اشرف غنی اور زیلنسکی کے مستقبل ایک جیسے ہوں گے؟

امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین کی جنگ اور امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار میں بہت سی دلچپس مماثلتیں اور چند تضادات بھی ہیں۔

دو ملک، دو صدور اور ان کی ملتی جلتی صورت حال (روئٹرز)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت میں افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کو نظر انداز کرکے طالبان سے معاہدہ کیا جو کابل حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ اب ٹرمپ تقریبا وہی کام یوکرین کے صدر وولادی میر زیلنسکی کے ساتھ کر رہے ہیں، تو کیا وہاں بھی وہ روس کو فتح دلا کر چھوڑیں گے؟

امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین کی جنگ اور امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار میں بہت سی دلچپس مماثلتیں اور چند تضادات بھی ہیں۔

ایک جنگ زدہ ملک افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی سیاسی طور پر کمزور لیکن زیلنسکی کی طرح مغرب اور امریکہ پر کچھ زیادہ ہی انحصار کرنے والے تھے۔ سو وہی ان کے ساتھ ہوا جو یہ عالمی طاقتیں چاہتی ہیں۔ اب زیلنسکی کا مستقبل کیا ہے؟

ٹرمپ زیلنسکی اور اشرف غنی دونوں پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، زیلنسکی تیار ہوگئے لیکن اشرف غنی نے اسے ایک ’غلطی‘ قرار دیتے ہوئے انکار کیا تھا۔ زیلنسکی کو تاہم اپنی پارلیمان سے ٹرمپ کے خلاف حال ہی میں حمایت ملی ہے جس نے جنگ کے خاتمے تک انتخابات منعقد کروانے سے انکار کیا ہے۔

24 فروری 2022 کو یوکرین پر روس کے حملے کے بعد وولادی میر زیلنسکی نے ایک فوجی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور جنگ کے خاتمے تک انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔

یوکرین جنگ کے تین سال کے دوران وہاں کی حکومت اور عوام کا بنیادی فیصلہ یہ تھا کہ ’یوکرین کے بغیر یوکرین‘ پر کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔

اشرف غنی حکومت نے بھی دوحہ میں جاری طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کی مخالفت کی۔ ان کا اصرار تھا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات افغان حکومت کے ذریعے اور ملکی آئین کی چوکاٹھ میں ہونے چاہیں۔

اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نکتے کو اہمیت نہیں دی اور افغان حکومت اور آئین دونوں کو مذاکرات کی میز پر کوئی جگہ نہیں دی۔ بات چیت کے لیے قائم ہائی پیس کونسل کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔

بعض مغربی ممالک بھی افغانستان جیسی صورت حال کے خوف سے دوچار ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ افغانستان جیسی صورت حال دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

امریکہ نے روس کے ساتھ مذاکرات میں اب تک یوکرین کو مدعو نہیں کیا ہے۔

اشرف غنی امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات سے خوش نہیں تھے لیکن انہوں نے کھل کر ٹرمپ پر تنقید نہیں کی۔ اس کی بجائے انہوں نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقاتوں میں اپنے غصے کا اظہار کیا۔

ان کا مشہور بیان تھا کہ ’مستقبل کا تعین افغانستان کے عوام کریں گے نہ کہ میز کے پیچھے بیٹھا کوئی شخص جو خواب دیکھ رہا ہے۔‘

تاہم ٹرمپ نے اشرف غنی کے خلاف اس وقت کوئی براہ راست بات نہیں کی تھی تاہم زیلنسکی کو مسلسل ’آمر‘ جیسے الفاظ سے نواز رہے ہیں۔

جواب میں زیلنسکی نے بھی کھلے عام ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ روس کے ’غلط معلومات کے جال‘ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ذاتی توہین‘ قرار دیا۔

زیلنسکی کے حوالے سے ٹرمپ کی زبان سخت ہو گئی ہے۔ وہ اسے یوکرین کے لیے اپنے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں اور زیلنسکی کی جلد اقتدار سے علیحدگی پر اصرار کرتے ہیں۔ زیلنسکی کو اقتدار سے ہٹانا پوتن کی خواہشات میں سے بھی ایک ہے۔

یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کا آغاز ریاض میں ہوا جس میں یوکرین کے علاوہ نیٹو اور یورپی نمائندوں کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔

اگرچہ یورپ اور نیٹو نے امریکہ کے شانہ بشانہ افغانستان میں دو دہائیوں تک جنگ لڑی تھی لیکن یہی لائحہ عمل افغانستان پر بھی امریکہ نے اختیار کیا تھا اور انہیں دوحہ میں مدعو نہیں کیا۔

دوحہ میں بات چیت کے ہر دور کے بعد، زلمے خلیل زاد نے برسلز، کابل اور علاقائی دارالحکومتوں کا دورہ کیا تاکہ انہیں مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

2021 میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور کچھ رکن ممالک افغانستان میں رہنا چاہتے تھے لیکن حتمی فیصلے میں انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جہاں تک بات یوکرین کی بات ہے تو وہاں بھی نیٹو امریکی مدد کے بغیر ہتھیار فراہم نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے تیار کردہ امن منصوبے میں بظاہر افغانستان کے اندر قومی مذاکرات میں افغان حکومت کی شرکت کی شرط رکھی گئی تھی لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی۔

یوکرین میں ٹرمپ نے بظاہر مذاکرات کے آغاز سے قبل پوتن کی تمام شرائط جن میں نیٹو میں یوکرین کی عدم شمولیت بھی شامل ہے، قبول کر لی ہے۔

ٹرمپ کی نظریں معدنی وسائل پر

اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران ٹرمپ نے افغانستان کی کانوں اور زیر زمین وسائل سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ وہ وسائل جن کی مالیت امریکیوں نے ایک سے تین ٹریلین ڈالر کے درمیان بتائی تھی۔ لیکن وہاں بات کچھ آگے نہ بڑھی۔

افغانستان کے مقابلے میں یوکرین کے حوالے سے وہ معدنی دولت کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ فوربس میگزین کے مطابق یوکرین کے معدنی ذخائر کا تخمینہ تقریباً 15 ٹریلین ڈالر ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے اپنے معدنی وسائل کا آدھا حصہ امریکہ کے حوالے کرنے کی پیشکش کے جواب میں، زیلنسکی نے ابتدا میں کہا کہ ’میں اپنا ملک نہیں بیچ سکتا۔‘ لیکن اب اطلاعات ہیں کہ وہ جمعے کو ٹرمپ سے متوقع ملاقات میں معدنی وسائل کے بارے میں کوئی معاہدہ پیش کرنے والے ہیں۔

ایک فرق یہ بھی ہے کہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ اور یورپ ایک پیج پر تھے، لیکن یوکرین کےمعاملے پر دونوں میں شدید اختلافات ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کی طرح یوکرین سے بھی اپنا بوریا بسترا اٹھا کر نکل جائے گا یا اس ملک کا مستقبل افغانستان سے کچھ مختلف ہوگا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل