خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پیر کو نامعلوم افراد کا نشانہ بننے والے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما قاری الیاس کے قتل کی ذمہ داری عالمی شدت پسند گروہ داعش نے قبول کر لی۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ چند مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے قاری الیاس کے قتل کے خلاف باجوڑ میں مظاہرین نے ڈی پی او کے دفتر کے باہر دو روز سے دھرنا دے رکھا تھا اور گذشتہ روز بھی تمام بازار بند رہے اور مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال تھی۔
قاری الیاس بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی ایف کے جنرل کونسلر کے لیے نامزد امیدوار تھے۔ ان کے دوست اور پڑوسی بلال یاسر کے مطابق انہیں گذشتہ روز خار کے علاقے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایم اے کا پرچہ دے کر واپس آ رہے تھے۔
واقعے کے بعد صورت حال بگڑنے کی وجہ سے، باجوڑ پولیس نے ٹوئٹر پر کہا کہ پولیس ملزمان کو پکڑنے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے، جن میں چند افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق: ’ ڈی پی او باجوڑ عبدالصمد فورس کو فرنٹ سے لیڈ کررہے ہیں جبکہ علاقے میں سخت سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جاری ہے۔‘
باجوڑ پولیس کی ماموند کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کاروائیاں،قاری الیاس قتل کیس میں مشکوک افراد گرفتار کرلئے گئے۔مزید کاروائی جاری
— KP Police (@KP_Police1) November 23, 2021
تکنیکی اہلکاروں کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ڈی پی او باجوڑ عبدالصمد فورس کو فرنٹ سے لیڈ کررہے ہیں جبکہ علاقے میں سخت سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جاری ہے۔ pic.twitter.com/EiqVWh8dUG
دھرنے کے شرکا کے مطابق اس وقت بھی دھرنے میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور نماز جنازہ بھی اسی مقام پر ادا کی جائے گی۔
احتجاج کے باعث سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ اطلاعات کے مطابق، ضلعی عدالت میں آج کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا۔
دوسری جانب باجوڑ بار نے بھی ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ علاقے کی خواتین نے کالے جھنڈے اور سروں پر کالی پٹیاں باندھ کر دھرنے میں شرکت کی۔
واقعے کے بعد، سابق گورنر شوکت اللہ خان اور تاجر برادری نے دھرنے کے شرکا کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے۔
باجوڑ کے رہائشی اور قاری الیاس کے پڑوسی بلال یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھرنا ابھی جاری ہے اور پہلی مرتبہ خواتین بھی احتجاج کے لیے نکل آئی ہیں۔
بلال نے بتایا: ’ڈی پی او باجوڑ عبدالصمد خان نے قاری الیاس کی موت سے قبل کئی بار انہیں اطلاع دی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس سے خطرہ ہے اور کیوں۔‘
انہوں نے کہا: ’احتجاج کے شرکا نے ڈی پی او کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ کیا ہے اور جب تک ان کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔‘
قاری الیاس اور بلاول یاسر دونوں کا ایک ساتھ ایم اے اسلامیات کا پیپر بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل قاری الیاس کے بھائی مفتی سلطان محمد کو بھی گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو نے ڈی پی او عبدالصمد خان کے ساتھ کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔