پارلیمان سے اسلام آباد نیچر کنزرویشن اینڈ وائلڈ لائف مینیجمنٹ ایکٹ 2023 کی منظوری کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو یہ پاور مل گئی ہیں کہ وہ کسی بھی تنظیم پر جرمانہ عائد کر سکے جو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرے۔
اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سی ڈی اے کو سکندر اعظم روڈ پر کام کرنے سے روک دیا تھا، جو اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ کے نیشنل پارک سے گزرتی ہوئی خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور کو ملائے گی۔
سات کلومیٹر طویل سکندر اعظم روڈ کینتھلا کنویں کے قریب اسلام آباد اور ہری پور کی سرحد پر ختم ہو گی، اس سڑک کا بقیہ حصہ صوبہ خیبر پختونخوا تعمیر کرے گا۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے مطابق سکندر اعظم روڈ پراجیکٹ پر کام کا آغاز بغیر کسی ماحولیاتی سٹڈی کے کیا گیا اور اس پراجیکٹ سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ دراصل میں مقامی آبادی اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نہیں بلکہ ریئل اسٹیٹ میں ملوث افراد کے لیے بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حوالے سے فیصلے بھی ہیں کہ اسلام آباد کے کنزرویشن علاقوں میں کسی قسم کے ترقیاتی کام نہیں ہو سکتے۔
دوسری جانب کلر کہار میں جوڈیشل کمپلیکس کا کام شروع ہو گیا تھا اور اس کمپلیکس کے لیے جو پہلے ہی سے پنجاب حکومت نے زمین مختص کی ہوئی تھی اس کو چھوڑ کر اس زمین پر چار دیواری کھڑی کرنی شروع کر دی گئی تھی جو باغِ صفا کی حدود میں ہے۔
تزک بابری میں شہنشاہ بابر لکھتے ہیں کہ بھیرا کو فتح کر کے وہ جب واپس آ رہے تھے تو کلر کہار پر قیام کیا۔
وہ اس مقام کی خوبصورتی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے حکم دیا کہ یہاں پر ایک باغ بنایا جائے جس کا نام باغِ صفا ہو۔
لیکن شہنشاہ بابر کو کیا معلوم تھا کہ تاریخی ورثے کو پانچ سو سال ہی میں سکیڑ دیا جائے گا۔
باغ صفا پر لگی تختی کے مطابق اس باغ کا کُل رقبہ 111 کنال ہے جو اب سکڑ کر 68 کنال رہ گیا ہے کیونکہ وہاں دو ریسٹ ہاؤس بھی بن گئے ہیں اور دیگر قبضوں نے اس کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے۔
اگر اس جوڈیشل کمپلیکس کو نہ روکا گیا تو اس باغ کا کُل رقبہ محض 52 کنال رہ جائے گا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سیلنگ کلب سے لے کر پیر سوہاوہ کے ریستورانوں تک اور پیر سوہاوہ سے شکر پڑیاں میں تجویز کردہ فوڈ سٹریٹ تک کسی کو کسی قانون کا احترام نہیں ہے۔
جو لابی طاقتور ہے وہ اپنا کام نکلوا لیتی ہے چاہے اس میں کوئی قانون توڑنا پڑے یا ماحولیات کو پھانسی گھاٹ پر چڑھانا پڑے۔
یہی سکندر اعظم روڈ پراجیکٹ تھا جو پہلے ایک سرنگ کی صورت میں سامنے آیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو سپریم کورٹ کے سو موٹو نے دفن کر دیا لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ یہ پراجیکٹ اس لیے ختم ہوا کہ سرنگ بننے سے جو امرا نے اس جانب پہاڑوں پر زمینیں لی ہوئی ہیں، بڑے بڑے فارم ہاؤس بنائے ہوئے ہیں ان کو اس سرنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔
فائدہ تو اس وقت ہو گا جب کوڑیوں میں خریدی ہوئی زمینوں کے سامنے سے سڑک گزرے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ بات درست ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان سیاحت پر توجہ دے رہا ہے اور دے بھی کیوں نا۔ ملک میں قدیم تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ صوفی مزار، ہندو مندر، سکھوں کے گردوارے اور بدھ مت کی خانقاہیں موجود ہیں۔
صرف پنجاب میں 480 ورثے اور مذہبی مقامات ہیں اور ان میں سے 106 مقامات تاریخی طور پر اہمیت کے حامل ہیں جبکہ 120 مذہبی اور 26 مقامات ایسے ہیں جو مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں مردان، ٹیکسلا اور سوات کے علاقے بدھ مت کی گندھارا تہذیب کا گڑھ ہیں، جہاں موجود مقامات دنیا بھر میں 500 ملین سے زیادہ بدھ متوں کے لیے بہت خاص ہیں۔
پاکستان ہی میں دنیا کا سب سے قدیم سوئے ہوئے بدھا کا مجسمہ ہری پور میں ہے۔
کوریا، چین اور جاپان کے 50 ملین مہایان بدھ متوں کے لیے خیبر پختونخوا میں تخت بائی اور شمالی پنجاب میں دیگر مقامات مذہبی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن ان ممالک سے یہاں کوئی نہیں آتا۔
لیکن ان سب مقامات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ مردان، ٹیکسلا اور سوات میں ہم نے مذہبی سیاحت کے لیے ایسا کیا کیا ہے کہ سیاحت میں اضافہ ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر سیاحت کو فروغ دینا ہے تو سیاحت کو فروع دی جائے سیاحت کے کندھے پر رکھ کر بندوق نہ چلائی جائے۔