جرمنی میں عام انتخابات کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے اور 23 فروری (اتوار) کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے نتائج پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
یہ انتخابات چانسلر اولاف شولز کی تین جماعتی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں۔
نئے انتخابی نظام کے تحت یہ الیکشن مختلف انداز میں ہوں گے، جو جرمنی کی سیاست پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں کیونکہ ایک طرف یوکرین کی جنگ ہے، تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرمنی کو دھمکیاں۔
جرمنی میں عام انتخابات سے قبل باقاعدہ الیکشن مہم چلائی جاتی ہے، بینر لگتے ہیں، اور بڑے بڑے بل بورڈز شاہراہوں پر نصب کیے جاتے ہیں۔
الیکشن والے دن صبح سے ہی پولنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ وقت کی کمی کے باعث پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ یہ عمل شام چھ بجے تک جاری رہتا ہے۔
یہاں کے انتخابات میں دھاندلی کا امکان تقریباً صفر ہوتا ہے کیونکہ ووٹوں کی گنتی ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے، اور شام چھ بجے کے بلیٹن میں 80 سے 90 فیصد نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
اس بار مختلف سرویز سے پتہ چلتا ہے کہ کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) واضح اکثریت حاصل کر سکتی ہے، مگر دوسری، تیسری یا چوتھی پوزیشن کی جماعتوں پر سوالیہ نشان ہے۔
اے ایف ڈی (AfD) کی حالیہ پالیسیوں پر جرمنی میں آباد تارکین وطن، خاص طور پر مسلمان کافی پریشان نظر آتے ہیں۔
گو اے ایف ڈی کو واضح اکثریت سے کامیاب ہوتا نہیں دیکھا جا رہا، مگر یہ ایک طاقت ور جماعت کے طور پر ضرور ابھر سکتی ہے، اور اگلے پانچ سال پارلیمنٹ میں ہونے والے ہر فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
جرمنی میں الیکشن کے حوالے سے پاکستانی و مسلمان برادری کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات پچھلے سالوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے باعث انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
خاص طور پر جرمنی میں دہائیوں سے آباد غیر ملکی، اور بالخصوص مسلمان، اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان نظر آتے ہیں۔
کمزور معیشت، افراطِ زر، اور سیاسی پناہ گزین جیسے مسائل بھی اس وقت جرمنی کو درپیش ہیں۔
جرمنی کا نیا انتخابی نظام کیا ہے؟
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جرمنی کا انتخابی نظام روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید اصلاحات پر مشتمل ہے۔
یہ نظام برطانیہ اور امریکہ کے سنگل رکن حلقوں کو یورپ کے زیادہ تر ممالک میں رائج متناسب نمائندگی کے اصول کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
پہلے، 299 حلقوں سے منتخب ہونے والے امیدواروں کے ساتھ ساتھ اضافی نشستیں شامل کر کے پارلیمنٹ میں جماعتوں کی نمائندگی کو ووٹوں کے تناسب سے برابر کیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں 2021 میں پارلیمنٹ کی تعداد 735 نشستوں تک جا پہنچی تھی، جو دنیا کے سب سے بڑے ایوانوں میں شامل تھی۔
2023 میں منظور شدہ نئے قانون کے تحت پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد 630 مقرر کر دی گئی ہے۔
اب اگر کسی جماعت کو اس کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے زیادہ نشستیں ملتی ہیں تو ان حلقوں کو خالی چھوڑ دیا جائے گا جہاں امیدوار کم ترین فرق سے جیتے ہوں۔
اس تبدیلی سے ان جماعتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو مخصوص حلقوں میں مضبوط ہیں۔
خاص طور پر کرسچین سوشلسٹ یونین (CSU)، جو کرسچین ڈیموکریٹس (CDU) کی اتحادی جماعت، اور جس کے سربراہ فریڈرش میرٹ کو انتخابات کے بعد چانسلر بننے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
پانچ فیصد ووٹ کی حد کا اصول
جرمنی میں 1930 کی دہائی میں پارلیمانی انتشار اور نازی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک اصول متعارف کرایا گیا تھا کہ کوئی بھی جماعت عام طور پر پانچ فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنے پر پارلیمنٹ میں داخل نہیں ہو سکتی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم، اگر کوئی جماعت تین حلقوں سے نشستیں جیت لے، تو اسے اس کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کے تناسب سے نشستیں دی جاتی ہیں، چاہے اس کے ووٹ پانچ فیصد سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔
2021 کے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعت دی لیفٹ (The Left) نے صرف تین نشستیں جیتی تھیں، مگر اس اصول کے تحت اسے 39 نشستیں دی گئیں۔
اس مرتبہ انتخابی صورتحال کافی پیچیدہ ہے کیونکہ کئی چھوٹی جماعتیں پانچ فیصد کی حد کے قریب نظر آ رہی ہیں، جیسے کہ فری ڈیموکریٹس (FDP) 4-5 فیصد، دی لیفٹ 6-7 فیصد اور اس کی نئی حریف جماعت سارہ واگنکنیشٹ الائنس (BSW) 4-5 فیصد پر ہے۔
دوسری طرف، بویریا میں مضبوط فری ووٹرز جماعت قومی سطح پر پانچ فیصد سے کافی کم ہے، لیکن اگر وہ تین حلقوں میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے، تو اسے بھی پارلیمنٹ میں نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
نئی پارلیمنٹ کیسی ہو گی؟
جرمنی کے اس پیچیدہ انتخابی نظام کے باعث پارلیمنٹ میں چار سے آٹھ جماعتیں شامل ہو سکتی ہیں۔
اگر چار جماعتیں منتخب ہوتی ہیں تو 2017 کے بعد کی سب سے مستحکم پارلیمنٹ وجود میں آئے گی، جبکہ آٹھ جماعتیں شامل ہونے کی صورت میں یہ جرمنی کی تاریخ کی سب سے متنوع پارلیمنٹ ہو گی۔
اس صورتحال میں فریڈرش میرٹ کو حکومت بنانے کے لیے کسی نہ کسی جماعت کا ساتھ درکار ہوگا، جس میں سوشل ڈیموکریٹس (SPD) اور گرین پارٹی (Greens) یا دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، دوسری سب سے بڑی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) جو تقریباً 20 فیصد حمایت کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے، کسی بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کا امکان نہیں رکھتی، کیونکہ تمام بڑی جماعتیں اسے غیر جمہوری قرار دے کر اس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔
انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے؟ کون سی جماعت حکومت بنائے گی؟ اور نئے انتخابی نظام کا اصل اثر کیا ہوگا؟ ان سوالات کے جوابات اتوار کی ووٹنگ کے بعد سامنے آئیں گے۔