سینیٹ میں اب انتخابات بروقت منعقد کرنے کی قرارداد

سپریم کورٹ میں جمعے کو الیکشن ملتوی کرانے سے متعلق سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے خلاف آئینی درخواست بھی دائر۔

پانچ جنوری، 2024 کو اسلام آباد میں سینیٹ کے جاری اجلاس کی تصویر(نادر حسین)

سینیٹ میں ہفتے کو ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں پاکستان کے اندر عام انتخابات کو بلا تاخیر آٹھ فروری کی اعلان کردہ تاریخ پر کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ انتخابات کے التوا سے متعلق سینیٹ میں قرارداد منظور کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ 

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی پیش کردہ نئی قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن کا انعقاد آئینی ضرورت ہے اور انتخابات کو وقت پر ہونا چاہیے۔

نئی قرارداد میں جمعے کو الیکشن ملتوی کرانے کے حوالے سے منظور ہونے والی ایک قرارداد کو ’غیر آئینی اور غیر جمہوری‘ قرار دیا گیا۔

سینیٹر مشتاق احمد کی قرارداد کے مطابق: ’یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کا انعقاد وقت پر کرائے۔‘

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے بھی انتخابات کے انعقاد کا کہا ہے جبکہ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو لیول بلیئنگ فیلڈ یعنی یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر مانڈوی والا نے سینیٹر مشتاق احمد کی قرارداد کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ’لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انتخابات التوا کی قرارداد بالکل غلط تھی، اسے ختم کیا جانا اچھا ہے۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ اس قرارداد سے انتخابات التوا کا شکار نہیں ہوں گے۔ اس وقت اس قرارداد پر کیوں بات نہیں کی گئی؟ اسی وقت اس کی مذمت کی جانی چاہیے تھی۔‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے بھی بروقت انتخابات سے متعلق قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’انتخابات وقت پر ہونا بہت ضروری ہیں۔ ملک کے اندر آئینی ادارے موجود نہیں، آٹھ فروری کے بعد نگران سیٹ اپ کی قانونی طور پر وقعت نہیں ہوگی اور اس کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

’اس سے پہلے ہمیں آئینی و قانونی نظام چاہیے اور وہ تب ہی آ سکتا ہے جب آٹھ فروری کو الیکشن ہوں گے۔‘

سپریم کورٹ میں آئینی درخواست

سپریم کورٹ میں آج دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جمعے کو منظور ہونے والی قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے۔

درخواست کے مطابق سینیٹ میں جن اراکین نے اسے منظور کرنے میں کردار ادا کیا ان کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔

درخواست میں ’سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے‘ کی استدعا بھی کی گئی۔ 

سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق جمعے کو منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا کہ ’الیکشن کمیشن آٹھ فروری کا الیکشن شیڈول معطل کرے کیوں الیکشن کے لیے سازگار ماحول موجود نہیں، مولانا فضل الرحمٰن پر بھی حملہ ہو چکا ہے اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔‘

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صورتِ حال بہت خراب ہے، وہاں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ محکمۂ صحت بھی عندیہ دے چکا ہے کہ کرونا وائرس پھیل رہا ہے اور چھوٹے صوبوں میں الیکشن مہم چلانے کے لیے مساوی حق بہت ضروری ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست