فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے 2008 کے قومی انتخابات کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں ایک دلچسپ تبصرہ درج ہے۔
ادارے نے جن 246 حلقوں کا دورہ کر کے اعداد و شمار مرتب کیے، ان میں سے 61 حلقے ایسے تھے جہاں پڑنے والے ووٹوں کا تناسب 100 فیصد سے زیادہ تھا۔ بلکہ کچھ حلقے تو ایسے تھے جہاں 112 فیصد تک ووٹ ڈالے گئے۔
ان انتخابات میں کل ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 44 فیصد تھا، اس لیے ظاہر ہے کہ اگر ایک حلقے میں کل ووٹروں کی تعداد 100 ہے تو وہاں 112 ووٹ کیسے پڑ گئے؟
اس کی صاف وجہ دھاندلی یا بدانتظامی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ دھاندلی کی صرف ایک قسم ہے، اس کے علاوہ متعدد اقسام کی دھاندلیاں ہوتی ہیں جن کی مدد سے انتخابات کے نتائج کو مبینہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق موڑا جاتا ہے۔
1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے ’جھرلو‘ کی اصطلاح وجود میں آئی۔
تاہم 70 کی دہائی سے سیاسی کارکن اور صحافی کی حیثیت سے پاکستان میں انتخابات کا مشاہدہ کرنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ’دھاندلی زدہ انتخابات میں جن اسلامی نظام نافذ کرنے کے دعویداروں نے جتنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اتنی سیٹیں اس کے بعد کسی انتخابات میں نہیں جیتیں۔‘
پاکستان میں انتخابی، پارلیمانی اور گورننس کے عمل کے مشاہدے اور نگرانی کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے غیر منافع بخش تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے نیشنل کوآرڈینیٹر چوہدری رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابی قوانین موجود ہیں، جن میں 2018 کے انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئی ہیں، جو انتخابی بےضابطگیوں کے خلاف امیدواروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
دھاندلی
جعلی ووٹ ڈلوانے کے طریقے یا دوسرے کسی بھی غلط یا غیر قانونی عمل، جس کا مقصد کسی ایک امیدوار کو فائدہ پہنچا کر اس کی جیت اور نتیجتاً مخالف فریق کی ہار کو یقینی بنانے کی کوشش کرنا ہو، کو ’دھاندلی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ’دھاندلی زدہ‘ انتخابات کو ’غیر منصفانہ‘ اور ’غیر شفاف‘ کہا جاتا ہے۔
فافن کے چوہدری رشید کے مطابق: ’طاقت یا دوسرے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ووٹرز کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کو سیاسی زبان میں دھاندلی کہا جاتا ہے۔‘
پاکستان میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ غیر قانونی کام یا بےضابطگیاں کسی ایک حلقے یا کسی ایک انتخابات تک محدود نہیں ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان میں 1970 کے علاوہ ہونے والے ہر الیکشن ملکی قوانین میں درج ’آزاد،‘ ’شفاف‘ اور ’منصفانہ‘ ہونے کے معیارات پر کبھی بھی پورا نہیں اتر پائے اور ہر مرتبہ عوام کے حق رائے دہی کا عمل ’دھاندلی‘ کا شکار ہوتا رہا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کئی انتخابات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی پرویز شوکت کے خیال میں دھاندلی ’ہر انتخابات میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والے ہر الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔‘
پاکستان میں مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 35 سے 40 حلقوں میں دھاندلی کروا کر پورے نتائج کو بدلا جا سکتا ہے۔
صحافی شفقت منیر
تحقیق کے ذریعے معاشرے میں موجود گورننس اور جمہوریت کی خامیوں کو دور کرنے کی کوششیں کرنے والی پتن ترقیاتی تنظیم کے قومی رابطہ کار انور باری بھی اس تاثر سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں 1970 کے علاوہ ہر انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔‘
اسلام آباد میں کام کرنے والے سینیئر صحافی شفقت منیر کا کہنا ہے کہ انتخابات میں پولنگ کے روز دھاندلی ہر جگہ نہیں ہو رہی ہوتی، بلکہ اس کے لیے مخصوص حلقے چنے جاتے ہیں۔
ان کے خیال میں پاکستان میں مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 35 سے 40 حلقوں میں دھاندلی کروا کر پورے نتائج کو بدلا جا سکتا ہے۔
’ان چنیدہ حلقوں میں بلوچستان، مرکزی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کچھ حلقے شامل ہوتے ہیں۔‘
دھاندلی ایک سیاسی اصطلاح ہے، جو ہم استعمال نہیں کرتے۔ اس کے بجائے ہم قانون کی خلاف ورزی، بےضابطگیاں، غلط طریقے وغیرہ جیسی اصطلاحات کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
رشید چوہدری، فافن
ماہرین ’دھاندلی‘ کی حقیقت کا انکار کیے بغیر اسے ایک سیاسی اصطلاح قرار دیتے ہیں اور الیکشنز میں انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں کو ’بے ضابطگیاں،‘ ’غیر قانونی طریقے‘ یا ’کرپٹ پریکٹیسس‘ کے ناموں سے پکارتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس ’دھاندلی‘ کے بجائے انتخابی بےضابطگیوں یا غیر قانونی کاموں کے لیے ’الیکشنز کو مینیج کرنے‘ کی اصطلاح کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔
فافن کے رشید چوہدری کہتے ہیں: ’دھاندلی ایک سیاسی اصطلاح ہے، جو ہم استعمال نہیں کرتے۔ اس کے بجائے ہم قانون کی خلاف ورزی، بےضابطگیاں، غلط طریقے وغیرہ جیسی اصطلاحات کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے آزاد، منصفانہ اور شفاف ہونے کو صرف معیار کے حساب سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’آبزرورز کے لیے بھی ممکن نہیں کہ انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں یا غیر قانونی کاموں کا کسی منظم طریقہ کار کے مطابق مشاہدہ کر سکیں۔‘
پاکستان میں 1990 میں ہونے والے انتخابات کے بعد شکست خوردہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہوری اتحاد (پی ڈی اے) نے قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) میں قومی اسمبلی کی کئی نشستوں میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا، جب کہ ان انتخابات کا مشاہدہ کرنے والے امریکی ادارے نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی مشاہدے میں مجموعی نتائج کو کالعدم قرار دینے کے لیے واضح بنیادیں دستیاب نہیں اور زیادہ تر حلقوں کے نتائج رائے دہندگان کی مرضی کی عکاسی کرتے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابات کے بعد کی تحقیقات میں قومی اسمبلی کے تقریباً 15 فیصد حلقوں میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی لیکن ضروری نہیں کہ یہ مجموعی نتائج پر اثر انداز ہوئی ہوں۔
الیکشن کمیشن دھاندلی روکنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد کا کہنا تھا کہ انتخابات کروانے کے لیے فیلڈ میں الیکشن کمیشن کا کوئی اختیار یا کردار نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’فیلڈ میں انتخابات ضلعی انتظامیہ، عدلیہ یا دوسرے حکومتی محکموں سے حاصل کردہ عملہ کرواتا ہے۔‘
اس سلسلے میں انہوں نے ڈسکہ واقعے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پریزائڈنگ افسران نے تسلیم کیا کہ ان پر دباؤ تھا یا انہوں نے پیسوں کے عوض غیر قانونی کام کیے۔‘
کنور دلشاد نے مزید کہا کہ ’2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد جوڈیشل کمیشن بنایا گیا، جس نے فیصلہ دیا کہ ان الیکشنز میں دھاندلی نہیں ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، ’جب بھی نتائج کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف آتے ہیں وہ دھاندلی کے الزامات لگا دیتی ہے۔‘
کنور دلشاد کے خیال میں پاکستان عمومی طور پر بھی انتخابات کے نتائج کو ماننے کا مائنڈ سیٹ موجود نہیں ہے، حالانکہ ’چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ پاکستان میں انتخابات کے دوران کوئی منظم یا بڑے پیمانے پر کبھی دھاندلی نہیں ہوئی۔‘
’دھاندلی‘ کے طریقے
برطانوی پولیٹیکل سائنٹیسٹ نِک چیزمین اور ان کے برطانوی ہم منصب برائن کلاس کی 2018 میں چھپنے والی مایہ ناز کتاب How to Rig an Election میں دھاندلی کے طریقوں میں انتخابات کی ہیکنگ (غیر مجاز رسائی کے ذریعے من پسند نتائج حاصل کرنا)، ووٹ خریدنا، بیلٹ بکس بھرنا، اور تصورات کو منظم کرکے بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کو شامل کیا گیا ہے۔
کتاب انتخابی جمہوریت کے وسیع زمرے میں ہندوستان کو ’آزاد‘ اور پاکستان کو ’جزوی طور پر آزاد‘ انتخابات کے زمرے میں رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’انتخابی دھاندلی‘ صرف الیکشن شیڈول کے آنے کے بعد یا پولنگ کے روز نہیں ہوتی بلکہ یہ سلسلہ بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے اور پولنگ کے بعد تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔
انتخابی دھاندلی کو ’قبل از پولنگ ڈے دھاندلی‘’، ’پولنگ ڈے دھاندلی‘ اور بعد از پولنگ ڈے دھاندلی‘ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں الیکشنز مینج کرنے کے حربے پولنگ ڈے پر بہت کم ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر کام ووٹ ڈالنے والے دن سے قبل ہی مکمل کر لیے جاتے ہیں۔
یہاں ہم انتخابی دھاندلی کے مختلف مراحل اور طریقوں پر الگ الگ بحث کریں گے۔
قبل از پولنگ ڈے دھاندلی
مردم شماری
پاکستان میں ہر الیکشن سے قبل مردم شماری ایک ضروری عمل ہے اور یوں اس کا شمار انتخابی عمل کے پہلے اور اہم ترین حصوں میں ہوتا ہے۔
مردم شماری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر صوبوں، اضلاع، شہروں اور دیہاتوں یا علاقوں میں قومی یا صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔
کسی علاقے کی آبادی کو کم یا زیادہ کر کے وہاں کے لیے اسمبلیوں کی نشستوں میں فرق ڈالا اور مخصوص گروہ، سیاسی جماعت یا افراد کو فائدہ یا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس لیے کسی انتخاب میں دھاندلی کا منصوبہ بنانے والوں کے لیے مردم شماری ایک اہم مرحلہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت مردم شماری کے عمل کو سنجیدہ نہیں لیتی، حتیٰ کہ ایک آدھ پارٹی کے علاوہ سیاسی جماعتیں مردم شماری کے لیے تربیت یافتہ بھی نہیں ہیں۔
مظہر عباس، صحافی
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قبل از پولنگ ڈے دھاندلی کا آغاز دراصل مردم شماری کے مرحلے سے ہی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’مردم شماری میں گڑ بڑ کر کے اور اس نتائج کو مخصوص انداز میں ترتیب دے کر کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘
ماضی کی طرح 2024 کے عام انتخابات سے قبل گذشتہ سال ہونے والی پاکستان کی ساتویں مردم شماری بھی تنازعات کا شکار رہی اور اس کے نتائج کے خلاف ایک ہزار سے زیادہ اعتراضات دائر کیے گئے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت مردم شماری کے عمل کو سنجیدہ نہیں لیتی، ’حتیٰ کہ ایک آدھ پارٹی کے علاوہ سیاسی جماعتیں مردم شماری کے لیے تربیت یافتہ بھی نہیں ہیں۔‘
حلقوں کی تشکیل
مردم شماری کے بعد آبادی کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان پورے ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقے تشکیل کرتا ہے۔
حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی مجموعی نشستیں 272 سے کم ہو کر 266 ہو گئیں ہیں اور یہ کمی صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے لیے مختص سیٹوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی۔
پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی تشکیل میں سیاسی جماعتوں یا شخصیات کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ایسا بالکل ممکن ہے کہ کسی ایک ضلع میں حلقوں کی تشکیل میں کسی مخصوص جماعت کے ووٹرز کو حلقوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ وہ مخصوص جماعت کم سے کم نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکے۔
سینیئر صحافی پرویز شوکت اپنے صحافتی کیریئر کے دوران انتخابات کی کوریج یاد کرتے ہوئے کہا: ’کئی مرتبی دیکھنے میں آیا کہ کوئی امیدوار ووٹرز سے گاڑیاں بھر کر پولنگ سٹیشن لاتا ہے اور وہاں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کا ووٹ بھی وہاں درج نہیں ہے۔‘
ان کے خیال میں جس امیدوار کو جتانا ہوتا ہے اس کے مخالف ووٹرز کو کسی دوسرے حلقے میں رجسٹر کر دیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی طور پر اس طریقہ کار کو جیری مینڈرنگ کہا جاتا ہے، جس سے مراد انتخابی حلقوں کو اس طرح تیار کرنا ہے کہ ایک سیاسی حریف ووٹروں کی حمایت سے قطع نظر انتخابات میں نقصان اور اس کا مد مقابل فائدے کی پوزیشن میں آ جائے۔
نئی پارٹیوں کی پیدائش
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی سیاسی جماعتوں کا جوڑ توڑ شروع ہو جاتا ہے، جس کا مقصد مخصوص جماعتوں کو فائدہ یا نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبل از پولنگ ڈے دھاندلی میں شامل اس جوڑ توڑ کے نتیجے میں نئی جماعتیں بنائی جاتی ہیں، جب کہ سیاستدانوں سے وفاداریاں بھی تبدیل کروائی جاتی ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے 2018 کے انتخابات سے قبل بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) اور پنجاب میں جنوبی پنجاب محاذ جیسی جماعتوں کی تشکیل کی مثالیں دیں۔
’ان پارٹیوں کو بنانے کا مقصد پاکستان مسلم لیگ نواز کو عام انتخابات میں نقصان اور ان کے مخالفین کو فائدہ پہنچانا تھا۔‘
تاثر قائم کرنا
اکثر سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل اپنے اور اپنی پالیسیوں سے متعلق اچھا تاثر بناتی ہیں، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں جدید میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کا استعمال اس سلسلے میں بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا ٹیمز بھی رکھتی ہیں، جن کا کام ٹوئٹر، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر ان کے پیغام کو اجاگر کرنا ہے۔
میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے بعض جماعتیں یا امیدوار مشکوک سرویز اور پولز کا استعمال کر کے اپنی مقبولیت اور قبولیت کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ووٹرز یقیناً متاثر ہو سکتے ہیں۔
قبل از پولنگ ڈے دھاندلی کے دوسرے طریقے
انتخابات کا شیڈول آنے کے بعد اور پولنگ ڈے سے قبل بھی کئی طریقوں سے دھاندلی کی جاتی ہے، جن کا مقصد کسی مخصوص جماعت کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے یا ان کی منظوری میں رخنے ڈالنا ہوتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آٹھ فروری کے انتخابات کے لیے ان کے ممکنہ امیدواروں کی گرفتاری، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی چھیننے، تجویز اور تائید کنندہ گان کی گرفتاریوں، حلقے تبدیل کرنے، اور مقدمات درج کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔
موجودہ صورت حال پر مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ایک پارٹی کے اہم لوگوں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں یہ پہلے کبھی پاکستان میں نہیں ہوا تھا۔ ایک ہی جماعت کی پوری ٹیم اڑا دی گئی ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے الزامات کے سلسلے میں ٹریبولز کے فیصلوں کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 800 نشستوں پر کتنے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے۔
’اور اگر ایسا ہوا ہے تو وہاں فوجداری مقدمے کیوں نہیں درج کروائے گئے۔‘
مظہر عباس کے مطابق امیدواروں کی گرفتاریاں یا مقدمات کا درج ہونا پرانے حربے ہیں جو پاکستان میں گذشتہ انتخابات سے پہلے بھی دیکھے گئے تھے۔
قبل از پولنگ ڈے دھاندلی کا ایک طریقہ مخصوص حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی منظوری یا شروع کیا جانا بھی شامل ہو سکتا ہے، جس سے وہاں کے ووٹرز متاثر ہوتے ہیں اور اس عمل سے کسی جماعت یا امیدوار کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان میں ماضی میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران کئی ایسی مثالیں دیکھنے کو مل چکی ہیں، جن میں ووٹرز عین الیکشن کے عمل کے دوران امیدواروں سے ترقیاتی کاموں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
حلقے کے رہائشی گلیوں اور بازاروں میں بینرز آویزاں کرتے ہیں، جن پر اعلان موجود ہوتا ہے کہ قدرتی گیس کا کنکشن دینے یا گلیاں بنانے والے کو ووٹ دیا جائے گا۔
پاکستان میں کچھ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ امیدوار ووٹرز کے لیے پولنگ ڈے سے قبل شناختی کارڈز بنواتے ہیں، جن میں جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
پولنگ ڈے دھاندلی
پولنگ ڈے وہ دن ہے جب پورے ملک میں کروڑوں ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں اور تب پورے انتخابی عمل کے دوران سب سے زیادہ تناؤ دیکھنے میں آتا ہے، کیونکہ اسی روز امیدوار اور ان کے حامی آمنے سامنے ہوتے ہیں۔
امیدوار اور ان کے حامی اپنے حق میں زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالوانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس عمل میں ارادی بے ضابطگیوں کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔
ووٹ کی خرید و فروخت
پاکستان میں پولنگ ڈے پر ووٹرز کو پیسے دینے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ ووٹرز کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے پہلے یا بعد میں کھانا کھلانا اور انہیں گھر سے پولنگ سٹیشن تک لانے لے جانے کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کرنا ہمارے ملک میں عام باتیں ہیں۔
پولنگ سٹیشن پر قبضہ
ہمارے قارئین نے ماضی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی ویڈیوز دیکھی ہوں گی، جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پولنگ سٹیشن کے اندر پولنگ کا عملہ کسی ایک مخصوص امیدوار کے حق میں بیلٹ پیپرز پر مہریں ثبت کر رہا ہے۔
طاقت اور وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں، امیدوار یا ریاستی ادارے پولنگ سٹیشنز پر قبضہ کر سکتے ہیں، جس سے مراد ہے کہ وہاں کسی ایک مخصوص امیدوار کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔
سینیئر صحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ انتخابات کروانے والے نچلا عملہ محکمہ تعلیم سے لیا جاتا ہے، جو بلاشبہ اپنے علاقے کے ایم پی ایز یا ایم این ایز کے اثر میں ہوتے ہیں۔
’انہوں نے نوکریاں کرنا ہوتی ہیں جبکہ ان سے وعدے وعید بھی کیے جاتے ہیں اور امکان موجود ہوتا ہے کہ وہ دھاندلی کریں۔‘
تاہم ان کے خیال میں سنجیدہ کوششیں کر کے ایسی دھاندلی کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
پولنگ کا دورانیہ
سینیئر صحافی شفقت منیر نے کہا کہ کسی ایک مخصوص پولنگ سٹیشن پر پولنگ کا وقت کم کرنے یا بڑھانے سے نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ریٹرننگ افسر مختلف وجوہات کی بنا پر پولنگ رکوا بھی دیتے ہیں، جس سے کئی ووٹرز حق رائے دہی کے استعمال سے محروم رہ جاتے ہیں اور نتائج میں بھی فرق پڑتا ہے۔
گنتی میں گڑبڑ
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران پولنگ سٹیشن میں سب سے زیادہ تناؤ ہوتا ہے اور اس میں گڑ بڑ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ووٹوں کی گنتی کے دوران گڑ بڑ کا ایک امکان ووٹوں کا مسترد کیا جانا ہے، جس سے اور جیت کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔
فافن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013 کے انتخابات میں 35 حلقوں میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد ہارنے اور جیتنے والے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹو کے فرق سے زیادہ تھی۔
تاہم مظہر عباس کے خیال میں تربیت یافتہ پولنگ ایجنٹ کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی میں اونچ نیچ کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار افتخار احمد اب ووٹرز لسٹیں اتنی جامع ہیں کہ ووٹر اور ووٹ کی شناخت کوئی مشکل کام ہی نہیں رہا۔
’ووٹرز لسٹوں میں ووٹر کے نام و ولدیت کے علاوہ تصویر، شناختی کارڈ کا نمبر وغیرہ سب کچھ موجود ہوتا ہے اور ایسے میں شک و شبہے کی گنجائش تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔‘
بعد از پولنگ دھاندلی
بیلٹ بکس اٹھانا
پاکستان میں انتخابات کے دوران بیلٹ بکس (ووٹاں کا ڈبہ) غائب ہونے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں اور اس سلسلے میں 2018 کے الیکشنز میں پنجاب کے علاقے ڈسکہ کا واقعے کی مثال دی جاتی ہے۔
یہ امکان بھی موجود ہوتا ہے کہ کسی امیدوار کے حامی، انتخابی عملہ یا ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملے پولنگ سٹیشن سے ووٹوں کے ڈبے غائب کریں تاکہ بعدازاں اس میں اپنی پسند کے ووٹ ڈالے جا سکیں۔
سینیئر صحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ووٹو کے ڈبے پولنگ سٹیشن میں سے نہیں اٹھائے گئے، بلکہ اس سارے عمل میں ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کی مرضی اور مدد پولنگ سٹیشن سے باہر شامل تھی۔
ان کے خیال میں اس کے باوجود موبائل فون کی جیو فینسنگ کر کے ایسی حرکت کرنے والوں کو ٹریس کیا اور بعد ازاں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
نتائج کا تبدیل ہونا
پاکستان میں ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کی تبدیلی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں بلکہ جب ملک میں نجی ٹی وی چینلز کے معرض وجود میں آنے سے قبل کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ ’پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے نتائج اصل سے بالکل مختلف ہوتے تھے۔‘
ماضی کے انتخابات میں حصہ لینے والے کئی امیدوار ایسے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے ریٹرننگ افسران پر پولنگ ختم ہونے کے بعد انتخابات کے نتائج میں ترمیم کا الزام لگایا تھا۔
ڈسکہ میں پولنگ بکس غائب ہونے کے واقعات کا مقصد بھی گنتی کے بعد نتائج کی تبدیلی کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔
سینیئر صحافی شفقت منیر کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس کا عین وقت پر ناکارہ ہو جانا دراصل گنتی کے بعد نتائج تبدیل کرنے کی دھاندلی تھی۔
فافن کے رشید چوہدری کا کہنا تھا کہ انتخابات میں انتخابی عملے یا انتظامیہ کے کسی اہلکار کو کسی مخصوص امیدوار کو کسی قسم کی مدد فراہم کرنے کی صورت میں قانوناً ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جا سکتا ہے۔
دھاندلی کے 163 طریقے
پتن ترقیاتی تنظیم نے پاکستان میں دھاندلی کے مندرجہ ذیل 163 مبینہ طریقے ترتیب دیے ہیں، جو انتخابات میں ’مثبت‘ نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
(A) بین الانتخابی دھاندلی جس کے بڑے اثرات ہیں۔ (دائمی دھاندلی)
1. الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ اور اراکین کی تقرریاں
2. نگراں وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تقرریاں
3. ’مثبت نتائج‘ حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی یا سازش۔ آئی جے آئی کو فراہم کردہ مالی اور لاجسٹک سپورٹ کو یاد رکھیں۔
4. اعلیٰ سطح پر تعمیل کرنے والے اہلکاروں کی تبادلے/ترقیاں/پوسٹنگز۔
5. ضلعی سطح پر تعمیل کرنے والے اہلکاروں کے تبادلے/ترقیاں/تعیناتیاں۔
6. ترقیاتی منصوبوں، معاہدوں اور سرکاری کمیٹیوں میں شمولیت کے ذریعے مقامی دھڑے کے لیڈروں کو فوائد کی فراہمی۔
7. میڈیا: حکومت کے زیر اہتمام اشتہارات، ٹاک شوز، حقائق کو گھماؤ، جعلی خبروں اور آدھی سچائیوں کو پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال وغیرہ۔
8. سپانسر شدہ اور ناقص رائے شماری
9. قانون سازی: قوانین میں ترامیم (مثال کے طور پر نیب قانون اور الیکشن ایکٹ، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ای وی ایم اور آئی ووٹنگ کی سہولت کے استعمال کا خاتمہ)۔
10. حد بندی: جیری میننڈرنگ (انتخابی حدود قانونی معیارات پر غور کیے بغیر تیار کی جاتی ہیں)۔
11. انتخابی حلقوں میں ووٹ کی مساوات کے اصول کی خلاف ورزی۔
12. مخصوص حلقوں سے مخصوص برادریوں کو الگ کرنا یا خارج کرنا۔
13. انتخابی فہرستیں: مردم شماری کے بلاکس میں تبدیلیاں اور توڑنا۔
14. ایچ ایچس کی تقسیم، رضامندی کے بغیر ووٹروں کی منتقلی وغیرہ۔
15. آبادی کی مردم شماری: مکمل طور پر ناپسندیدہ کمیونٹیز کو صحیح طریقے سے شمار نہ کرنا، یعنی خواتین، ٹرانس جینڈر اور اقلیتیں۔
16. سیاسی پارٹیوں کے کھاتوں کی کوئی بھی یا منتخب جانچ پڑتال نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
17. اندرونی جماعتی انتخابات: الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن XI (سیاسی پارٹیز) کا کوئی بھی یا امتیازی نفاذ نہیں۔
18. ٹکٹوں کا اجرا: الیکشن ایکٹ 2017 کا کوئی نہیں یا منتخب نفاذ۔
19. ووٹرز کو پولنگ کے عمل اور ان کے حقوق سے آگاہ نہ کرنا کیونکہ لاعلم ووٹر ہیرا پھیری کا شکار ہوتا ہے۔
20. انتخابی اہلکاروں کو غفلت اور جرائم کی سزا نہ دینا۔
21. اراکین پارلیمنٹ کے لیے مخصوص ترقیاتی اسکیمیں تمام امیدواروں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
22. پولنگ سٹیشنز کو بجلی کی بندش کا متبادل فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔ بجلی کی بندش کا استعمال ریکارڈ میں گڑ بڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
23. الیکشن کمیشن کے شارٹ کوڈ 8300 تک رسائی میں تفریق پری پیڈ [غریب] صارفین کو ایس ایم ایس پیکجز سے محروم کر دیتی ہے۔
24. ووٹ بینک کو مستحکم کرنے اور بڑھانے کے لیے سماجی تحفظ/حفاظتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
25. اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں امتیازی سلوک۔
26. اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے اپنے حلقے میں ترقیاتی فنڈز کے امتیازی اخراجات۔
(B) قبل از پولنگ ڈے دھاندلی (پولنگ ڈے سے 60-90 دن پہلے)
27. منتخب خاندانوں کی وفاداریوں کی تبدیلی۔
28. سادہ انتخابی عملے کی تقرری
29. نااہل اور خوش مزاج انتخابی عملے کی تقرری۔
30. زیادہ سخت انتخابی مقابلوں والے اضلاع میں ایس ایچ اوز، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز وغیرہ کے تبادلے کرنا۔
31۔ ضمنی انتخابی حلقوں میں لوڈ شیڈنگ اور سہولیات کی فراہمی دیگر علاقوں کی قیمت پر بہتر ہوئی۔
32. ٹربیونلز اور بنچوں کی تشکیل، جو بعض امیدواروں کی مدد کرتی ہے۔
33. افسران کے اثر و رسوخ کے ذریعے دھڑوں کے رہنماؤں کے درمیان مقدمات کی واپسی اور تنازعات کا حل۔
34. مقامی بااثر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں جنہوں نے مخصوص پارٹی یا امیدوار کی حمایت سے انکار کیا۔
35. سڑک کے کام، گلیوں کے فرش، گیس، پانی، اور بجلی کے کنکشن۔
36. ضمنی انتخابی حلقوں میں یوٹیلٹی سروسز کو بہتر بنانا۔
37. ناپسندیدہ امیدواروں اور ان کے حامیوں کے خلاف مقدمات درج کرنا۔
38. خالی کردہ مخصوص نشستوں کو پر کرنے کا قانون قانون کے مطابق لاگو نہیں ہوتا ہے۔
39. ناپسندیدہ امیدواروں کی سرگرمیوں کو بگ کرنا اور ریکارڈ کرنا اور انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کرنا۔
40. قرض معاف اور بقایا یوٹیلیٹی بل کلیئر کر دیے گئے۔
41. بلدیاتی انتخابات کے مختلف مراحل پر اضلاع کی تقسیم ایک مخصوص جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جاتی ہے۔
42. بعض کمیونٹیز کے ٹرن آؤٹ کو دبانے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا فاصلہ بڑھایا جاتا ہے۔
43. پولنگ اسکیم میں غیر اعلانیہ تبدیلیاں بشمول درج ذیل۔
44. تمام پارٹیوں/ووٹرز کو بتائے بغیر پولنگ سٹیشنز کی تعداد تبدیل کر دی گئی۔
45. غیر ضروری بنیادوں پر ناپسندیدہ امیدواروں کو نااہل قرار دینا۔
46. امیدواروں اور ووٹرز کو بتائے بغیر پولنگ سٹیشنوں کو ملا دیا جاتا ہے۔
47. نئے اور بھوت پی ایس بنائے گئے ہیں۔
48. ووٹروں کی رضامندی کے بغیر ووٹوں کی نئے علاقوں میں غیر اعلانیہ منتقلی۔
49. ٹرن آؤٹ کو دبانے کے لیے، خاندان کے ووٹ پولنگ اسٹیشنوں پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔
50. پولنگ کی تاریخ یا دن طے کرنا جس سے کسی خاص پارٹی کو فائدہ ہو سکے۔
51. ووٹرز کو الجھانے اور بعض امیدواروں کی حمایت کو تقسیم کرنے کے لیے انتظامیہ کی طرف سے پراکسی اور ڈمی امیدوار کھڑے کیے گئے۔
52. نوکریوں اور معاہدوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔
53. ڈمی امیدواروں/پارٹیوں کو ملتے جلتے انتخابی نشانات کی تقسیم۔
54. تمام امیدواروں پر نا اہلی کے قوانین کو درست طریقے سے لاگو نہ کرنا۔
55. سخت تربیت فراہم نہ کرنا اور پولنگ عملے کو اخلاقی اقدار فراہم نہ کرنا۔
56. کسی کو بتائے بغیر پولنگ سٹیشنوں کی انتخابی فہرستوں کی تبدیلی۔
57. حریف پارٹی کے ووٹرز کو ان کے شناختی کارڈز خرید کر یا ضبط کر کے ووٹ کاسٹ کرنے سے روک دیا گیا۔
58. ووٹ خریدے جاتے ہیں اور ووٹرز کو مقدس کتابوں پر حلف لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
59. ملازمین اور ماتحتوں کو متاثر کیا جاتا ہے، دباؤ ڈالا جاتا ہے اور مجبور کیا جاتا ہے۔
60. ای سی پی کے مانیٹر کچھ امیدواروں کی مہمان نوازی خوشی سے قبول کرتے ہیں۔
61. پولنگ عملہ خوشی سے بعض امیدواروں کی مہمان نوازی قبول کرتا ہے کیونکہ ای سی پی انہیں رہائش فراہم نہیں کرتا، جس سے پولنگ عملے کی حمایت کے لیے پابند ہونے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
62. انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ (بل بورڈز، بینرز، پوسٹرز، کتابچے، ریلیوں کا وقت، اسلحہ کی نمائش وغیرہ)۔
63. بدعنوان طریقوں پر قانون کا انتخابی نفاذ (ووٹ دبانا، ہراساں کرنا، حریفوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنا، خواتین کو روکنا اور دباؤ ڈالنا وغیرہ)
64. الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے رپورٹس/مبصرین کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کرنے میں تاخیر یا انکار۔
65. مقدس کتابوں پر حلف اٹھا کر مذہب، فرقہ اور نسل کا غلط استعمال۔
66۔ انتخابی مہم کے دوران کھانے کی مفت فراہمی۔
67. سامان کی تقسیم یعنی سائیکل، کرایہ، سلائی مشین، سیل فون، یوٹیلیٹی بل کی ادائیگی وغیرہ۔
68. حریف پارٹی کے امیدواروں یا ان کے حامیوں کو مؤثر طریقے سے مہم نہ چلانے کے لیے نقد ادائیگی۔
69. مذہبی تقریبات (میلاد/مجلس) کے انعقاد کے لیے نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔
70. حریفوں کے پولنگ ایجنٹوں کو رشوت دی جاتی ہے کہ وہ بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے خلاف اعتراض نہ کریں۔
71۔ پٹرول/ڈیزل کوپن کی مفت فراہمی۔
72. خیراتی تنظیموں، کمیونٹی پر مبنی تنظیموں اور این جی اوز کو فنڈنگ۔
73. دلہنوں میں جہیز کی اشیاء کی تقسیم۔
74. انتخابی دفاتر/کیمپ قائم کرنے کے لیے مقامی بااثر افراد کو نقد ادائیگی۔
75. انتخابی مہم کے دوران مخصوص امیدواروں کے انتخابی اخراجات کو ریکارڈ نہ کرنا۔
76. غلط رائے شماری شائع کی گئی اور بڑے پیمانے پر پھیلائی گئی۔
77. ٹی وی چینلز، خاص طور پر پی ٹی وی/ریڈیو اور اخبارات پر بعض پارٹیوں کی کوریج میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے اور دوسروں کو دبایا جاتا ہے۔
(C)۔ پولنگ ڈے دھاندلی (پولنگ، گنتی، نتائج کی تیاری اور نتائج کا اعلان)۔
78. انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ (بل بورڈز، بینرز، پوسٹرز، کتابچے، ریلیوں کا وقت، اسلحہ کی نمائش وغیرہ)
79. بدعنوان طریقوں پر قانون کا انتخابی نفاذ (ووٹ دبانا، ہراساں کرنا، حریفوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنا، خواتین کو روکنا اور دباؤ ڈالنا وغیرہ)
80. ناکافی حفاظتی انتظامات۔
81. بعض مجرموں کے خلاف تاخیر سے جواب یا کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔
82. کچھ امیدواروں کو پولنگ کے دن پولنگ عملے کو کھانا، پانی، ریفریشمنٹ دینے کی اجازت ہے۔
83. پولنگ لی آؤٹ چارٹ نمایاں جگہوں پر آویزاں نہیں کیے گئے ہیں۔
84. پولنگ بوتھ ای سی پی کی ہدایات کے مطابق قائم نہیں کیے گئے ہیں۔
85. پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ بوتھ کے باہر یا ایک کونے میں بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
86. اثر: پولنگ ایجنٹس کو ان کے کردار سے لفظی طور پر محروم رکھا جاتا ہے - انتخابی قانون اور قواعد کی خلاف ورزی۔
87. بیلٹ پر مہر لگانے کے لیے پرائیویسی اسکرینز ای سی پی کی ہدایات کے مطابق نہیں لگائی گئی ہیں۔
88. بعض امیدواروں/پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ کے ابتدائی اوقات میں پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
89. کچھ جماعتوں کو پولنگ اسٹیشنوں کے قریب یا اندر کینوس کرنے کی اجازت دینا۔
90. بہت سے ووٹروں کو ایک ساتھ پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کی اجازت دینا جو افراتفری کا باعث بنتا ہے اور دھوکہ دہی میں مدد کرتا ہے۔
91. ووٹرز کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرنا غیر قانونی ہے، پھر بھی اسے روکا نہیں گیا۔ یہ امیر امیدواروں کو غیر معمولی فائدہ دیتا ہے۔
92. بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال۔
93. پولنگ سٹیشنوں کے قریب انتخابی کیمپ لگانا۔
94۔ مہر لگے اور دستخط شدہ بیلٹ پیپرز PS سے اسمگل کیے گئے اور پسندیدہ امیدواروں کے حوالے کیے گئے۔
95. APO ڈیسک کے سامنے بیلٹ بکس نہ رکھنا۔
96. غیر مجاز افراد کو پولنگ بوتھ کے اندر جانے کی اجازت دینا۔
97. بعض پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ میں مداخلت کی اجازت دینا۔
98. پولنگ ایجنٹس کو خالی بیلٹ بکس نہ دکھانا اور فارم 42 پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط نہ لینا۔
99. بیلٹ بکس کو صحیح طریقے سے سیل نہ کرنا۔
100. پولنگ ایجنٹس کے سامنے بیلٹ بکس کی مہریں نہ توڑنا۔
101. پولنگ ایجنٹوں کو بیلٹ پیپرز کی سیریز اور تعداد کے بارے میں مطلع نہ کرنا، پولنگ، گنتی اور نتائج کی تیاری وغیرہ کے لیے دستیاب ہر قسم کے فارم۔
102. پولنگ بوتھ کے اندر ووٹرز کو متاثر کرنا۔
103. غیر مجاز افراد کو پولنگ بوتھ کے اندر جانے کی اجازت ہے۔
104. ناپسندیدہ جماعتوں/امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ بوتھ سے نکال دیا جاتا ہے۔
105. ووٹرز کی اہلیت/شناخت کے حوالے سے پولنگ ایجنٹس کے اعتراضات کا متعصبانہ جواب۔
106. ووٹرز سے ان کے امیدوار کی پسند کے بارے میں پوچھنا۔
107۔سی این آئی سی چیک کیے بغیر بیلٹ پیپرز جاری کرنا۔
108. کچھ ووٹروں کے انگوٹھوں پر ناقابل خوردنی سیاہی کا نشان نہ لگانا۔
109. بیلٹ پیپر جاری کرنے سے پہلے مخصوص ووٹرز کا نام بلند آواز سے نہ لینا۔
110. مختلف صلاحیتوں والے افراد کو اپنی پسند کی مدد حاصل کرنے کی اجازت نہ دینا۔
111. بیلٹ پیپر کے اجرا کے بعد فہرستوں میں ووٹرز کی تفصیلات کو نہیں مارنا۔
112.پولنگ سٹیشن بیلٹ پیپرز کے پچھلے حصے پر سرکاری نشان کے ساتھ مہر نہیں لگاتے اور ان پر دستخط کرتے ہیں۔
113.پولنگ سٹیشنز بیلٹ پیپر کے کاؤنٹر فائل، ووٹر کا انتخابی رول نمبر، CNIC نمبر پر ریکارڈ نہیں کرتے ہیں، اور ووٹرز کے سرکاری نشان اور انگوٹھے کے نشان سے ان پر مہر نہیں لگاتے ہیں۔
114.پولنگ سٹیشنز کو انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کے انگوٹھے کے نشانات نہیں ملتے ہیں۔
115. ووٹرز کو ٹینڈرڈ بیلٹ پول کرنے کی اجازت نہ دینا۔
116. ٹینڈر شدہ بیلٹ کو الگ بیگ میں نہ ڈالیں۔
117۔لوگوں کو پولنگ سٹیشنوں میں داخل ہونے اور ووٹنگ کے اوقات ختم ہونے کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت دینا۔
118. ووٹرز کو چیلنج شدہ بیلٹ پول کرنے کی اجازت نہ دینا۔
119. 'پسندیدہ' امیدواروں کے ووٹروں کو اضافی بیلٹ پیپرز کا اجراء۔
120.غیر مطلوبہ امیدواروں کے بیلٹس کو اضافی نشانات/سٹامپس لگا کر خراب کیا جاتا ہے۔
121. پولنگ ایجنٹوں کو ڈاک ٹکٹوں/ نشانات کو چیک کرنے کے لیے گنتی کے دوران بیلٹ واپس نہیں دکھائے گئے۔
122. بیلٹ کھولنے سے پہلے پولنگ ایجنٹس کو مہریں نہیں دکھائی جاتی ہیں۔
123. تمام بوتھوں کے بیلٹ بکس ایجنٹوں کی موجودگی میں ایک جگہ نہیں لے جایا جاتا۔
124۔تمام بیلٹ کی گنتی اور چھانٹی کا کام تندہی سے نہیں کیا گیا۔
125. مسترد شدہ بیلٹ درست سے الگ نہیں ہیں۔
126. متعلقہ فارمز پر ٹینڈر شدہ اور چیلنج شدہ بیلٹ کی گنتی، ریکارڈنگ نہیں کی گئی۔
127. غیر مطلوب امیدواروں کے بیلٹ پر اضافی ڈاک ٹکٹ/نشان بنائے جاتے ہیں۔
128. خارج کیے گئے بیلٹ کے پیکٹ جو تندہی سے تیار نہیں کیے گئے اور سیل نہیں کیے گئے۔
129۔ہر امیدوار کے لیے الگ الگ پیکٹ تندہی سے تیار نہیں کیے جاتے۔
130. بیلٹ پیپرز اکاؤنٹ فارم تیار نہیں کیے گئے ہیں یا صحیح طریقے سے تیار نہیں کیے گئے ہیں۔
131. فارم 45 تندہی سے تیار نہیں کیے گئے ہیں۔
132. تمام پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 جاری نہیں کیا گیا۔
133. فارم 45 پی ایس کی بیرونی دیواروں پر چسپاں نہیں کیے گئے ہیں۔
134۔ہر امیدوار کے ووٹوں کی گنتی دو بار نہیں کی جاتی۔
135۔دوہری گنتی کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اگر ناپسندیدہ امیدوار کے ایجنٹ کی طرف سے کی گئی ہو۔
136. گنتی کے دوران بیلٹ پیپرز کے پچھلے حصے کو چیک نہیں کیا جاتا۔
137. مستثنیٰ بیلٹ کی مستعدی سے جانچ نہ کرنا۔
138. جان بوجھ کر روشنیوں کا سوئچ آف کرنا۔
139. بیلٹ بکس بھرنا۔
140.پوسٹل بیلٹ کی گنتی نہیں کرنا۔
141. خارج شدہ بیلٹ کو صحیح طریقے سے ریکارڈ نہ کرنا۔
142. جیت کا مارجن کم ہونے کی صورت میں دوبارہ گنتی کی درخواستوں کو مسترد کرنا۔
143. دوبارہ گنتی کا طریقہ کار درخواستوں کو منتخب طور پر لاگو کیا جاتا ہے.
144. پولنگ/الیکشن ایجنٹس کے پیکٹس اور فارمز پر دوبارہ سیل کرنے سے پہلے ان کے دستخط حاصل نہ کرنا۔
145۔نتائج کے حتمی مستحکم بیان کی تصدیق شدہ کاپیاں جاری نہ کرنا (فارم 49)
146۔سیل بند پولنگ بیگز کی انوینٹری تندہی سے تیار نہیں کی گئی۔
147. فارم 42 (پولنگ سے پہلے بیلٹ بکس کی جانچ پڑتال) مکمل اور تیار نہیں کیا گیا ہے۔
148. فارم 43 (ٹینڈر شدہ ووٹرز لسٹ) تندہی سے تیار نہیں کی گئی ہیں۔
149. فارم 44 (چیلنج شدہ ووٹرز لسٹ) تندہی سے تیار نہیں کی گئی ہیں۔
150. بیلٹ پیپر کی کتابوں کی تعداد (فارم 36 - بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ) تندہی سے تیار نہیں کی گئی ہیں۔
151. پوسٹل بیلٹ کا ریکارڈ (فارم 37-41) نہیں رکھا جاتا ہے اور تندہی سے شمار کیا جاتا ہے۔
152۔انتخابی نتائج کے اعلان میں جان بوجھ کر تاخیر کی جاتی ہے۔
(D)۔ بعد از پولنگ ڈے دھاندلی
153. الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم دستیاب کرنے میں غیر ضروری تاخیر۔
154. ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے انتخابی مواد اور ریکارڈ کی چھان بین نہیں کی جاتی اور اسے صحیح طریقے سے نہیں رکھا جاتا۔
155. کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی منتخب طور پر کی جاتی ہے۔
156. فریقین کے کھاتوں کا آڈٹ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہیں کی گئی۔
157۔ امیدواروں کے اخراجات (اکاؤنٹس) کا آڈٹ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی۔
158. تمام انتخابی درخواستوں کو یکساں اور انصاف کے ساتھ نہیں دیکھا جاتا۔
159. ممنوعہ فنڈز کی غیر ضروری تاخیر اور جانبدارانہ جانچ پڑتال۔
160. تمام حلقوں اور پولنگ سٹیشنوں کے انتخابی مواد کو ذخیرہ کرنے سے پہلے آڈٹ نہیں کیا جاتا۔
161. پوسٹل بیلٹ (فارم 37-41) کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے اور تندہی سے شمار کیا جاتا ہے۔
162. اعلیٰ عدالتیں انتخابی تنازعات/درخواستوں کا فیصلہ کرنے میں کافی وقت لیتی ہیں۔
163. ایسے ووٹروں اور دھڑے بندیوں کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جنہوں نے بعض امیدواروں کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔