پاکستان نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے غزہ میں تعلیمی اداروں کی تعمیر نو میں شراکت دار بننے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ تجویز اردن میں غزہ کے لیے فوری انسانی امداد کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے کام کرنا ہوگا جس کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں توثیق کی گئی ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم غزہ میں کسی بھی آبادیاتی یا علاقائی تبدیلی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔
’اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کیا جائے تاکہ دو ریاستی حل کے مستقل قیام کو یقینی بنایا جا سکے جو کہ ارض مقدس میں پائیدار امن و سلامتی کے حصول کا واحد راستہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ ایک آزاد، خود مختار عوام کی حیثیت سے آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، جس میں 1967 سے قبل کی سرحدوں کے اندر ایک ریاست اور آزاد القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان دنیا میں امن، خوشحالی اور ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا، خاص طور پر دیرینہ تنازعات خصوصا مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوشاں رہے گا۔
وزیر نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی آٹھ ماہ سے جاری نسل کشی والی فوجی جارحیت میں 37 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے گئے، 84 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے اور غزہ کی 23 لاکھ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی برادری کی اجتماعی خواہشات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کارروائی کی ہے۔
انسانی اور زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ شہری بنیادی ڈھانچے، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، امدادی قافلوں اور انسانی ہمدردی کی پناہ گاہوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور تباہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی مظالم کی شدید اور واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ’پاکستان کی حکومت اور عوام مشکل کی اس گھڑی میں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’ہم نے گذشتہ اکتوبر سے غزہ میں پھنسے اپنے بھائیوں کے لیے 2000 ٹن سے زیادہ انسانی امداد لے جانے والے آٹھ سے زیادہ طیارے بھیجے ہیں، اور یہ امدادی سامان اور امداد بھیجنا جاری رکھیں گے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمیں غزہ میں مشکلات کا شکار فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ کرنا چاہیے اور ان کی خوراک، ادویات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی ضروریات پوری کرنی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اسرائیل کو تمام فوجی رسد اور فروخت پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور غزہ سے اسرائیلی قابض افواج کے فوری انخلا کو یقینی بنانا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک غیر جانب دار بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر بھی غور کرنا چاہیے۔