پشین میں ’آب جوشی‘ سے کشمش کیسے تیار ہوتی ہے؟

باغات کی کثرت اور اچھی مارکیٹ نہ ہونے کے سبب بلوچستان کے زیادہ تر کاشت کار انگور کو کشمش کی شکل میں بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل سرانان کے کھلے میدانوں میں بچھے ہوئے ان انگوروں کو پانی اور کاسٹک کیمیکل سے دھو کر سورج کی گرمی سے خشک کر کے کشمش تیار کی جاتی ہے۔

 اس عمل کو ’آب جوش‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ابلتا ہوا پانی ہے۔

انگور کے باغات چونکہ زیادہ تر سرد علاقوں میں ہوتے ہیں اس لیے یہ بلوچستان کے شمالی سرحدی اضلاع چمن، قلعہ عبداللہ، پشین اور کوئٹہ کے مختلف مقامات میں کاشت کیے جاتے ہیں۔

باغات کی کثرت اور اچھی مارکیٹ نہ ہونے کے سبب بلوچستان کے زیادہ تر کاشت کار انگور کو کشمش کی شکل میں بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 آب جوشی کی بھٹی کے مالک محب اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر سال ستمبر کے شروع سے لے کر اکتوبر کے آخر تک آب جوشی بنانے کی عارضی بھٹی بناتے ہیں جس سے ان کے باغات کے حاصلات کے حفاظت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار بھی مہیا ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے قلعہ عبداللہ، گلستان اور پشین میں انگور کے باغ اجارے پر لیے ہوئے ہیں۔ ہم باغوں سے یہ بڑے انگور گچھوں سے الگ کر کے دانوں کی شکل میں لاتے ہیں۔ ان میں سے ثابت انگور اور کچرے (کمزور) انگور الگ ہو جاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’اس کے بعد انہیں تازہ پانی سے دھویا جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک بھٹی میں جس میں پانی کے ساتھ کاسٹک کیمکل ملا ہوتا ہے، اس اُبلے ہوئے پانی میں ڈبویا جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹھنڈے پانی میں ڈبونے کے بعد انگور کو کھلے میدان میں بچھا دیا جاتا ہے۔‘

محب اللہ کہتے ہیں کہ ’سوکھنے کے بعد اس کی صفائی ہوتی ہے اور کاٹن میں پیک کر کے گوداموں میں بھیج دیا جاتا ہے یا پھر تاجر یہیں مال کا سودا کر لیتے ہیں۔ ہماری تقریباً یومیہ 300 پیٹیاں انگور کی آتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’10 لوگ باغوں میں اور 60 کے قریب لوگ بھٹی میں کام کرتے ہیں۔‘

 محب اللہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہنر افغانستان سے یہاں منتقل ہوا ہے اور یہ کام تقریباً 100 سالوں سے چلا آ رہا ہے۔‘

 سرانان میں گذشتہ 10 سالوں سے مزدوری کرنے والے جمیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آب جوشی بنانے کے موسم یعنی ستمبر سے اکتوبر کے آخر تک اگر بارش ہوجائے تو باغات کے مالکان کا انگور کے نقصان کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی مالک اور ٹھیکیدار کے گلے پڑجاتی ہیں جس سے ان کا نقصان دوگنا ہوتا ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا