سی پیک ٹو: عوامی رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش

سی پیک ٹو کے آغاز سے پائیدار ترقی اور سماجی و اقتصادی تبدیلی کے ٹھوس روڈ میپ پر آگے بڑھنے کا عمل جاری ہے۔

30 جولائی 2023 کو لاہور میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خاندان چینی نائب وزیر اعظم کے دورے سے قبل سڑک پر نصب چین اور پاکستان کے قومی پرچموں کی شکل میں سجاوٹ کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

چین اور پاکستان کے درمیان 2021 میں ہونے والے باضابطہ معاہدوں سے سی پیک ٹو کا آغاز ہوا، جو دونوں ممالک کی دوطرفہ اقتصادی و تجارتی شراکت داری میں اہم سنگ میل ہے۔

پاکستان امید افزا مستقبل کی دہلیز پر کھڑا ہے، جو متنوع ترقیاتی حکمت عملی کو اپنانے اور چین کے ساتھ مضبوط تعاون کے ذریعے ترقیاتی مواقع کی صورت نت نئے امکانات کی کھوج کا اظہار ہے۔

یہ مشترکہ ترقیاتی نقطہ نظر نہ صرف روشن مستقبل کا اعلان ہے بلکہ پاکستان چین باہمی شراکت داری کی جامعیت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ ’سی پیک ٹو‘ کا مقصد پہلے مرحلے سے سیکھی گئی کامیابیوں اور اسباق کو آگے بڑھانا ہے۔

سی پیک ٹو درحقیقت ترجیحات پر توجہ دینے کا نام ہے، جس میں نئے مواقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی بھی ہے۔

جہاں سی پیک ون کے درمیان حکومتوں یا کاروباری اداروں کی جانب سے طے پانے والے ترقیاتی اور اقتصادی منصوبوں پر زیادہ توجہ تھی، سی پیک ٹو میں ’پیپل تو پیپل کانٹیکٹ‘ یعنی دونوں ملکوں کے عوام کے آپس میں رابطوں کو پروان چڑھانے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سی پیک منصوبے کے اس مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان عوامی وفود کے تبادلوں، ثقافتی تعاون اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

’سی پیک ٹو‘ کے مرکزی تصور میں ’اضافی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد ہے‘ جس میں شاہراہیں، ریلوے، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔

یہ کوششیں پاکستان اور چین کے ساتھ رابطوں کو بڑھانے کے لیے ہیں، جس میں تجارت کا فروغ، سی پیک کی تکمیل سے نقل و حمل کو آسان بنانا اور اس کے بعد سی پیک ٹو کی صورت اس حکمت عملی کا ارتقا شامل ہیں جو چین اور پاکستان کے مابین تعاون اور پیش رفت کا دلکش بیانیہ پیش کر رہا ہے۔

2013  میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا باضابطہ افتتاح چین کے صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورہ پاکستان کے دوران ہوا تھا۔

اس افتتاحی مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دی گئی اور سڑکوں، ریلویز اور توانائی کے منصوبوں پر مبنی منصوبوں کی بنیاد رکھی گئی۔

2015  تک سی پیک کے ابتدائی مرحلے کے اہداف تیز رفتاری سے حاصل کر لیے گئے جس میں چین کے مغربی خطے اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کے مقصد سے متعدد کوششوں کی تکمیل تھی اور خاص بات یہ بھی رہی کہ سی پیک نے عالمی توجہ حاصل کی۔

2017  توانائی، نقل و حمل، ٹیلی مواصلات اور صنعتی تعاون جیسے شعبوں کا احاطہ کرنے والے متنوع منصوبوں کے آغاز کے ساتھ اہم لمحہ تھا۔

سی پیک نے چین کے پرعزم بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کی ایک کڑی (شاخ) کے طور پر بین الاقوامی توجہ حاصل کرنا شروع کی۔

2017  میں سی پیک کے دائرہ کار میں توسیع اور تنوع کے حوالے سے بات چیت ہوئی جس کے نتیجے میں سی پیک ٹو کا تصور پیش کیا گیا۔

تبدیلی کے اس مرحلے کا مقصد زراعت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سماجی ترقی سمیت تعاون کی نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے کامیابیوں کو آگے بڑھانا تھا۔

چین اور پاکستان کے درمیان 2021 میں ہونے والے باضابطہ معاہدوں سے سی پیک ٹو کا آغاز ہوا، جو دونوں ممالک کی دوطرفہ اقتصادی و تجارتی شراکت داری میں اہم سنگ میل ہے اور اس میں پائیدار ترقی اور باہمی خوشحالی پر زور دیتے ہوئے جامع ترقیاتی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سی پیک ٹو پر عمل درآمد کا آغاز 2022 کے دوران ہوا، جس میں ہائی ویز، ریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر اضافی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں اور اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان عوامی وفود کے تبادلوں، ثقافتی تعاون اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئیں جیسا کہ 2023 میں سی پیک ٹو کی صورت میں دیکھا گیا کہ اس سے چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو گہرا کیا گیا۔

یہ راہداری علاقائی ترقی اور رابطے کی بنیاد کے طور پر ابھری ہے اور اس میں وقت کے ساتھ تبدیلی کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

2024 میں سی پیک ٹو کی پیش رفت جاری ہے۔ پاکستان اور چین نے باہمی تعاون بڑھانے اور ترجیحات و مواقع سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ راہداری لچک، جدت طرازی اور مشترکہ خوش حالی کی علامت ہے، جو دونوں ممالک کے لیے امید افزا مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے۔

 سی پیک ٹو پاکستان کے معاشی مستقبل کا ضامن ہے تاہم اسے کئی ایک چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور سلامتی کے خطرات اس کی پیش رفت میں خلل ڈال سکتے ہیں، اس لیے پاکستان میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے معاشی استحکام الگ قسم کی تشویش ہے۔

زمین اور ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے پائی جانے والی مقامی مخالفت رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح قرض سے حاصل کردہ مالی وسائل کو محتاط مالی انتظام کے تابع ہونا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بڑے پیمانے پر منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کو بھی منظم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی سی پیک منصوبوں کے تسلسل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے تعاون اور فعال اقدامات کی ضرورت ہے۔ صرف محتاط منصوبہ بندی کے ساتھ ہی سی پیک ٹو کو پاکستان کی خوش حالی کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔

سی پیک سے سی پیک ٹو میں تبدیلی چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کی فعالیت اور اس کے ارتقا کی عکاسی ہے، جو ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینے کے لیے ان کے باہمی عزم کو اجاگر کر رہی ہے۔

سی پیک ٹو کا مقصد پائیدار ترقی اور اس کے حل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان کی بجلی کی پیداواری ضروریات پورا کرنے کے لیے توانائی کے منصوبوں کی توسیع ہے۔

قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے استفادہ اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے سی پیک ٹو توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ماحولیاتی ذمہ داری کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ان اقدامات کا مقصد چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان سماجی تعلقات کو مضبوط بنانا، باہمی تفہیم کو گہرا کرنا اور پائیدار دوستی کا فروغ شامل ہے۔

پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حرکیات، معاشی اتار چڑھاؤ اور سکیورٹی چیلنجوں سے بھری دنیا میں سی پیک ٹو کی آمد پاکستان کے لیے اہم سنگ میل کے طور پر ابھرکر سامنے آئی ہے۔

یہ امید کی ایک کرن ہے، جو غیر یقینی صورت حال اور افراتفری کے ماحول میں آگے بڑھنے کی تحریک ہے اور اسی کی بدولت مستقبل کی سمت بڑھتے ہوئے راستہ روشن دکھائی دے رہا ہے۔

درحقیقت سی پیک ٹو کے آغاز سے پائیدار ترقی اور سماجی و اقتصادی تبدیلی کے ٹھوس روڈ میپ پر آگے بڑھنے کا عمل جاری ہے اور اسی کے ذریعے پاکستان چین دوستی مزید گہری اور ترقی کے لامحدود امکانات کا مجموعہ دکھائی دے رہی ہے۔

سید علی نواز گیلانی تجزیہ کار اور پاکستان چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا شاخ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ ان سے بذریعہ ای میل ([email protected]) رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر