پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کے دو میچ آج لاہور اور ملتان میں کھیلے جا رہے ہیں۔ پہلا میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیان ہو رہا ہے جبکہ دوسرا میچ ملتان میں لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے مابین ہوگا۔
لاہور میں قذافی سٹیڈیم کے باہر ایک بجے تک شائقین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا لیکن ان کی تعداد کافی حد تک کم تھی۔ اس حوالے سے کچھ شائقین کا کہنا تھا کہ چھٹی کا دن نہ ہونے کی وجہ سے میچ دیکھنے والوں کی تعداد کم ہے۔
دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میچ تو لاہور میں ہو رہا ہے لیکن لاہور قلندر نہیں کھیل رہی، اس لیے بھی شائقین کم آ رہے ہیں۔
پشاور زلمی اور کراچی کنگز کا میچ دیکھنے آنے والے شائقین میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، جن میں سے زیادہ تر پشاور زلمی کے حمایتی دکھائی دیے اور سبھی نے اس کی ایک وجہ بتائی اور وہ وجہ تھی بابر اعظم۔
ایک نوجوان نے تو یہاں تک کہا کہ ٹیم میں بابر اعظم ہیں اسی لیے ٹیم ہے۔ بابر نہ ہوتے تو پشاور زلمی کی کوئی ٹیم بھی نہ ہوتی۔
کچھ کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کرکٹ کی جان ہیں اور عوام ان سے بہت محبت کرتی ہے، وہ میچ نہ بھی جیتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
اسی طرح کچھ شائقین کراچی کنگز کے حمایتی بھی تھے خاص طور پر شعیب ملک کے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ کراچی کنگز چونکہ زیادہ تر میچز ہارتی ہے اس لیے انہیں یہ میچ جیتنا ہوگا تاکہ وہ اپنی ساکھ بنا سکیں۔
یہ سب باتیں ایک طرٖف مگر جب ہم نے شائقین سے دونوں ٹیموں کے باقی کھلاڑیوں اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے سوال کیے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کس ٹیم میں کون کون کھیل رہا ہے؟
سٹیڈیم کے اندر جانے والے راستوں پر واک تھرو گیٹس لگائے گئے تھے، جہاں سے گزرتے ہی آپ کا سامنا یا تو کسی فیس پینٹ کرنے والے سے ہوتا یا ٹیموں کے پرچم اور سکور کارڈز بیچنے والوں سے۔
کراچی کنگز کی جانب سے بھی چوکے اور چھکے کے سکور کارڈز مفت بانٹے جا رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ کچھ لوگ جو پشاور زلمی کے دیوانے تھے، وہ بھی کراچی کنگز کی طرف سے دیے جانے والے مفت سکور کارڈز لیے جا رہے تھے، جن پر کراچی کنگز کی تشہیر کی گئی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سٹیڈیم کے گیٹ پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ اس گیٹ سے صرف وی آئی پی، پولیس کے سینیئر اہلکار یا میڈیا کے افراد ہی گزر سکتے تھے۔ میچ دیکھنے والے شائقین کے لیے دوسرا گیٹ بنایا گیا تھا اور وہاں بھی پولیس کی پوری چیکنگ جاری تھی۔
میچ دیکھنے کے لیے آنے والا کوئی بھی شخص کسی قسم کی کوئی بھی کھانے یا پینے کی چیز سٹیڈیم کے اندر نہیں لے جا سکتا تھا۔
یہاں کچھ لوگوں نے پانی اندر لے جانے کے لیے پولیس اہلکاروں سے بحث بھی کی لیکن انہیں آخر میں پانی کی بوتل باہر ختم کر کے ہی اندر جانا پڑا۔
انہی دونوں گیٹس کے باہر ڈولفن سکواڈ بھی اپنی اپنی سائیکلیں لیے مستعد کھڑے تھے۔
ایک ڈولفن اہلکار نے بتایا کہ یہ سائیکل سکواڈ 24 کی تعداد میں سٹیڈیم کے اطراف موجود ہے اور آٹھ آٹھ کی تعداد میں تین مختلف سپاٹس پر کھڑا ہے۔
لاہور کا موسم چونکہ کچھ گرم ہو چکا ہے اور سورج بھی اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا، اس لیے میڈیا کی ٹیمیں بھی قذافی سٹیڈیم کے گیٹ کے سامنے گھاس پر براجمان تھیں جبکہ ان کے ٹرائی پوڈ اور کیمرے ایک قطار میں لگے دھوپ سینک رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ اگر کوئی اہم شخصیت یہاں پہنچ گئی تو کوئی شاٹ مس نہ ہوجائے۔
اس موقعے پر ہم نے کچھ سکیورٹی اہلکاروں اور خوانچہ فروشوں سے بھی گفتگو کی، جو ہر سال پی ایس ایل کے میچوں کے دوران یہاں آتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بار پی ایس ایل کی وہ رونق نہیں ہے۔
خوانچہ فروشوں کا بھی کہنا تھا کہ اس بار انہیں کوئی خاص کام ہی نہیں ملا۔ لوگ بہت کم تعداد میں میچ دیکھنے آ رہے ہیں، اس لیے ان کی کمائی کافی کم ہے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔