اسرائیلی حملوں میں امدادی ٹرکوں کے 12 محافظوں سمیت 58 اموات

سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال کے مطابق: ’قابض (اسرائیل) نے ایک بار پھر امدادی ٹرکوں کو محفوظ بنانے والوں کو نشانہ بنایا۔‘

سات دسمبر 2024 کو وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات پناہ گزین کیمپ کی مرکزی صلاح الدین سڑک پر موجود ایک امدادی ٹرک کے ساتھ تعینات محافظ (ایاد بابا / اے ایف پی)

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 58 افراد جان سے گئے، جن میں امدادی ٹرکوں کی حفاظت کرنے والے 12 محافظ بھی شامل تھے۔

سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جنوبی غزہ میں رفح میں ایک حملے میں سات محافظ مارے گئے، جب کہ ایک دوسرے حملے میں قریبی علاقے خان یونس میں بھی پانچ محافظ جان سے گئے۔

محمود بسال کے مطابق: ’قابض (اسرائیل) نے ایک بار پھر امدادی ٹرکوں کو محفوظ بنانے والوں کو نشانہ بنایا‘، اگرچہ فوج نے کہا ہے کہ وہ ’انسانی امداد کے ٹرکوں پر حملہ نہیں کرتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دو حملوں میں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

محمود بسال نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آٹا لے جانے والے ٹرک انروا کے گوداموں کی طرف جا رہے تھے۔‘

بعد ازاں عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملوں کے بعد رہائشیوں نے ٹرکوں سے آٹا لوٹ لیا۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے گاڑیوں کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے بارہا محصور غزہ کی پٹی میں شدید انسانی بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو 14 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔

انروا کی ترجمان لوئیس واٹریج نے وسطی غزہ میں نصیرات کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’غزہ کی پٹی میں لوگوں کے حالات خوفناک اور تباہ کن ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی فوج کی جانب سے وہاں حملوں کے بعد سے ’شمالی غزہ گورنری کے محصور علاقوں میں جان بچانے والی امداد بڑی حد تک روک دی گئی ہے۔‘

انروا نے رواں ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ اس نے جنوبی غزہ میں دو لاکھ افراد کے لیے خوراک کی کافی امداد کامیابی سے پہنچائی ہے۔

لیکن جمعرات کو کہا گیا کہ ’ایک سنگین واقعے‘ کا مطلب ہے کہ غزہ کی جنوبی سرحد کے ساتھ سفر کرنے والے 70 افراد کے قافلے میں سے صرف ایک ٹرک اپنی منزل پر پہنچا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انروا نے واقعے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن ’تمام فریقین سے محفوظ، بلا روک ٹوک اور بلاتعطل‘ امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے نصیرات پناہ گزین کیمپ کے قریب دو گھروں پر حملہ کیا، جس سے21 افراد جان سے گئے۔

محمود باسل نے کہا کہ 15 افراد، جن میں کم از کم چھ بچے شامل تھے، نصیرات کے قریب بے گھر لوگوں کو پناہ دینے والی عمارت پر ’اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں‘ مارے گئے۔

نصیرات میں مرنے والوں کے رشتہ دار بسام الحبش نے کہا: ’یہ لوگ بے گناہ ہیں، یہ مطلوب نہیں ہیں۔ ان کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

’وہ عام شہری ہیں اور یہ دو فوجوں کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ ہتھیاروں، طیاروں اور مغربی حمایت سے لیس ایک ایسے بے دفاع لوگوں کے خلاف جنگ ہے، جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘

سول ڈیفنس نے بتایا کہ جمعرات کو رات گئے ایک اور حملے میں نصیرات پناہ گزین کیمپ میں کم از کم 25 افراد مارے گئے اور 50 زخمی ہوئے۔

سفارتی دباؤ

تشدد کے خاتمے کے لیے تازہ ترین سفارتی کوششوں میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

غیر پابند قرارداد کو اسرائیل کے اہم فوجی حمایتی امریکہ نے مسترد کر دیا، تاہم حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ پہلے سے تعطل کا شکار فائر بندی مذاکرات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں۔

حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے غزہ میں 96 یرغمالیوں کے اہل خانہ، جن میں سے 34 اسرائیلی فوج کے مطابق جان سے جا چکے ہیں، ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، جنہوں نے جمعرات کو اسرائیل کا دورہ کیا اور وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کی، کہا کہ انہیں ’احساس ہوا‘ کہ اسرائیلی رہنما ’ایک معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے حماس کا نقطہ نظر بدل گیا ہے، جس کی وجہ شام میں ان کے اتحادی بشار الاسد کا تختہ الٹنا اور اسرائیل اور ایک اور اتحادی لبنانی گروپ حزب اللہ کے درمیان جنگ میں عمل میں آنے والی فائر بندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اب ڈرامائی طور پر نئے سرے سے تشکیل پانے والے مشرق وسطیٰ کا سامنا ہے، جس میں اسرائیل زیادہ مضبوط اور ایران کمزور ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا