لوگ فلم کے سپانسر کی بجائے عجیب مطالبات کرتے ہیں: زینب یونس

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی زینب یونس کی دستاویزی فلم ’ہم آواز‘ روس کے شہر کازان میں ہونے والے انٹرنیشنل مسلم فلمز فیسٹول کے لیے منتخب ہوچکی ہے لیکن سپانسر تلاش کرنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی زینب یونس کی فلم ’ہم آواز‘ روس کے شہر کازان میں ہونے والے انٹرنیشنل مسلم فلمز فیسٹیول کے لیے منتخب کرلی گئی ہے۔

یہ فلم اپنی کیٹیگری کی 700 سے زائد فلموں میں سے منتخب کی گئی ہے، جس کی کہانی بنیادی طور پر کوئٹہ کے ایک رہائشی شخص کے گرد گھومتی ہے، جن کی بیٹی کو لاہور کی ایک کمپنی میں ملازمت مل جاتی ہے اور وہ کوئٹہ سے لاہور منتقل ہونا چاہتی ہیں، لیکن ان کے والد کوئٹہ سے جانے کو تیار نہیں ہوتے۔

فلم بنانے کے لیے سپانسر کی تلاش زینب کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ انہوں نے بتایا: ’فلم بنانے کا سوچنا آسان ہے لیکن جب ہم نے اس فلم کو بنانے کا سوچا تو پہلا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ بجٹ کہاں سے آئے گا، جس کے لیے ہم نے کوشش کی کہ کوئی ہمیں سپانسر کرے، لیکن اس ریجن اور ہمارے صوبے کا ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہمیں سپانسر نہیں کیا جاتا، لوگ آپ کی قابلیت اور مہارت پر اعتماد نہیں کرتے۔‘

بقول زینب: ’اہم مسئلہ یہ ہے کہ فلم بنانے والوں کو کوئی سپانسر نہیں ملتا اور جو ادارے بنائے گئے ہیں، جن کا کام لوگوں کی مدد کرنا تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ویزہ لگوا دیں، ہمارا یہ کام کردیں تو ہم آپ کی فلم کو سپانسر کریں گے، ان کے مطالبات سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں، جس سے کوئی بھی شخص مایوس ہوجاتا ہے۔‘

فلم بنانے کے لیے زینب نے لاہور سے ٹیم منگوائی تھی۔ انہوں نے بتایا: ’جب فلم بن گئی تو اس کے ٹریلر کو دیکھ کر لوگوں نے اسے بہت پسند کیا اور پھر ہم نے اسے دنیا بھر کے فلم فیسٹیولز میں بھیجنے کا فیصلہ کیا، جس میں روس کے شہر کازان میں منعقد ہونے والا فیسٹیول بھی شامل ہے، جہاں سے ہمیں مثبت جواب ملا اور ہماری فلم منتخب کی گئی، یہ پہلی کوشش تھی جو کامیاب رہی، مزید بھی فیسٹیولز کے جواب کا انتظار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زینب نے بتایا کہ جب انہوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس وقت انہیں ویڈیو بنانے کا شوق تھا اور پھر ماسٹرز کے دوران انہیں فلمیں بنانے کے لیے مزید آگاہی ہوئی اور انہوں نے اپنے تھیسز کے پروجیکٹ کے لیے فلم بنانے کا سوچا اور یہ اسی کا حصہ ہے۔

بقول زینب: ’میں نے یہ آئیڈیا دیا تھا اور اس فلم کو کوئٹہ میں عکس بند کرنے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد مختلف مشکلات اور مراحل سے گزرنے کے بعد آخرکار میں فلم بنانے میں کامیاب ہوگئی۔‘

زینب نے بتایا کہ وہ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کے ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں۔

وہ مستقبل میں بھی فلم بنانے کے شعبے میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کا اپنا پروڈکشن ہاؤس ہو، جس کے لیے ان کی کوششیں جاری ہے۔

زینب نے بتایا کہ انہیں سفر کرنے کا بھی بہت شوق ہے اور ایک این جی او میں ملازمت کے دوران انہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل