فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے ایک ڈرون حملے میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کے قتل کے بعد اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گینٹز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ’خاص طور پر لبنان میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز رویے سے گریز کرے۔‘
حماس اور لبنانی سکیورٹی حکام نے گذشتہ روز کہا تھا کہ حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری منگل کی شام بیروت کے مضافات میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایک ڈورن حملے میں قتل کردیے گئے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے بینی گینٹز کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’خاص طور پر لبنان میں کسی بھی اشتعال انگیز رویے سے بچنا ضروری ہے اور فرانس ان پیغامات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر علاقے میں شامل تمام شراکت داروں تک پہنچانا جاری رکھے گا۔‘
صدر میکروں نے گینٹز کے ساتھ بات چیت میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ’دیرپا جنگ بندی‘ کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے غزہ میں شہریوں کی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور فلسطینی علاقے کے اندر انسانی بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسرائیل کی سلامتی کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لبنانی سکیورٹی ذرائع نے عرب نیوز کو بتایا کہ ڈرون حملے میں بیروت کے حارہ حریک کے علاقے میں ایک تین منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کی دوسری اور تیسری منزل پر حماس کے دفاتر تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اس کے اوپر کوئی منزل تعمیر نہیں کی گئی اس لیے فضا سے نشانہ بنانا آسان تھا۔‘
حماس کے الاقصیٰ ٹی وی چینل نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اسرائیلی حملے میں حماس کی مسلح شاخ القسام بریگیڈ کے ارکان سمیر فندی ابو عامر اور عزام الاقرع ابو عمار بھی جان سے گئے۔
دھماکے کے بعد فائر فائٹرز اور طبی عملے کے ارکان عمارت کے ارد گرد جمع ہو گئے جس کی تیسری منزل میں شگاف پڑ گیا تھا۔ سڑک کے کنارے اعضا اور گوشت کے دیگر ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے۔
اسرائیل باقاعدگی سے حماس کی اتحادی حزب اللہ تحریک کے خلاف لبنان کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد پر حملے کرتا رہتا ہے، لیکن غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد العاروری کا قتل پہلا واقعہ ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت کو نشانہ بنایا ہے۔
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے لبنان میں نائب رہنما صالح العاروری کے قتل کے بعد کہا ہے کہ حماس کو کبھی شکست نہیں دی جائے گی۔
ہنیہ نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا، ’ایک ایسی تحریک جس کے رہنما اور بانی ہمارے لوگوں اور ہماری قوم کے وقار کے لیے شہید ہو جاتے ہیں، اسے کبھی شکست نہیں دی جائے گی۔‘
حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم حزب اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس جرم کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، اس کی سزا دی جائے گی۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ جنگ کے دوران ایک خطرناک پیش رفت‘ اور ’لبنان پر ایک سنگین حملہ ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہاگری نے صالح العاروری کی موت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا کہ فوج اس کے بعد کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ’پوری طرح تیار ہے۔‘
اس حملے سے وسیع پیمانے پر ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ تقریباً تین ماہ سے جاری جنگ کے شعلے پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔