لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پانی کا ری سائیکلنگ پلانٹ نہ لگانے والے سٹیشن مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) نے 35 سروس سٹیشن سیل کیے ہیں جبکہ 22 مالکان کے خلاف مقدمات درج کرائے ہیں۔
دوسری جانب شہر کے بیشتر سروس سٹیشنز پر پانی ری سائیکل کر کے استعمال کیا جا رہا ہے۔
واسا کے ترجمان امتیاز غوری کے مطابق ’شہر میں ری سائیکلنگ پلانٹ کے استعمال سے روزانہ زیر زمین کئی سو گیلن صاف پانی ضائع ہونا بند ہو گیا ہے، البتہ جو ری سائیکلنگ پلانٹ نہیں لگا رہے ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
’گھروں میں بھی گاڑیاں دھونے پر پابندی سے زیر زمین پانی کی بچت ہو گی۔‘
گذشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے سموگ عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران ری سائیکلنگ پلانٹ استعمال کیے بغیر سروس سٹیشن چلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا اور گھروں میں گاڑیاں دھونے پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لاہور میں آٹو سروس سٹیشن ری سائیکلنگ پلانٹ کس طرح کام کر رہے ہیں اور اس سے زیر زمین پانی کی بچت کا طریقہ کیا ہے، انڈپینڈنٹ اردو نے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
گلبرگ کے سروس سٹیشن پر لگے ایک ری سائیکلنگ پلانٹ کے بارے میں سٹیشن انچارچ محمد نعیم نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ ری سائیکلنگ پلانٹ اس لیے لگوایا ہے کہ زیر زمین سے لے کر پانی استعمال کرنے کی بجائے پانی کو ری سائیکل کر کے دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے۔
’حکومت کی پابندی کے باعث یہ پلانٹ لگوایا تو معلوم ہوا کہ اس پر زیادہ خرچ نہیں آتا، ایک ڈیڑھ لاکھ روپے میں لگ جاتا ہے۔‘
یہ پلانٹ سروس سٹیشن کے سروس ایریا کے ساتھ ہی چھوٹی سی جگہ پر لگایا گیا ہے۔
نعیم کے بقول: ’ایک بار موٹر سے زیر زمین پانی استعمال ہوتا ہے پھر وہی پانی استعمال کے بعد پائپ کے ذریعے ایک زیر زمین ٹینک میں میں چلا جاتا ہے۔ وہاں سے سیلنڈر میں ایک عمل سے گزرنے کے بعد مٹی اور صابن پانی سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد تین فلٹرز کی مدد سے پانی مزید صاف ہو جاتا ہے۔
’صرف فلٹر ہفتے میں ایک دو بار نکال کر صاف کرنے پڑتے ہیں تاکہ پانی پوری طرح صاف رہے، پھر یہ پانی پائپ کے ساتھ لگے میٹر سے چیک ہوتا ہے کہ کتنا صاف ہو رہا ہے۔ اس پانی کو موٹر پمپ کے ذریعے دوبارہ پریشر کے ساتھ گاڑیاں اور موٹر سائیکل سروس کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم دن میں 30 کے قریب گاڑیاں اور کم وبیش 100 موٹر سائیکل سروس کرتے ہیں۔ پہلے سروس کے لیے زیر زمین صاف پانی استعمال ہوتا تھا جو 40,50 گیلن تک ہوتا تھا، لیکن جب سے ری سائیکل پلانٹ لگا ہے زیر زمین پانی بہت کم استعمال ہوتا ہے۔
’اس سے خرچہ بھی کم ہوا ہے، پہلے زیر زمین پانی کھینچنے کے لیے موٹر چلائی جاتی تھی جو زیادہ بجلی لیتی تھی، لیکن اب صرف پمپ چلتا ہے تو بجلی کا بل بھی کافی کم ہو گیا ہے۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکل دھونے کے لیے بار بار اسی پانی کو ری سائیکل کر کے استعمال کرنے سے صفائی میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔‘
حکومت پنجاب نے گھروں میں بھی گاڑیاں دھونے پر پابندی عائدکی ہے، جس کے بعد شہری اب صرف سروس سٹیشن پر ہی گاڑیاں سروس کروا سکیں گے۔
گاڑی سروس کرانے کے لیے آئے ہوئے ایک شہری حماد علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے گھر میں گاڑی سروس کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ زیر زمین پانی کا ضیاع روکنا بتایا گیا ہے، لہٰذا یہ اقدام ہے تو شہریوں کی ہی بہتری کے لیے، اس وجہ سے میں اب گاڑی سروس سٹیشن سے سروس کروانے آیا ہوں۔
’گاڑی گندی ہو تو سروس کروانا لازمی ہوتی ہے کیونکہ گاڑی کے اندر مٹی اور گرد جمع ہونے سے اندر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، باہر سے بھی سروس نہ کروائیں تو باڈی خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔‘
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سروس سٹیشنز پر ری سائیکل پلانٹ کی پابندی سے متعلق عمل درآمد رپورٹ طلب کی تھی جو واسا حکام نےعدالت میں پیش کر دی تھی۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شہر میں موجود تین سے 350 سروس سٹیشن میں سے بیشتر احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ جہاں ری سائیکل پلانٹ نصب نہیں کروائے گئے ان 35 سروس سٹیشنز کو سیل کر دیا گیا جبکہ 22 سٹیشن مالکان کے خلاف مقدمات درج کروا دیے گئے ہیں۔
عدالت نے واٹر کمیشن کی رپورٹ پر زیر زمین پانی کے ضیاع سے پانی کی سطح نیچے ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے زیر زمین پانی کی بچت سے متعلق اقدامات کا حکم دیا تھا۔