وزیرستان میں تیل اور گیس کی دریافت: اثرات سامنے آنے میں ’وقت لگے گا‘

وزیر برائے پٹرولیم کہہ چکے ہیں کہ پسماندہ افراد کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لیے مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب اس تصویر میں بلوچستان میں زرغون ساؤتھ گیس فیلڈ کو دکھایا گیا ہے۔ (فائل فوٹو/ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ)

ماڑی اینرجی کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔ جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات آنے میں وقت لگے گا۔

ماڑی اینرجی لمیٹڈ جس کا پرانا نام ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ تھا، نے منگل کو ایک اعلامیے میں اس دریافت کا اعلان کیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ماڑی اینرجی لمیٹڈ 55 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کے ساتھ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے 35 فیصد اور اورینٹ پیٹرولیم انکارپوریشن کے 10 فیصد اشتراک کے ساتھ وزیرستان کے بلاک میں کام کرتا ہے۔

ماڑی اینرجی پاکستان کی سب سے بڑی توانائی اور ایکسپلوریشن کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کمپنی سال 1984 میں پاکستان میں قائم ہونے والی پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے۔

ماڑی انرجی لمیٹڈ قدرتی گیس پیدا کرنے والی دوسری بڑی کمپنی ہے جو صوبہ سندھ کے علاقے ڈہرکی میں ملک کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر کو چلاتی ہے۔

اس سے قبل وزیر برائے پٹرولیم سینیٹر مصدق ملک ’پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تیل اور گیس کی تلاش کے لیے 40 آف شور اور 31 آن شور بلاکس کی پیشکش اور سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولتیں فراہم” کرنے سے متعلق بیان دے چکے ہیں۔

وزیر برائے پٹرولیم کہہ چکے ہیں کہ پسماندہ افراد کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لیے مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن اس دریافت کی پاکستان کے توانائی کے منظر نامہ پر کیا اہمیت ہو سکتی ہے؟ اور اس کا ملکی معیشت خصوصی طور پر توانائی کی ضروریات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کے لیے ماہرین سے بات کی ہے۔

سرمایہ کاری بورڈ کے سابق چیئرمین اور معیشت کے ماہر ہارون شریف نے حالیہ گیس کے ذخائر کی دریافت کو توانائی کے منظرنامہ پر انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کو اس کے شفاف اور آزادانہ ہونے سے مشروط کیا ہے۔

ہارون شریف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھی بات ہے کہ پاکستان توانائی کے کچھ ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ بہت جلد ہے کیونکہ بلاکس کی نیلامی اور آزادانہ assessments ابھی ہونا باقی ہیں۔‘

ہارون شریف سمجھتے ہیں کہ حکومت کو غیر ضروری طور پر ہائپ نہیں بنانی چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے آف شور اور آن شور بلاکس سے متعلق کہا کہ یہ ’صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھلے نہیں ہونے چاہیے بلکہ انہیں پاکستانی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کے لیے یکساں شرائط پر کھلا ہونا چاہیے۔ جو تکنیکی لحاظ سے برتر ہے، اسے ملنا چاہیے۔‘

ہارون شریف کہتے ہی ںکہ ’بولی لگانے کا عمل شفاف اور آزادانہ طور پر ہونا بہت اہم ہے اور وزارت توانائی و پٹرولیم کو یہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہوگا۔

’نجکاری کے عمل میں setbacks ملنے کے بعد اس شعبے میں بھی شکایات مل سکتی ہیں۔ مالیاتی مشاورتی کمپنی کو ان چیزوں کا شفاف طریقے سے انتظام کرنا چاہیے۔ جہاں ایکسپلوریشن ہونی ہو ان متعلقہ علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ کسی قسم کی نقل مکانی نہ ہو بلکہ انہیں معاشی فائدہ ہو۔‘

توانائی و معیشت کے ماہر سسٹینیبل ڈولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ایگزکٹو ڈائیریکٹر عابد سلہری نے طاقت ور درآمدی کاروبار کے اثر و رسوخ کو گیس اور تیل کے ذخائر پر کام نہ ہونے کی وجہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے ایکسپلوریشن سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی آگے کی سوچ ہے۔

عابد سلہری کے مطابق ’تاریخی طور پر چونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی سکیور ٹی صورت حال کے پیش نظر ملک میں توانائی کی تلاش کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔

’تاہم پاکستان کے تیل اور گیس کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ تیل اور گیس کے شعبے میں طاقت ور درآمدی کاروبار کے اثر و رسوخ کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اثر و رسوخ مارکیٹ میں اپنی جگہ قائم رکھنے کے لیے ڈومیسٹک ایکسپلوریشن کرنے کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ اس سے ملکی معیشت پر فوری اس دریافت کے اثرات سامنے آنا قبل از وقت ہوگا۔‘

دوسری جانب ہارون شریف نے اس دریافت سے ملکی معیشت پر اثرات پر بات کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ سب سے بتائے کہ اس نے کیا بہتری یا منصوبہ بندی کی ہے تاکہ لوگ حکومت کے اقدامات سے منافع کا اندازہ لگا سکیں۔

انہوں نے کہا ’ان اقدامات کے نتائج میں 20-25 سال لگیں گے اور یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ ہماری توانائی کی ضروریات کل پوری نہیں ہوں گی، اس میں وقت لگتا ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت