تپتی دھوپ میں سرکاری ملازمین لاہور مال روڈ پر کیوں ہیں؟

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کرنا چاہتی اس لیے وہ تعلیم کو بھی بیچ کر نجی سیکٹر کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔‘

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے بدھ کو آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس پنجاب کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ، ایچ ای سی کے زیر سایہ کام کرنے والے پروفیسر اور لیکچرار، ہیلتھ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔

ان ملازمین میں گریڈ ایک سے 19 ویں گریڈ تک کے ملازمین شامل تھے، جب کہ احتجاج میں لاہور کے گردو نواح اور دیگر شہروں سے بھی ملازمین نے شرکت کی۔

احتجاج کے شرکا کا مطالبہ تھا کہ سکولوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کو روکا جائے، لیو انکیشمنٹ بحال کی جائے، انکم ٹیکس میں اضافے اور پینشن رولز میں ترامیم، اور تنخواہوں میں مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافہ کیا جائے۔

پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پہلے ہم اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کر رہے تھے لیکن اب حکومت نے اچانک 13 ہزار تعلیمی اداروں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے ذریعے پرائیوٹ لوگوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے اساتذہ، پروفیسرز اور لیکچرارز بھی احتجاج میں شامل ہیں۔‘

رانا لیاقت کا کہنا تھا: ’اس سے پہلے ہم اپنا لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفیکیشن جو نگران حکومت نے کیا تھا اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی اسے واپس لے لیں گی، ابھی وہ نوٹیفیکیشن واپس نہیں ہوا اور ہم پر یہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کی صورت میں ہم پر تلوار لٹکا دی ہے۔‘

رانا لیاقت کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبے پورے نہ ہوئے تو ہم پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جا کر احتجاج کریں گے۔ اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ ہم تعلیمی اداروں کی تالہ بندی یا امتحانی عمل کے بائیکاٹ کی طرف چلے جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فائزہ رانا، جو پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کی صدر ہیں اور 19 ویں گریڈ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، نے احتجاج کے دوران انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم حکومت سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے مطالبات جن میں تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ ہے اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری نجکاری نہ کی جائے۔ یہ طالب علموں، تعلیم اور عوام کے ساتھ مذاق ہے کہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کرنا چاہتی اس لیے وہ تعلیم کو بھی بیچ کر نجی سیکٹر کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔‘

کاشف شہزاد، صوبائی صدر ٹیچرز یونین پنجاب اور گورنمنٹ سکول کمپیوٹر ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب نے بتایا کہ اس احتجاج میں لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں اور ان کا مرکزی مطالبہ یہ ہے کہ حکومت جو سرکاری اداروں کی نجکاری کر رہی ہے اسے روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا دائرہ کار آئندہ آنے والے دنوں میں پورے پنجاب کی حد تک وسیع کیا جائے گا۔

ہیلتھ ورکر روبینہ اسحاق ساتویں گریڈ کی ملازمہ ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میری 30 سال کی ملازمت ہو چکی ہے لیکن مجھے تنخواہ اس کے مطابق نہیں مل رہی۔ ہر مہم میں حصہ لینے کے باوجود ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے سکیل میں ان کی تنخواہ 40 ہزار روپے ہے جس میں وہ گھر کے خرچے اور بچوں کی تعلیم کو پورا نہیں کر پاتیں۔

روبینہ نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ 19 کے دنوں میں کیے جانے والے کام کے پیسے حکومت نے اب تک ملازمین کو نہیں دیے اور نہ ہی مردم شماری کے دوران کام کرنے کے پیسے اب تک ملے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان