پاکستان کے دفتر خارجہ نے بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہونے والی سیاحتی آبدوز میں سوار پاکستانی شہریوں کے خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے سرچ مشن میں شریک ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم داؤد خاندان اور دیگر مسافروں کے اہل خانہ سے بحراوقیانوس میں ٹائی ٹینک کے حوالے سے آنے والی افسوس ناک خبروں پر اظہار تعزیت کرتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اس آبدوز کی تلاش کے لیے گذشتہ کئی روز سے جاری کثیرالملکی سرچ مشن کی تعریف کرتے ہیں۔‘
ادھر داؤد فاؤنڈیشن نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں ٹائی ٹن میں سوار لاپتہ پاکستانی مسافروں شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد کی اموات کی تصدیق کی ہے۔
— Dawood Foundation (@DawoodTdf) June 22, 2023
بیان کے مطابق شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے زیر آب لاپتہ ہونے والی آبدوز میں سوار تھے۔
بیان میں ریسکیو میں شریک افراد اور ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکی کوسٹ گارڈ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ٹائی ٹینک کے قریب ملبے کے آثار دریافت ہوئے ہیں جن کا ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملبے کے آثار ریموٹ کنٹرول گاڑی کی مدد سے دریافت ہوئے اور ریسکیو آپریشن میں ملوث ماہرین نئی ملنے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹائی ٹینک کے ملبے دیکھنے کے لیے جانے والی آبدوز میں سوار پانچ افراد میں سے ایک برطانوی تاجر ہمیش ہارڈنگ بھی تھے جن کے اہل خانہ نے جمعرات کو انہیں ’پرجوش مہم جو‘ کے طور پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں ہونے والے ’تباہ کن دھماکے‘ کے نتیجے میں آبدوز میں سوار پانچوں افراد جان سے گئے جس کے بعد آبدوز کی تلاش اور بچاؤ کا کثیر القومی آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا جب آبدوز چار دن قبل شمالی بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہو گئی تھی۔
سیاحتی آبدوز کے 58 سالہ سیاح ہمیش ہارڈنگ برطانیہ میں ہوا بازی کے شعبے میں بڑا نام تھے۔ انہوں نے تین گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کر رکھے تھے۔
ہارڈنگ کے خاندان اور ان کی کمپنی ایکشن ایوی ایشن کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ’دوسرے خاندانوں کے غم میں بھی برابر کے شریک ہیں جنہوں نے ٹائی ٹن نامی آبدوز پر اپنے پیاروں کو کھو دیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ ایک خاص شخص تھے اور ہم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔
’وہ ایک پرجوش ایکسپلورر تھے جنہوں نے اپنی زندگی خواہ کچھ بھی ہو جائے اپنے خاندان، اپنے کاروبار اور اگلی مہم جوئی کے لیے بسر کی۔‘
بیان میں ہارڈنگ کو ’محبت کرنے والا شوہر اور اپنے دو بیٹوں کے لیے ایک شفیق والد‘ کہا گیا ہے۔
بیان کے مطابق: ’انہوں نے زندگی میں جو کامیابی حاصل کی وہ واقعی قابل ذکر ہے اور اگر ہم اس سانحے سے کوئی چھوٹی سی تسلی لے سکتے ہیں تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں وہ کام کرتے ہوئے کھو دیا جس سے وہ پیار کرتے تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہارڈنگ نے ایکشن ایوی ایشن کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی کے دبئی اور لندن کے سٹینسٹڈ ہوائی اڈے میں دفاتر قائم ہیں۔ کمپنی طیارے خریدتی اور فروخت کرتی ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ہارڈنگ متحدہ عرب امارات میں مقیم ارب پتی کاروباری شخصیت تھے۔
اس سے قبل وہ 2004 میں، ایکشن ایوی ایشن قائم کرنے سے پہلے لاجسٹک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر پانچ سال تک انڈین شہر بنگلورو میں مقیم رہے۔
انہوں نے عملے ساتھ آبدوز میں سوار ہو کر گہرے سمندر میں طویل ترین دورانیے کا طویل ترین سفر کیا اور طیارے میں سوار ہو کر دنیا کے گرد تیز ترین چکر لگایا۔
ایک سال قبل انہوں نے ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی قائم کردی بلیو اوریجن نامی کمپنی کے ذریعے خلا کے سفر پر بھی گئے۔
ہارڈنگ کے ساتھ آبدوز کے فرانسیسی ماہر پال ہنری نارجیولے، پاکستانی نژاد برطانوی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان اور آبدوز کی مالک کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشنز کے چیف ایگزیکٹیو افسر سٹاکٹن رش بھی تھے۔
امریکہ کے ریئر ایڈمرل جان ماؤگر نے جمعرات کو بوسٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹائی ٹینک سے 500 میٹر (1600 فٹ) دور سمندری کی تہہ میں موجود ملبہ آبدوز کے پریشر چیمبر میں ہونے والے دھماکے سے مطابقت رکھتا ہے۔