24 نومبر احتجاج، کنٹینر نہ چھوڑے تو پہیہ جام ہڑتال کریں گے: گڈز ٹرانسپورٹرز

24 نومبر کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے اعلان پر پنجاب میں کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی ہے جس پر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری طور پر کنٹینرز چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بصورت دیگر وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔

5 اکتوبر، 2024 کو لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں اور حامیوں کے احتجاج کے خلاف انتظامیہ نے کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کر رکھی ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر ایک بار پھر راستے بند کرنے کے لیے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر نبیل ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’احتجاج سے قبل ہی اب تک پنجاب سے سات ہزار کنٹینرز پکڑے جا چکے ہیں، اگر کنٹینرز فوری نہ چھوڑے گئے تو ہم ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دے کر خود سڑکوں پر آ جائیں گے۔

نبیل ملک کا کہنا تھا: ’انتظامیہ کی جانب سے پکڑے گئے کنٹینرز میں اشیا بھی موجود ہیں اور اسی وجہ سے اشیا کی ترسیل بھی معطل ہو چکی ہے۔ اس سے اربوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے لہذا فوری کنٹینرز نہ چھوڑے گئے تو پہیہ جام ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’احتجاج اور راستے بند کرنا معمول بن گیا لہذا حکومت اپنے طور پر کوئی مستقل انتظام کرے۔‘

انتظامیہ کی جانب سے لاہور کے مخلتف علاقوں شاہدرہ، بابو صابو انٹر چینج، ٹھوکر نیاز بیگ اور 32 چوک کنٹینرز لگا کر بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

پولیس نے لاہور رنگ روڑ 23 اور 24 نومبر کو صبح 8 سے شام 6 بجے تک بند رکھنے کا مراسلہ کمانڈنگ رنگ روڑ اتھارٹی کو بھجوا دیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب بھر میں 23 سے 25 نومبر تک کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جہلم پل بند کرنے کے لیے بھی کنٹینرز جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

فیصل آباد، ملتان سمیت موٹر وے کو جانے والے راستوں کو بند کرنے کی حکمت عملی بھی بنا لی گئی ہے۔

لاہور انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’حکومتی احکامات پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جو اقدامات کیے جاسکتے ہیں وہی دستیاب وسائل میں کیے جاتے ہیں۔

کنٹینرز لگائے بغیر شاہراوں سے مظاہرین کو روکنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ مزاحمت کی صورت میں خون خرابے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس لیے محفوظ راستہ اپنایا جاتا ہے اس سے اگر کسی کو نقصان ہوتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کم از کم نقصان ہو۔

کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ سے نقصان

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ہر بار کی طرح اس بار بھی کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ سے نقصانات ناقابل برداشت قرار دیے ہیں۔ اس حوالے سے لاہور چیمبر آف کامرس سے بھی آوازاٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر طارق نبیل ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرف دور سے کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے کا شروع ہونے والا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ وقت کے ساتھ احتجاج، جلسے، جلوس اور لانگ مارچ معمول بنے ہوئے ہیں، لیکن حکومت کو اس کا واحد حل کنٹینرز پکڑ کر سڑکیں بند کرنا ہی نظر آتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہماری مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، جہاں کنٹینر دکھائی دیتا ہے، کنٹینرز میں سامان ہونے کے باوجود اسے پکڑ کر کئی کئی دن کے لیے کھڑا کر لیا جاتا ہے۔‘

طارق نبیل کے بقول: ’پوری دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اشیا کی ترسیل کا نظام معطل کر کے ملک کو کنٹینرستان بنا دیا جائے، لیکن یہاں ہر ایک دو ماہ بعد چلتے نظام کا پہیہ اچانک جام ہو جاتا ہے۔

’ایک طرف معیشت بحالی کی جدوجہد کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو دوسری جانب دیکھتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے اربوں کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ درآمدی اور برآمدی سامان کی ترسیل رکنے سے ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کنٹینرز شپنگ کمپنیوں کے ہوتے ہیں جو ایک دن کا فی کنٹینر دو سو ڈالر وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح فی کنٹینر کا ایک دن کا خرچہ 20 ہزار روپے ہوتا ہے۔ فیول کی مد میں حکومت کو ٹیکس بھی ملتا ہے جبکہ ٹول ٹیکس الگ ملتا ہے۔ لیکن اس طرح کنٹینرز پکڑنے سے نہ صرف نظام معطل ہوجاتا ہے بلکہ اربوں کا نقصان بھی ہوتا ہے۔‘

صدر گڈز ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ ’دوسرے ممالک سے آنے والا سامان ملک بھر میں پہنچایا جاتا ہے جس میں ادویات، اجناس، فیکٹریوں کے پرزے بھی ہوتے ہیں، لیکن کئی کئی دن گاڑیاں بند کرنے سے سامان وقت پر نہیں پہنچتا اور جو خراب ہو جائے وہ بھی ہمیں بھرنا پڑتا ہے۔

’ڈرائیوروں پر تشدد کر کے زبردستی لاکھوں کی گاڑیاں پکڑ لی جاتی ہیں جیسے ہمارا کوئی وارث ہی نہ ہو یا ہم کاروبار نہیں بلکہ کوئی جرم کر رہے ہوں۔‘

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ’اب برداشت سے باہر ہو چکا ہے، انہوں نے تو معمول ہی بنا لیا۔ لہذا اگر کنٹینرز فوری نہ چھوڑے گئے تو ہم ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دے کر خود سڑکوں پر آ جائیں گے۔‘

کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ مجبوری کیوں ہے؟ 

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی تاہم ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس اور انتظامیہ حکومتی احکامات پر عمل کرتی ہے، لہذا جب بھی ہمیں حکم ملتا ہے کہ کسی بھی جماعت کے احتجاج یا جلسے، جلوسوں میں شرکت سے لوگوں کو روکا جائے تو سڑکیں عارضی طور پر بند کرنے کے لیے آسان حل کنٹینرز ہی دکھائی دیتے ہیں۔

’کوشش ہوتی ہے کہ خالی کنٹینرز کو پکڑا جائے لیکن زیادہ کنٹینرز لوڈ ہوتے ہیں اس لیے دیکھا جاتا ہے اس میں قیمتی یا خراب ہونے والا سامان نہ ہو، پھر متعلقہ تھانے کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اپنے علاقوں سے کنٹینرز پکڑ کر متعلقہ سڑک بند کر دی جائے۔ اب بھی 24 نومبر کو سیاسی جماعت کے کارکنوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کنٹینرز کا انتظام شروع ہو چکا ہے۔‘

لاہور کے انتظامی عہدیدار سے پوچھا گیا کہ کیا کنٹینرز کو کوئی ادائیگی یا نقصان پورا کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ اس بارے میں ابھی تک تو کوئی فنڈ نہیں ملا نہ کسی کو ادائیگی کا بتایا گیا ہے۔‘

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر طارق نبیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2019 کے دوران کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم دیا تھا کہ حکومت کسی کا کنٹینر پکڑے گی تو وہ اس کا نقصان پورا کرنے کی بھی ذمہ دار ہو گی۔

اس وقت کے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے عدالت میں وضاحت پیش کی تھی کہ انتظامیہ نے ایسے کنٹینرز نہیں پکڑے جن میں اشیا موجود ہوں۔ پیپرا رولز کے تحت لاہور کی ایک کمپنی کنٹینرز فراہم کر رہی ہے،کنٹینرز کے حصول کے لیے چھ کروڑ روپے میں ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔‘

طارق نبیل نے کہا کہ ’حکومت نے نہ کبھی کسی کنٹینر کا کرایہ دیا نہ کوئی ٹینڈر ہوا اور نہ ہی کبھی نقصان پورا کیا۔ احتجاج یا جلوس ختم ہونے کے باوجود کنٹینر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور خود ہی گاڑی لے جاتے ہیں کوئی وہاں موجود تک نہیں ہوتا۔‘

’پچھلی بار سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کی کال پر ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد کنٹینرز پکڑے گئے تھے کسی کو ایک روپے کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ اس بار بھی یہی سلوک ہو گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان