Prime Minister Anwarul Haq Kakar attended a high-level meeting on the outcome of Global Development Initiative (GDI) cooperation, on the sidelines of the 78th Session of the UN General Assembly in New York.#PMKakarAtUNGA #UNGA78 pic.twitter.com/5QLgvO43VR
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 19, 2023
وزیراعظم نے اس موقعے پر مزید کہا کہ پاکستان چین اور گروپ آف فرینڈز آف جی ڈی آئی کے دیگر اراکین کے ساتھ اپنے تعاون کو بڑھانے کا منتظر ہے تاکہ ایس ڈی جیز پر عمل درآمد کے لیے ان کی اجتماعی خواہش کو شرمندہ خواب کیا جا سکے۔
تقریب میں چین کے نائب صدر ہان ژینگ، جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس اور دیگر اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے بھی خطاب کیا جس کے بعد جی ڈی آئی تعاون پر ایک ویڈیو بریفنگ اور پریزنٹیشن بھی دی گئی۔
وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات
نیویارک میں موجود نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے منگل کی شب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کی۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے ان تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر خاص طور پر اقتصادی شعبے میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ بارڈر مارکیٹ کے حالیہ افتتاح سمیت اقدامات نہ صرف سرحدی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ دونوں ممالک اپنے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ’سب سے پہلے ہمسائے‘ کی پالیسی علاقائی ترقی اور روابط کے لیے پاکستان کے وژن سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے لیے اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی امن اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو فروغ دینے اور علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں لیکن اس مرتبہ کے اجلاس میں پانچ میں سے چار مستقل ویٹو پاور ممالک کے اہم رہنما شرکت نہیں کر رہے ہیں۔
Caretaker Prime Minister Anwaar-ul-Haq Kakar held a bilateral meeting with the President of the Islamic Republic of Iran, H.E Mr. Ebrahim Raisi, on the sidelines of the 78th Session of the UN General Assembly in New York.#PMKakarAtUNGA #UNGA78 pic.twitter.com/zT0eRpGNeH
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 19, 2023
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق دو سال تک کرونا وائرس کی وبا، پھر یوکرین میں روس کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کا اجلاس موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کے خطرات پر بات کرے گا۔
جنرل اسمبلی کے 78 واں اجلاس میں جنگ، مغربی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں نئے سیاسی بحران، طویل عرصے سے جاری کرونا وائرس، معاشی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور تباہ کن زلزلوں، سیلابوں اور آگ کی شکل میں تازہ قدرتی آفات کے پس منظر میں ہوگا۔
پاکستانی وزیر اعظم جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔
اسلام آباد میں جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کے تنازعے سمیت مختلف علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔ پاکستان کے مطابق مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔
وزیر اعظم حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی کے اقدامات اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالیں گے۔
نیو یارک میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ وہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ایک اہم کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔
وزیر خارجہ کی مصروفیات
نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بدھ کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کی۔
انہوں نے سعودی ہم منصب سے ملاقات میں دو طرفہ اور خطے کی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ آئی ٹی، توانائی اور دیگر شعبہ جات میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔
FM @JalilJilani met FM Prince Faisal bin Farhan Al Saud during #UNGA78. Discussed bilateral ties, regional/global issues. FM thanked Saudi leadership for support. Updated on SIFC for GCC investments, esp from KSA. Emphasized accelerating coop in IT, Energy, Infrastructure &labor. pic.twitter.com/BA0M8lKjZt
— Spokesperson MoFA (@ForeignOfficePk) September 19, 2023
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے موقعے پر منگل کو نیویارک میں وزرائے خارجہ کی سطح پر فلسطین پر او آئی سی کی چھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
پاکستانی وفد کی قیادت نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کی۔ اجلاس کی صدارت او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کی اور اس میں فلسطین، ترکی، گنی، ملائیشیا اور سینیگال کے وزرا اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر خارجہ جلیل عباس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل خراب صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے معصوم شہریوں کے قتل، مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے، غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع، آباد کاروں کی جانب سے روا رکھے گئے تشدد، حراستوں اور گنجان آباد غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کی شدید مذمت کی جو ان کے بقول انسانی حقوق اور حکمرانی کی مکمل پامالی ہے۔
اجلاس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کو طاقت کے صریح اور غیر قانونی استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کرے۔ اور شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے منگل ہی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے موقعے پر نیویارک میں بیلاروس کے وزیر خارجہ سرگئے ایلینک سے ملاقات کی۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے جنوری 2023 میں پاکستان بیلاروس مشترکہ اقتصادی کمیشن کے چھٹے اجلاس کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس موقعے پر بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے اندر تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔