بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے حوالے سے دیے گئے الٹی میٹم کے خاتمے پر آج (تین جنوری) کو پاکستان بھر میں رضاکارانہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
بلوچستان کے علاقے تربت سے بلوچ نوجوان بالاچ بخش کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف شروع کیے جانے والے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کے مظاہرین 20 دسمبر کو اسلام آباد پہنچنے کے بعد اس کیمپ میں شامل ہو گئے تھے، جو گذشتہ ایک ماہ قبل بلوچ لاپتہ اور جبری طور پر گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر لگایا گیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب یہ مظاہرین اسلام آباد پہنچے تھے تو ان کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے 283 مردوں اور تقریبا 100 خواتین کو گرفتار یا تحویل میں لیا گیا تھا، جس کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں سماعت کے بعد عدالت عالیہ کے حکم پر تمام مظاہرین کو رہا کردیا گیا تھا۔
اس کے بعد ہائی کورٹ میں یہ کیس تو ختم ہوگیا لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سرکردہ رہنما نے اپنے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
منگل کو ایکس پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ’یہ تحریک بلوچستان میں جاری جبر، جبری گمشدگی اور معصوم لوگوں کے قتل کے خلاف ہے، جسے پورے بلوچستان کی حمایت حاصل ہے۔‘
On January 3rd, our ultimatum will expire. The State has consistently shown a half-hearted and uncommitted concern regarding our demands from the beginning. Furthermore, despite the seriousness of the Baloch Genocide issue, State officials are attempting to justify it by labeling… pic.twitter.com/oGrbgaoNNH
— Baloch Yakjahti Committee - Kech (@BYCKech) January 1, 2024
ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً 40 روز سے جاری اس تحریک کے دوران ’بلوچستان میں مختلف مقامات سے 20 سے زائد لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا۔‘
ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا: ’ہم سب سے گزارش کرتے ہیں کہ تین جنوری الٹی میٹم کا آخری دن ہے، اس دن ہم پورے پاکستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیتے ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی: ’اس دن بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے پاکستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کی حمایت کریں۔‘
ہم پاکستان بھر کے تاجر برادری، کاروباری حضرات اور عام عوام سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و جبر کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائے گے اور پاکستان میں بھر میں ہماری کال پر رضاکارانہ طور پر شڑڈاوٴن ہڑتال کرکے ظلم و جبر کے خلاف مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ pic.twitter.com/XaeNSgBrlV
— Baloch Yakjehti Committee (@BalochYakjehtiC) January 2, 2024
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا امکان ہے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی رات اس حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا: ’پولیس کی بھاری نفری، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر پہنچ چکی ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ رات گئے، پر امن احتجاج کرنے والوں پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ہم یہ بات دہرانا چاہتے کہ اگر لانگ مارچ کے شرکا کو کچھ بھی ہوا، تو اس کی ذمہ دار صرف اور صرف ریاست ہوگی۔
تاہم اسلام آباد پولیس کا موقف ہے کہ ’مظاہرین پولیس کے ساتھ تعاون‘ نہیں کر رہے۔
اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے منگل کو آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ ’قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہرشہری کا حق ہے۔ پریس کلب کے باہر مظاہرین پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ مظاہرین سے گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔‘
اسلام آباد میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہرشہری کا حق ہے۔
— Islamabad Police (@ICT_Police) January 2, 2024
پریس کلب کے باہر مظاہرین پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔
مظاہرین سے گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔
مظاہرین بار بار ہائی سکیورٹی زون داخل ہونے پر بضد ہیں… pic.twitter.com/eECfEZ6yqW
مزید کہا گیا کہ ’مظاہرین بار بار ہائی سکیورٹی زون (میں) داخل ہونے پر بضد ہیں اور دھمکیاں دے رہے۔ قانون سے تجاوز کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا۔ مظاہرین پر تشدد کے متعلق مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جبکہ مظاہرین پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔‘
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔