پاکستان سٹاک ایکسچینج میں چھ سال بعد 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور

آخری بار ایس ای 100- انڈیکس 50 ہزار پوائنٹس کی حد سات جون 2017 کو عبور کیا تھا۔ جب 100- انڈیکس 50 ہزار 162 پر بند ہوا۔

کراچی میں تین جولائی 2023 کو سٹاک بروکر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتوں کا جائزہ لے رہے ہیں (فائل فوٹو اے ایف پی/آصف حسن)

پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں رواں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی مثبت رحجان رہا جہاں پی ایس ایکس کا بینچ مارک کے ایس ای 100- انڈیکس تقریباً چھ سال پانچ ماہ بعد 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔

پیر یعنی کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے اختتام پر 100 انڈیکس 49 ہزار 731 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

آخری بار ایس ای 100- انڈیکس 50 ہزار پوائنٹس کی حد سات جون 2017 کو عبور کیا تھا۔ جب 100- انڈیکس 50 ہزار 162 پر بند ہوا۔

پی ایس ایکس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق منگل کی صبح تقریباً 11 بج کر 23 منٹ پر سٹاک مارکیٹ کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 50 ہزار 17 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور کاروباری دن کے اختتام پر 49 ہزار 531 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ویب سائٹ کے مطابق رواں سال اکتوبر تک انڈیکس میں تین ہزار 700 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انڈیکس میں 2000 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ کاروباری ہفتے کے اختتام پر انڈیکس چھ سال کی بلند سطح 49 ہزار 493 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

سماجی  رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر حکومت پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج چھ سال بعد 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا ہے۔

بیان کے مطابق ’اپنی قدر مستحکم کرنے والا روپیہ، تیل کی قیمتوں میں کمی اور آئی ایم ایف کی مثبت رپورٹ، یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان کی معاشی بحالی کا اشارہ دیتے ہیں۔‘

دوسری جانب امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

منگل کو مسلسل 29ویں کاروباری دن روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا جہاں انٹر بینک میں ڈالر مزید سستا ہوا ہے۔

انٹر بینک میں ڈالر مزید ایک روپے 33 پیسے سستا ہو کر 275 روپے 50 پیسے کا ہو گیا ہے۔ گذشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 276 روپے 83 پیسے تھا۔

’الیکشن کی تاریخ کا اعلان سے مزید بہتری کی امید‘

پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سابق ڈائریکٹر اور اے کے وائی سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین یوسف نے پاکستان سٹاکیٹ مارکیٹ میں انڈیکس 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرنے کو پاکستانی معشیت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل اضافے، ملک میں مقامی طور پر تیل کی قیمت کم ہونے کے بعد مارکیٹ پر مثبت اثرات ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امین یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آنے والی مانیٹرنگ پالیسی میں کم شرح سود کی خبروں کے بعد لوگوں نے سٹاک ایکسچینج کا رخ کیا، اس لیے یہ ممکن ہو سکا۔ اگر آنے والے دنوں میں روپے کی قدرمیں مزید اضافہ ہوا تو اس کے مارکیٹ پر مزید مثبت اثرات ہوں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جب تیل کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو افراط زر پر اس کے مثبت اثرات ہوتے ہیں، مگر اب حکومت پر ہے کہ قیمتوں کی کمی پر عملی طور پر عمل درآمد کروائے۔‘

’خاص طور پر اشیا خورد و نوش کی قیمتوں کی کمی پر عمل درآمد کروایا جائے تو اس سے افراط زر میں کمی آئے گی، جو معشیت کی لیے بہتر ہوگی۔‘

امین یوسف کے مطابق ’آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی امید ہے، اگر کوئی بہت بڑی بری خبر نہیں ہوتی۔ اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو تو مزید بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت