صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت میں پولیس کے مطابق دو سالہ بچے سمیت ایک ہی خاندان کے 10 افراد کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
حکام نے بدھ کو بتایا کہ قتل ہونے والے افراد میں دو بھائی، ان کی بیویاں، 12 سال اور اس سے کم عمر کے چھ بچے اور ایک مہمان شامل ہے۔
لکی مروت کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) طارق حبیب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے اس واقعے کے تانے بانے کسی دہشت گردی کے واقعے سے نہیں جوڑے جا سکتے۔‘
ایک اور پولیس افسر معمور شاہ نے کہا کہ ’ہم اس واقعے میں ذاتی دشمنی کے پہلو کو نظرانداز نہیں کر سکتے تاہم اس کی مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔‘
انہوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’کچھ متاترین کو تیز دھار آلے اور کچھ کو گولیوں سے زخم آئے تھے۔ بدقسمت خاندان کے پڑوسیوں نے اس واقعے کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی تھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان میں خاندانی دشمنیاں عام ہیں لیکن خیبر پختونخوا صوبے میں برادریوں کے درمیان تنازعے روایتی طور پر غیرت کا مسٔلہ بن جاتے ہیں جو پرتشدد اور کئی نسلوں تک جاری رہتے ہیں۔
گذشتہ سال مارچ میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہی ایک ایسے واقعے میں 11 افراد کو خاندانی دشمنی کی بِنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔
پچھلے سال مئی میں زمین کے دہائیوں پرانے تنازعے میں اسی صوبے میں 16 لوگ مارے گئے تھے۔