صوبہ بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل صوبے کے مختلف حصوں میں حساس پولنگ بوتھس پر انٹرنیٹ سروسز کو عارضی طور پر محدود کر دیا جائے گا۔
انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا یہ اقدام عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا کیونکہ خدشہ ہے کہ ’دہشت گرد فیس بک، ٹوئٹر اور اس جیسے دوسرے پلیٹ فارمز کو رابطوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا خطرے کو کم کرنے کے لیے تربت، مچھ اور چمن سمیت متعدد علاقوں میں انتخابات سے قبل انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کر دیا جائے گا۔
Internet services will be temporarily restricted in sensitive polling booths located in various areas of #Balochistan.
— Jan Achakzai / جان اچکزئی (@Jan_Achakzai) February 4, 2024
Ensuring the safety and security of ordinary citizens is of utmost importance, as there is a concern that terrorists may exploit social media platforms such…
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پہلے ہی انتخابی سرگرمیوں اور موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔
بیلٹ پیپرز چھپ گئے، ملک بھر میں ترسیل پیر کو مکمل ہو جائے گی: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ عام انتخابات کے لیے ملک کے تمام 859 انتخابی حلقوں کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام مکمل ہو چکا۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ چھپائی کا کام تین سرکاری پریس اداروں میں مکمل ہوا۔ بیان کے مطابق وہ حلقے جہاں بیلٹ پیپرز کی عدالتی فیصلوں کے مطابق دوبارہ چھپائی کرانا پڑی، ان حلقوں میں بھی چھپائی کا کام بروقت مکمل کر لیا گیا۔
’اب پورے ملک میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل شروع ہے جو کل تک مکمل کر لیا جائے گا۔‘
ترجمان کے مطابق 2018 کے انتخابات میں 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے، جن کی طباعت پر 800 ٹن خصوصی سکیورٹی والا کاغذ استعمال ہوا۔
تاہم اس الیکشن کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے جن کی چھپائی پر 2,170 ٹن کاغذ استعمال ہوا۔ اس کی بڑی وجہ انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی ڈیڑھ گنا زیادہ تعداد ہے۔
انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے 29 ہزار کیمرے خریدے جا رہے ہیں: پنجاب پولیس
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی مانٹرنگ کے لیے ہزاروں کیمرے خریدے جا رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کیمروں کی مدد سے عام انتخابات کی مانیٹرنگ اور پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی کے مطابق پنجاب پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایات کے مطابق سیف سٹی اتھارٹی، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور این آر ٹی سی کے درمیان حالیہ معاہدے کے مطابق عام انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے کے 29 ہزار کیمرے خریدے جائیں گے۔
اس کے علاوہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابات کے بعد خریدے گئے تمام کیمرے پنجاب پولیس کی ملکیت ہوں گے۔
پنجاب پولیس کے مطابق نئے کیمروں میں جدید اور نائٹ ویژن ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔
پنجاب پولیس کا الیکشن 2024ء کے پرامن انعقاد، مانیٹرنگ سے متعلق اہم سنگ میل عبور, وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیف سٹیز اتھارٹی، پی آئی ٹی بی اور این آر ٹی سی میں معاہدہ، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی موجودگی میں تینوں اداروں کے نمائندگان نے معاہدے پر دستخط کیے. معاہدے کے مطابق… pic.twitter.com/h4FrdqzYeJ
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) February 4, 2024
دوسری جانب پنجاب پولیس کی جانب سے پانچ ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق صوبہ پنجاب میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے قائم کیے گئے پولنگ سٹیشنز کی تعداد 49 ہزار 954 ہے جن میں مردوں کے لیے 14 ہزار 157، خواتین کے لیے 13 ہزار 643 اور مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 22 ہزار 154 ہے۔
اس حوالے سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق بیلٹ پیپرز، پولنگ میٹیریل کی بہ حفاظت ترسیل، پولنگ مہم اور ووٹنگ سمیت الیکشن کے تمام تر عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے پنجاب بھر میں سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی سمیت تمام یونٹس کے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افسران و اہلکار الیکشن سکیورٹی پر تعینات ہوں گے۔
بلوچستان میں بیلٹ پیپرز کی فضائی راستے سے ترسیل شروع
الیکشن کمیشن بلوچستان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے سلسلے میں بلوچستان کے بعض علاقوں میں بیلٹ پیپرز کی فضائی راستے سے ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اعظم الفت کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ صوبے کے جن علاقوں کو فضائی راستے سے ترسیل شروع کردی گئی ہے ان میں زیادہ تر علاقے مکران ڈویژن میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گوادر، پنجگور، کیچ اور خاران میں بھی بیلٹ پیپرز ایئر لفٹ کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بیلٹ پیپرز ہیلی کاپٹر اور سی ون تھرٹی کے ذریعہ بھجوائے جائیں گے۔‘
’بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے اوربذریعہ سڑک بھی علاقوں کو بیلٹ پیپرز کی ترسیل جاری ہے جبکہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے لیے تین فروری تک مجموعی طور پر 26 کروڑ بیلٹ پیپرز شائع کیے جا چکے ہیں۔‘
دوسری جانب مچھ حملے کے پانچ روز بعد بلوچستان میں ریلوے سروس بحال کر دی گئی اور صوبہ بلوچستان سے اندورن ملک کے لیے ٹرین سروس بحال کر کے ہفتے کو کوئٹہ سٹیشن سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس مسافروں کو لے کر روانہ ہو گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق بولان میل شیڈول کے مطابق پانچ فروری کو کراچی کے لیے روانہ ہو گی۔
پانچ روز قبل امن و امان کی صورت حال کے باعث ریلوے حکام نے مسافروں اور ٹرین کی حفاظت کے پیش نظر ٹرین سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
کوٹئہ میں تخریب کاری کے خدشات کے بعد سکیورٹی الرٹ جاری
ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ میں تخریب کاری اور خاتون خودکش بمبار کے حملے کے خطرے کے پیش نظر دارالحکومت میں انتخابی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ جبکہ کوئٹہ میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پربھی پابندی عائد کردی گئی۔
نامہ نگار اعظم الفت کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی تاکیدی مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انتخابات کے حوالے سے کوئٹہ کے تمام انتخابی حلقوں میں سیکورٹی تھریٹ جاری کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ کی تین قومی نشستوں این اے 262، 263، 264 جبکہ صوبائی اسمبلی کی نو حلقوں پی بی 38، 39، 40، 41، 42، 43، 44، 45، 46 میں سیکورٹی تھریٹ جاری کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’دارالحکومت کوئٹہ کے تمام انتخابی حلقوں میں امیدواروں پر تخریب کاری، خاتون خودکش بمبار کے حملوں کے پیش نظر انتخابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔‘
ڈی سی کوئٹہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی امیدوار کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوس اور عوامی اجتماعات سے گریز کریں۔
کوئٹہ میں بم دھماکوں کے بعد موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق پابندی پانچ فروری تک رہے گی۔ تاہم خواتین، بچے اور بزرگ شہری اس پابندی سے مستثنٰی ہوں گے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر حکام نے پہلے سے ہی امیدواروں کو انتخابی مہم محدود کرنے کی ہدایت کردی گئی تھی جس کے بعد صوبے کے ڈپٹی کمشنرز نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تربت، آواران، لورالائی، حب، کوہلو، ضلع ڈیرہ بگٹی، زیارت اورسبی کے الیکشن امیدواروں کو انتخابی مہم اور اجتماعات محدود کرنے اور جلسے جلوس کے بجائے کارنرز میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔
تاہم ہفتے کی رات کوئٹہ بھر میں انتخابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی سختی سے تاکید کرنے کا مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ نے یونیورسٹی کے اساتذہ، پروفیسرز اور دیگر سٹاف کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں/اجتماعات میں شرکت کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ عمل یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔‘
ایک سرکولر میں کہا گیا کہ ’یونیورسٹی کے تمام ملازمین (انتظامی/تعلیمی ماہرین) کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے طریقوں سے پرہیز کریں اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں خود کو شامل نہ کریں۔‘
سرکولر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں، اگر رپورٹ ہوئی تو ان کے خلاف یونیورسٹی آف بلوچستان ای اینڈ ڈی رولز کے تحت سخت تادیبی کارروائی شروع کی جائے گی۔‘
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔