پاکستان 22ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپیئن شپ (BFAME) کی میزبانی کر رہا ہے۔
لاہور میں جاری پاکستان برج فیڈریشن لاہور میں پاکستان پہلی بار انڈیا، فلسطین، متحدہ عرب امارات، اردن اور بنگلہ دیش جیسے مختلف ممالک کی ٹیموں کی میزبانی کی ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ چیمپیئن شپ اس سے قبل اردن، دبئی اور انڈیا میں منعقد کی جا چکی ہیں۔ یہ تیسرا موقع ہے جب پاکستان BFAME چیمپیئن شپ 2023 میں بین الاقوامی ٹیموں کی میزبانی کی ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے 12 سال قبل ان مقابلوں کی میزبانی کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اس چیمپئین شپ میں حصہ لینے والی انڈین ٹیم کی ایک خاتون کھلاڑی اور کوچ سے بات چیت کی۔
کرن نادر دہلی سے پاکستان آئی ہیں اور یہ ان کا پاکستان کا چھٹا دورہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انڈیا میں ایک نجی آرٹ میوزیم چلاتی ہیں جبکہ برج کے مقابلوں میں وہ 36 برس سے حصہ لے رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ میچ دیکھنے کے لیے بھی پاکستان دیکھنے آتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ دورہ بہت ہی اچھا رہا اور انہیں یہاں کی مہمان نوازی پسند آئی۔ کرن کا کہنا تھا کہ جس طرح فیڈریشن نے ان کا خیال رکھا وہ قابل تعریف ہے۔
انڈیای ٹیم کے کوچ ونے دیسائی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ دوسری بار پاکستان آئے ہیں اس سے پہلے وہ 20 برس پہلے برج کی چیمپیئن شپ ہی کھیلنے کراچی آئے تھے۔
ونے نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے 24 کھلاڑی پاکستان آئے جبکہ چار کوچز الگ سے ہیں۔
ونے نے کہا کہ پاکستان آ کر عجیب نہیں لگتا کیونکہ دونوں ممالک کے لوگ لگ بھگ دیکھنے میں ایک ہی جیسے ہیں، اس لیے انہیں یہی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے ہی گھر میں ہیں۔
ونے کہتے ہیں کہ کرکٹ اور برج میں بہت فرق ہے۔ برج میں ہارنے کے بعد کھلاڑی وہ ردعمل نہیں دیتے جو کرکٹ میں دیا جاتا ہے۔ ’کرکٹ اور ہاکی میں جو پریشر ککرجیسی صورت حال ہوتی ہے وہ برج میں نہیں ہے کیونکہ یہ جسمانی کھیل نہیں ہے، جب کہ کرکٹ چونکہ جسمانی کھیل ہے تو اس میں مسئلہ بنتا ہے۔ برج دماغ کا کھیل ہے اس لیے اس کا مقابلہ کرکٹ سے نہیں کر سکتے۔‘
ونے کا کہنا تھا کہ مہچز میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی انہیں بہت اچھی لگی خاص طور پر اوپن ٹیم اور خواتین کی ٹیم میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی اعلیٰ تھی۔
پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی محسن چاندنا سابق سیکریٹری آئی پی سی ہیں اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ وہ بین الاقوامی سطح پر برج بھی کھیلتے ہیں۔
محسن چاندنا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’80 کی دہائی میں پاکستان اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتا تھا۔ لیکن پھر یہ کھیل زوال پذیر ہوا اور 90 کی دہائی کے بعد ہم نے کوئی میڈل نہیں جیتا۔‘
محسن نے بتایا کہ اب کھلاڑی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم اپنی گیم کو بہتر کریں تاکہ ہم اپنا جھنڈا عالمی سطح تک لے کر جائیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا: ’اس مرتبہ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم اب تک دوسری پوزیشن پر ہیں اور ہم ورلڈ چیمپیئن شپ جو ستمبر میں مراکش میں ہو گی، اس کے لیے کوالیفائی کریں گے۔‘
تاش کا کھیل جو اولمپکس میں شامل ہے
برج کے کھیل میں تاش کے 52 کارڈ استعمال ہوتے ہیں۔ اسے چار کھلاڑی دو دو کی ٹیموں میں کھیلتے ہیں۔ کھلاڑی ایک میز کے گرد ایک دوسرے کے مخالف بیٹھے ہوتے ہیں۔ برج شطرنج اور ڈرافٹ جیسے دماغی کھیلوں کے مترادف ہے اور یہ واحد کارڈ گیم ہے جو ورلڈ کپ، اولمپکس، ایشین گیمز اور مقامی ٹورنامنٹس میں شامل ہے۔
پاکستان برج فیڈریشن کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں لوگ کلبوں، ٹورنامنٹس، آن لائن اور گھر پر دوستوں کے ساتھ برج کھیلتے ہیں، جو یہ دنیا کی مقبول ترین کارڈ گیمز میں سے ایک ہے۔
فیڈریشن کے خیال میں 22ویں BFAME چیمپیئن شپ دیگر بین الااقوامی گیمنگ ایونٹس کی طرف زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرے گی اور فیڈریشن ورلڈ گیمز اور اولمپکس کے لیے برج کی پاکستانی ٹیموں کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پاکستان برج فیڈریشن اگلے چند سالوں میں متعدد ایونٹس اور ٹرائلز بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ گیم کو ترقی دی جا سکے اور پاکستان کو عالمی ایونٹس میں شرکت کی اجازت دی جا سکے۔ BFAME چیمپیئن شپ کے لیے ٹیموں کا انتخاب بھی فیڈریشن کی جانب سے 2022 میں ہونے والے ٹرائلز کے ذریعے کیا گیا ہے۔