’راستہ مجھے بلا رہا ہے‘: موٹرسائیکل پر تنہا سفر کی شوقین خاتون

لاہور سے تعلق رکھنے والی بریرہ خان ویسے تو فائن آرٹس کی طالبہ ہیں، لیکن موٹرسائیکل پر تنہا سفر کا شوق انہیں ان کی 70 سی سی موٹرسائیکل پر پاکستان کے کئی علاقوں تک لے گیا، جہاں جا کر وہ اکثر اپنا پینٹنگ کا فن بھی جگاتی ہیں۔

بریرہ خان نے اپنی 70 سی سی موٹرسائیکل پر پاکستان کے کئی علاقوں کا تنہا سفر کیا ہے (حمزہ قمر/ انڈپینڈنٹ اردو)

لاہور سے تعلق رکھنے والی بریرہ خان ویسے تو فائن آرٹس کی طالبہ ہیں، لیکن موٹر سائیکل پر تنہا سفر کا شوق انہیں ان کی 70 سی سی موٹر سائیکل پر پاکستان کے کئی علاقوں تک لے گیا، جہاں جا کر وہ اکثر اپنا پینٹنگ کا فن بھی جگاتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بریرہ نے شمالی علاقہ جات کے اپنے تنہا سفر کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات اور تجربات شیئر کیے اور یہ بھی کہ انہوں نے موٹر سائیکل کا انتخاب ہی کیوں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’مجھے سفر کرنے کا شوق ہے۔۔۔ تو میرے پاس جو چیز دستیاب تھی میں نے اسی کو اپنا ساتھی سمجھا اور اپنی 70 سی سی موٹر سائیکل، جو کہ میرے ابا کی تھی، لے کر کشمیر کی جانب نکل گئی تھی۔

’میرا پہلا ٹور ’ڈسکور پاکستان‘ کے ساتھ تھا، جس میں وہ 20 بائیکرز کو لے کر کشمیر، مظفر آباد اور پھر نیلم تک گئے تھے۔ میں 70 سی سی پر گئی تھی جبکہ دیگر کے پاس مختلف قسم کی بائیکس تھیں۔

’اس کے بعد میں نے تنہا سفر (Solo Travelling) شروع کیا کیوں کہ میں نے یہ سوچا ہوا تھا۔ جب میں نے بائیک سیکھی تھی تو سوچا تھا کہ میں نے سولو ٹریولنگ شروع کرنی ہے۔‘

بقول بریرہ: ’اس کے بعد مجھے ایسا لگا کہ میں آزاد ہو گئی۔ میں بھوربن اور نتھیا گلی گئی۔ 2023 میں دو سے تین بار نتھیا گلی گئی تھی، ایسے لگتا ہے کہ جیسے اپنا گھر ہے۔ پھر میں ہنزہ گئی۔ ہنزہ میں گلمت، قماریز میں میری ٹریکنگ تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ زیادہ تر آف روڈز اور آف میپس ٹریول کرتی ہیں، یعنی ایسی جگہیں جہاں عموماً لوگ نہیں جاتے۔

بقول بریرہ: ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ راستہ مجھے بلا رہا ہے، جہاں لوگ نہیں جائیں گے۔‘

اپنی بائیک کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’70 سی سی بہت اچھی بائیک ہے۔ مجھے ابھی تک کوئی بھی ایسا مسئلہ درپیش نہیں آیا، جس پر میں کہوں کہ مجھے بائیک تبدیل کرنی ہے۔ اگر آپ اس بائیک کا ہر ماہ کام کروائیں تو یہ بہترین چلتی ہے۔ میں بائیک کا کافی کام جانتی ہوں۔ لوگ مجھے سے پوچھتے ہیں کہ بائیک کا کام ہمیں بھی سکھا دیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’میں مکینک کے پاس بیٹھ جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ وہ کام کیسے کر رہا ہے۔‘

راستے میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے بریرہ نے بتایا: ’مری ہائی وے کے راستے میں میری بائیک کا ٹائر پنکچر ہوگیا، کسی کو لگانا نہیں آتا تھا، لوگ گزر رہے تھے، پھر میں نے اپنی بائیک کا پنکچر خود لگایا تھا۔‘

فائن آرٹس کی طالبہ ہونے کی حیثیت سے اس سفر نے بریرہ کے آرٹ پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے اور وہ دیگر لڑکیوں کو بھی اپنے خواب پورے کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’جہاں بھی مجھے جگہ ملتی ہے میں رک جاتی ہوں، اپنا کینوس نکالتی اور پینٹ شروع کر دیتی ہوں۔ میں سب لڑکیوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ کچھ بھی ہو جائے، مر جائیں گے لیکن ڈریں گے نہیں۔ اپنی منزل، اپنا رستہ خود ڈھونڈیں گے اور اپنے خواب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل