الیکشن 2024: امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے؟

پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ہر امیدوار کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ پریزائڈنگ افسر کو بذریعہ خط اپنے پولنگ ایجنٹ کا نام فراہم کرے۔

31 اکتوبر 2015 کو ایک پاکستانی پولنگ ایجنٹ لاہور میں ضمنی انتخابات میں ایک ووٹر کے انگوٹھے پر نشان لگاتے ہوئے (اے ایف پی/ عارف علی)

پاکستان میں انتخابات کے لیے بنائے گئے انتخابی رولز کے مطابق اس میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ہر پولنگ سٹیشن پر اپنا پولنگ ایجنٹ اور الیکشن ایجنٹ مقرر کریں۔

 پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ہر امیدوار کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ پریزائڈنگ افسر کو بذریعہ خط اپنے پولنگ ایجنٹ اور ایک الیکشن ایجنٹ کے بارے میں  آگاہ کرے۔

خواتین کے پولنگ سٹیشن کے بوتھ پر خاتون جبکہ مردوں کے پولنگ سٹیشن بوتھ پر مرد ایجنٹ کا ہی نام دیا جاسکتا ہے۔ لہذا پولنگ کے دن سے ووٹنگ شروع ہونے سے قبل امیدوار اپنے حامیوں کے نام پولنگ ایجنٹ کے لیے فائنل کر کے انہیں اطلاع دے دیتے ہیں۔

قومی و صوبائی حلقے کیونکہ دور دراز علاقوں میں بھی ہوسکتے ہیں اس لیے جس پولنگ سٹیشن کے بوتھ پر ایجنٹ مقرر کیا جاتا ہے اس کو قریبی آبادی سے نامزد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

امیدواروں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی تجربہ کار پڑھے لکھے اور سمجھدار کو ہی یہ ذمہ داری سونپی جائے۔

یہی وجہ ہے کل آٹھ فروری 2024 کے پولنگ ڈے پر ایجنٹ مقرر کرنے کے لیے تمام امیدوار متحرک ہیں اور نام فائنل کر رہے ہیں۔ 

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کئی حلقوں میں اگرچہ مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ ان کے کئی کارکن گرفتار ہیں اور کئی نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاریوں کے خوف سے چھپے ہیں۔

البتہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’پولنگ ڈے پر ایجنٹ مقرر کرنا موجودہ حالات کی وجہ سے مشکل ضرور ہے لیکن ہم نے پوری تیاری کر رکھی ہے۔ ہر پولنگ پر ایجنٹ ضرور بٹھائیں گے۔‘

دیگر بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے بیشتر پولنگ ایجنٹ فائنل کر لیے ہیں۔ انہیں اس حوالے سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق ’پولنگ ایجنٹ کا شفاف الیکشن کے لیے پولنگ پر رہنا لازمی ہوتا ہے اس لیے ہر امیدوار کے لیے ایجنٹ نامزد کر کے پریذائیڈنگ افیسر کو بتانا ضروری ہے۔‘

اقوام متحدہ کے ساتھ بطور پاہر کام کرنے والی فوزیہ یزدانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’الیکشن ایجنٹ ریٹرننگ افیسر کے آفس میں امیدوار کا وکیل جبکہ پولنگ ایجنٹ انتخابی عمل کا حصہ بنتے ہیں۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے ایجنٹس کی پہلے ہی مکمل تیاری کرایا کریں۔‘

فوزیہ یزدانی کے بقول، ’پولنگ ایجنٹ کے علاوہ ہر امیدوار کو ایک الیکشن ایجنٹ مقرر کرنا ہوتا ہے جو ریٹرنگ آفیسر کو تحریری طور پر آگاہ کر کے نامزد ہوتا ہے۔ وہ امیدوار کا وکیل ہوتا ہے جس کا کام حلقے کے نتائج ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ وہ چیک کر سکتا ہے کہ جو نتائج جمع ہوئے ہیں وہ سب ٹھیک ہیں ان میں کوئی شک ہو تو وہ دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ امیدوار کی غیر موجودگی میں وہ نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔‘

امیدواروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹس کی نامزدگیاں

الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں پولنگ سٹیشن قائم کر دیے گئے ہیں۔ جس کے تحت 90 ہزار چھ سو 75 پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔

پنجاب میں 50 ہزار نو سو 44 ، سندھ میں 19 ہزار چھ، خیبر پختونخوا میں 15 ہزار چھ سو 97 جبکہ بلوچستان میں کل پولنگ سٹیشن پانچ ہزار 28 بنا دیے گئے ہیں۔

پورے ملک کے تمام پولنگ سٹیشنز پر دو لاکھ 76 ہزار پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جتنی بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشن اور پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں اتنی بڑی تعداد میں ہی امیدواروں کو اپنے پولنگ ایجنٹ مقرر کرنے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 میں کوڑے سٹاپ پولنگ سٹیشن پر ان کے حامی نعمان خاور کی بطور پولنگ ایجنٹ ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

نعمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے 2013 کے انتخابات میں بھی پولنگ ایجنٹ کے فرائض انجام دیے اور ضمنی الیکشن میں بھی مجھے ہی نامزد کیا گیا تھا۔‘

نعمان نے کہا، ’یہ کوئی آسان کام نہیں امیدوار ہم پر اعتماد کرتا ہے لہذا پولنگ شروع ہونے سے اختتام تک اور پھر گنتی اور نتائج کی تیاری کے بعد فارم 45 پر دستخط کر کے نتیجہ وصول کرنے تک الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ جو کافی مشکل کام ہے ہر کوئی یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکتا۔

’مجھے خواجہ صاحب کی طرف سے آگاہ کردیا گیا ہے یہ پولنگ سٹیشن کیونکہ میرے گھر کے قریب ہے اس لیے میری ڈیوٹی اس بار بھی لگا دی گئی ہے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما اور این اے 47 اسلام آباد سے آزاد امیدوار شعیب شاہین نے انڈپیندنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے متحرک کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہیں کئی جیلوں میں بند ہیں۔ جو آزاد ہیں انہیں پولیس مسلسل ہراساں کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود ہماری پوری تیاری ہے۔ ہم نے تمام حلقوں میں اپنے پولنگ اور الیکشن ایجنٹ تیار کر لیے ہیں۔‘

شعیب شاہین کے بقول، ’ملک بھر کے تمام حلقوں میں اگرچہ ہزاروں ایجنٹ چاہییں لیکن ہمارے امیدواروں نے اپنے حلقوں سے پولنگ ایجنٹس کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں۔ پولنگ شروع ہونے سے قبل ہمارے تمام ایجنٹس کو اپنے پولنگ سٹیشنوں پر بروقت پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

’اگر ہمارے پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیا جاتا ہے یا انہیں کسی مقدمے میں گرفتار کیا جاتا ہے تو ہم نے پلان بی کے تحت متبادل ایجنٹس بھی تیار کر رکھے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ان حالات میں اتنی بڑی تعداد میں تجربہ کار پولنگ ایجنٹ تیار کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن انتخابی عمل میں پوری طرح جدوجہد کے لیے تیار ہیں ہم اپنے ووٹرز کو مایوس نہیں کریں گے۔‘

اسی طرح پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام، عوام نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام چھوٹی بڑی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے اپنے پولنگ ایجنٹس کی ڈیوٹیاں لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔

پولنگ ایجنٹس کا شفافیت میں کردار

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولنگ ایجنٹ کا کردار انتخابات کی شفافیت میں بہت اہم ہوتا ہے ہر امیدوار کی جانب سے اپنا پولنگ ایجنٹ پولنگ شروع ہونے سے پہلے پریذائیڈنگ افسر کو تحریری طور پر آگاہ کر کے مقرر کرنا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ ایجنٹ پولنگ شروع ہونے سے اختتام تک پولنگ کے سرکاری عملے کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ پہلے ووٹر لسٹ میں ووٹ ڈالنے والے امیدوار کا نام چیک کرنا ہوتا ہے۔ پھر پولنگ ختم ہونے پر گنتی میں شامل ہونا ہوتا ہے تاکہ مسترد یا متنازع ووٹ گنتی میں شامل نہ ہوسکے۔

’گنتی کے بعد سب سے اہم فارم 45 ہوتا ہے جس پر نتیجہ بنتا ہے اس پر پولنگ ایجنٹ کے دستخط لازمی ہوتے ہیں۔ ان نتائج کی کاپی ایجنٹ کو بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ جا کر اپنے امیدوار کو دکھا سکے۔

’اس لیے ہر امیدوار کے لیے پولنگ ایجنٹ سوچ سمجھ کر نامزد کرنا ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن کی سابق کنسلٹنٹ فوزیہ یزدانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابی عمل میں الیکشن ایجنٹ اور پولنگ ایجنٹ کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس امیدوار کے جتنے ماہر پولنگ ایجنٹ ہوتے ہیں اس کے لیے شفاف الیکشن اتنا آسان ہوجاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے پولنگ ایجنٹ کو پولنگ شروع ہونے سے پہلے پولنگ سٹیشن پر پہنچنا ہوتا ہے تاکہ ان کے سامنے پریذائیڈنگ افسر بیلٹ باکس خالی دکھا کر سیل کرے۔ پھر ووٹ کاسٹ کرنے والے ووٹرز کے نام اپنے پاس موجود ووٹر لسٹ میں فوری چیک کر کے کراس کرے تاکہ وہ ووٹر دوبارہ ووٹ نہ کاسٹ کر سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ پولنگ ایجنٹ اور الیکشن ایجنٹ کا کام شفافیت کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے مگر بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ان کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دیتی۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائیٹ پر الیکشن اور پولنگ ایجنٹ کے لیے ضروری معلومات موجود ہیں۔ مگر بیشتر امیدوار اپنے پولنگ ایجنٹس کو وہ پڑھنے کی ترغیب بھی نہیں دلاتے۔ پھر پولنگ ایجنٹ یا الیکشن ایجنٹ کا الرٹ رہنا لازمی ہوتا ہے۔ سستی میں وہ کئی اہم چیزیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے لیے پولنگ ایجنٹس پورے کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہر پولنگ سٹیشن پر اگر چار پولنگ بوتھ ہوں تو ہر بوتھ پر پولنگ ایجنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا بڑی جماعتوں کے امیدوار تو اپنے ایجنٹ پورے کر لیتے ہیں لیکن آزاد امیدواروں کے لیے ایجنٹ پورے کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

فوزیہ کے مطابق ’ہمارے ہاں ہر الیکشن میں دھاندلی کا شور مچایا جاتا ہے لیکن اگر پولنگ کے عمل پر غور کریں تو کئی دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ اگر امیدوار اپنے پولنگ اور الیکشن ایجنٹ ذمہ داری سے ڈیوٹی دینے والے مقرر کریں تو ایسی غلط فہمیاں بھی دم توڑ سکتی ہیں۔

’جیسے جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ بیلٹ پیپر پر بھی پولنگ ایجنٹ کے دستخط لازمی ہیں اس کی تصدیق کیے بغیر کئی لوگ شکست کی صورت میں دھاندلی کا شور مچاتے نظر آئیں گے حالانکہ قانونی طور پر ایجنٹ کے دستخط صرف فارم 45 پر لازمی ہوتے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست