کیا پاکستان میں ویل چیئر ریمپس صرف دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں؟

اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں خصوصی افراد کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے قانون سازی تو کی گئی ہے مگر ابھی تک اس پر مکمل عمل درآمد نظر نہیں آتا جن میں سے ایک ویل چیئر ریمس کا معاملہ بھی ہے۔

وزارت سوشل ویل فیئر کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ رسائی پاکستان 2006 کے مطابق کم از کم عمارت میں ایک داخلے کی جگہ پر ویل چیئر کے داخلے کے لیے مختص ہونا لازمی ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں معذور افراد کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کئی بار اس پر قانون سازی تو ہو چکی ہے مگر ان پر اب تک مکمل طور پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

کسی بھی عمارت تک رسائی کسی اور فرد کی طرح خصوصی افراد کا حق ہے اور اس کو یقنینی بنانے کے 2023 میں پاکستان کے اس وقت کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد قانون منظور ہوا جس کے مطابق تمام کمرشل عمارتوں میں ویل چیئر ریمپس ہونا لازمی ہے۔

پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کی مطابق ملک میں خصوصی افراد کی شرح 0.44 فیصد ہے۔ یہ شرح 1998 کی مرد شماری کے مطابق کُل آبادی کا 2.38 فیصد تھی۔

مردوں میں معذوری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جو کہ 1998 میں  خصوصی افراد کی کُل آبادی کہ 41 فیصد تھی وہ 2017 میں بڑھ کر 61.89 فیصد ہو چکی ہے۔

ان افراد کو کسی بھی عمارت میں با آسانی رسائی فراہم کرنے کے لیے نہ صرف قومی اسمبلی سے قانون پاس ہوا بلکہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بھی ویل چیئرز ریمپس بنانے کے لیے قانون بنا رکھا ہے۔

اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حقوق برائے افراد باہم مزدوری ایکٹ 2020 کے مطابق حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ بھی معذور افراد تک رسائی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

ایکٹ کے مطابق عوامی عمارتیں، ہسپتال، تفریحی سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ میں خصوصی افراد کی رسائی کے لیے انتظامات کیے جائیں۔

حکومت پاکستان، وزارت سوشل ویل فئیر کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ رسائی پاکستان 2006 کے مطابق کم از کم عمارت میں ایک داخلے کی جگہ پر ویل چیئر کے داخلے کے لیے مختص ہونا لازمی ہے۔

اس ضابطے کے مطابق عمارت میں داخلے کی جگہ 33 انچ  سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

ایکٹ کے مطابق جہاں ریمپس کی ضرورت ہو وہاں اس کی ڈھلان 1: 20 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اور کسی بھی صورت میں یہ نئی تعمیر کے لیے زاویہ 1: 12 سے زیادہ نہ ہو۔

پہلے سے تعمیر شدہ عمارت کے لیے ڈھلان کے زوایے کے لیے 1:8 تک اجازت ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک متبادل زینہ بھی فراہم کیا جائے اور کسی بھی قابل رسائی ریمپ کی ڈھلان 1:50 سے زیادہ نہیں ہونی جبکہ چوڑائی 48 انچ سے کم نہ ہو۔

کسی بھی قابل رسائی ریمپ کی ڈھلان 1:50 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

مگر خاص طور پر اسلام آباد میں کم ہی ویل چیئر ریمپس ایسے ہیں جوذکر بالا قانون کے مطابق بنے ہوں بلکہ اگر شہر میں موجود عمارتوں کے باہر ریمپس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے اس سے خصوصی افراد تو دیگر افراد بھی نہ جا سکیں۔

اس معاملے پر جب ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ اینڈ بلڈنگ فیصل نعیم سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا تین سال سے نئی بننے والی عمارات ریمپس کے ساتھ بن رہی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ریمپس درست بنے ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو عمارتیں پہلے سے بنی ہیں ان کے مسائل آ رہے ہیں کیوں کہ ایک طرف سی ڈی اے اپنی زمین پر سٹیپ یا ریمپس بنانے کی اجازت نہیں دیتا اور دوسری جانب ایک عمارت کے مختلف مالکان ہونے کی وجہ سے توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے نہیں کیا  جا رہا۔‘

فیصل نعیم کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کی بنا پر اس پر عمل درآمد مشکل ہو رہا ہے۔

 

ڈی جی ہاوسنگ اینڈ بلڈنگ کے مطابق واش رومز، ایمرجنسی اگزٹ اور ویل چئیر ریمپس پر عمل درآمد کرانے کے لیے نئی پالیسی وضع کی جا رہی ہے جو ایک ماہ میں مکمل کر دی جائے گی۔

اسلام آباد میں کئی عمارتوں میں وضع کردہ اصول کے مطابق ریمس موجود ہیں جس کو ویل چیئر پر آنے والے افراد با آسانی استعمال کر سکتے ہیں مگر وہیں کئی عمارات میں بس دکھانے کو ہی بنایا گیا ہے جس پر کارروائی کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں کچھ عمارات کے باہر خاص طور پر بینکوں کے سامنے عارضی ویل چیئر ریمپس بنائے جاتے ہیں جو زیادہ وقت فولڈ کر دیے جاتے ہیں۔

 

سماجی کارکن ریحان جو 15 سالوں سے سماجی فلاح کے کاموں میں مصروف ہیں ان کا کہنا تھا کہ’ ہمارے معاشرے میں اس بات کا شعور نہیں یہاں تک اکثر ڈونر بھی ایسے مسائل پر توجہ نہیں دیتے اور اس کو عمومی سمجھتے ہیں کہ یہ چند ایک لوگ ہیں معاشرے میں اس لیے اکثریت پر توجہ دیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد کی طرح پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی حالات ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں جہاں قانون سازی کے باوجود اس پر عمل درآمد اب تک نہیں ہو سکتا۔

پنجاب ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ابیلیٹیز ایکٹ 2020 کے مطابق پنجاب بھر میں خصوصی افراد کو ہر جگہ رسائی فراہم کرنے اور مشکلات دور کرنا لازم قرار دیا گیا مگر اس پر عمل مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔

جب اس معاملے پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ چیزیں سماجی ذمہ داری ہوتی ہیں اور بطور معاشرہ اسے حل کرنا ہوتا ہے نہ کہ قانون کے ذریعے اس پر عمل درآمد کرایا جائے۔‘

 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے مسائل کو سماجی ذمہ داری کے طور پر حل ہونا چاہیے اور بتایا کہ اس پر قانون موجود ہیں مگر پھر بھی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور انہوں کہا کہ سرکاری اداروں میں اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے تسلیم کیا کہ شاپنگ پلازوں اور خاص طور پر بینکوں میں اس کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ’ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس پر پہلے بھی خدشات تھے اور اب بھی وزیر اعلیٰ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو خطوط لکھے جائیں گے جس میں ویل چئیر ریمپس بنانے کے قانون پر عمل درآمد کرانے کے لیے اقدامات کا کہا جائے گا۔ ‘

جب ایسی عمارات جہاں ناقص وہیل چئیر ریمپس بنائے گئے ہیں وہاں موجود لوگوں اور دکانداروں سے بات کی تو ان کی رائے تھی ایسی جگہ سے عام افراد اوپر نہیں جا سکتے تو ویل چیئر اسعتمال کرنے والوں کے تو نا ممکن ہے۔

ویل چیئر ریمپس نہ ہونے پر مشکل کا سامنا کرنے والے ایک فرد ذیشان شفقت بھی ہیں جو کہ اسلام آباد میں موجود ایک ریستوران کے مالک ہیں۔

ذیشان شفقت کا کہنا تھا کہ’ سکول، کالج اور یونیورسٹی می بھی یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘

انہوں مزید بتایا کہ کہ ان کا ریستوران اسلام آباد کے ایف سکس مرکز میں موجود عمارت کے تیسرے فلور پر ہے اور خصوصی افراد کے لیے سہولت نہ ہونے کی وجہ روزانہ اپنے کاروبار کو دیکھنے کو نہیں جا سکتے۔

 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان