الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سینیٹ کے انتخابات دو اپریل کو ہوں گے جبکہ انتخابی شیڈول 14 مارچ کو جاری کیا جائے گا۔
خفیہ رائے شماری سے ہونے کے باعث سینیٹ انتخابات تقریباً ہر مرتبہ تنازعات کا شکار ہوتے ہیں۔
سینیٹ کی موجود 48 نشستوں پر انتخابات کے بعد نمبر گیم کیا ہو سکتی ہے، انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی مختلف دستاویزات سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
سینیٹ میں موجودہ پارٹی پوزیشن اور امکانات
سینیٹ انتخابات کے نتائج کا اندازہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن سے لگایا جاسکتا ہے، تاہم خفیہ رائے شماری کی وجہ سے وفاداریاں تبدیل اور نتائج حیران کن بھی ہو سکتے ہیں۔
ابھی ایوان بالا میں موجود 48 اراکین جو 11 مارچ 2027 کو سبکدوش ہوں گے، میں پاکستان تحریک انصاف کے 17 سینیٹرز، پیپلز پارٹی کے نو، بلوچستان عوامی پارٹی کے چھ، پاکستان مسلم لیگ ن کے پانچ، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے تین، عوامی نیشنل پارٹی کے دو، ایم کیو ایم کے دو، آزاد دو، مسلم لیگ ق اور بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک، ایک سینیٹر شامل ہیں۔
دو اپریل کو جن 48 نشستوں پر سینیٹ انتخابات ہوں گے ان میں پنجاب اور سندھ سے 12، 12 جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 11، 11 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ اسلام آباد کی دو نشستیں ہیں۔ ہر صوبے کو سات جنرل نشستیں، دو ٹیکنو کریٹس کی نشستیں اور دو خواتین کی نشستیں ملتی ہیں جبکہ دو نشستیں اقلیتوں کے لیے بھی مختص ہیں۔
کونسی جماعت کتنی سینیٹ کی نشستیں لے گی اس کا دارومدار صوبوں اور وفاق میں متعلقہ جماعت کی پارٹی پوزیشن سے بھی واضح ہوتا ہے۔ مرکز میں حکومتی اتحاد سے بھی سینیٹ کی نشستوں پر اثر انداز ہو گا۔ سینیٹ کے کوٹے کے مطابق سینیٹ سیٹوں کا کوٹہ نکالا جاتا ہے۔ جیسے ہر صوبے کی جنرل سیٹیں سات ہیں تو ہر صوبے میں صوبائی اسمبلی کے اراکین سات سے تقسیم ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
معلومات اور اعداد شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی 11 نشستوں کے لیے کل 115 صوبائی نشستوں کو سات سے تقسیم کریں تو 16 کا عدد حاصل ہو گا، جس کے مطابق 16 اراکین ایک سینیٹر منتخب کر سکیں گے۔
اس لحاظ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین تقریباً چھ یا سات سینیٹرز خیبرپختونخوا سے منتخب کر سکتے ہیں جبکہ باقی نمبرز اپوزیشن اتحادی حاصل کر سکتے ہیں۔
پنجاب کے کل 366 اراکین میں سے ہر 52 اراکین ایک سینیٹر چن سکیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں 224 اراکین جبکہ سنی اتحاد کونسل کے 106 اراکین ہیں۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی 16 نشستیں ہیں، مسلم لیگ ق کی 11 جب کہ دیگر چھوٹی جماعتیں ہیں۔
فارمولے کے تحت سنی اتحاد کونسل تین سے چار سینیٹ نشستیں، مسلم لیگ ن پانچ سے چھ نشستیں جبکہ پیپلز پارٹی ایک نشست اتحادیوں کے ووٹ کے ساتھ نکال سکتی ہے۔
اسی طرح سندھ میں بیشتر نشستیں پیپلز پارٹی کی ہی ہوں گی کیونکہ وہاں صوبائی تناسب ان کا زیادہ ہے۔ سندھ کی 12 نشستوں میں سے سات سے آٹھ پیپلز پارٹی جبکہ باقی چار ایم کیوایم اور آزاد اراکین کی ہو سکتی ہیں۔
بلوچستان میں 51 کل نشستوں پر تناسب سات رہے گا، یعنی ہر سات اراکین ایک سینیٹر چن سکیں گے۔ بلوچستان کی 11 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن تین تین سینیٹر بنا سکتی ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام دو اور بلوچستان عوامی پارٹی اور آزاد بھی ایک نشست لے سکتے ہیں۔
ایوان بالا میں اس فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک انصاف (سنی اتحاد/آزاد امیدوار) 17 پچھلی اور نئی نشستیں ملا کر کُل 28/29 سینیٹ نشستیں بنا سکتی ہے۔
جبکہ پیپلز پارٹی نو پہلے کے اراکین اور نئی 13/14 نشستیں حاصل کر کے سینیٹ کی کُل 23 نشستیں لے سکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن 2021 کی پانچ نشستیں اور نئی تقریباً 10 نشستوں کے ساتھ 15 سینیٹرز بنا سکتی ہے۔ حکومتی اتحاد سینیٹ میں بھی ساتھ رہے گا۔
حکومت بننے سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طے پانے والے فارمولے میں یہ بھی شامل تھا کہ چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی جب کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ پاکستان مسلم لیگ ن سے ہو گا۔
فارمولا کیسے لاگو ہوتا ہے؟
پارلیمانی امور کے ماہر صحافی جاوید حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کسی بھی صوبائی اسمبلی سے سینیٹر منتخب ہونے کے لیے اس اسمبلی کے کل کاسٹ کیے گئے ووٹ کو سینیٹ کی سات جنرل اسمبلی نشستوں سے تقسیم کیا جاتا ہے۔
مثلاً پنجاب اسمبلی میں کُل اراکین کی تعداد 371 ہے اور اگر ہر رکن نے ووٹ کاسٹ کیا ہے تو کاسٹ کیے گئے کل ووٹ یعنی 371 کو سات سے تقسیم کیا جائے گا۔
اسی طرح بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے کُل ووٹ کاسٹ کرنے والے اراکین کو سات جنرل نشستوں سے تقسیم کر کے صوبے میں سات جنرل نشستوں پر سینیٹ کے لیے ووٹ کا تناسب نکالا جا سکتا ہے اور یہی فارمولا خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کے لیے بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً پنجاب میں خواتین کی دو نشستوں کے لیے کل ووٹ کاسٹ کرنے والے اراکین کو دو پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’اسی طرح اگر امیدوار وہ گولڈن نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ایسی صورت میں کسی بھی نشست پر انتخاب لڑنے والا امیدوار، اس نشست کے تمام امیدواروں میں سب سے زیادہ ترجیحی ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں بھی کامیاب قرار پائے گا۔
’یہی نہیں ایک اور بات جو اہم ہے کہ اگر کوئی امیدوار گولڈن فگر سے زائد ووٹ حاصل کرتا ہے تو اس کے ووٹ، اس سے اگلے ترجیحی امیدوار کو منتقل کیے جائیں گے۔ دوسرا امیدوار بھی اگر یہی ہندسہ حاصل کرتا ہے تو یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا اور مطلوبہ سینیٹرز کی تعداد تک پہنچنے تک ایسا ہی جاری رہے گا۔‘
جاوید حسین نے وضاحت کی کہ ’سینیٹ انتخابات میں اراکین کو ترجیحی فہرست دی جاتی ہے جو بیلٹ پیپر پر بغیر انتخابی نشان کے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سندھ کی سات جنرل نشستوں پر اگر 15 امیدوار حصہ لے رہے ہیں تو سندھ اسمبلی کے تمام اراکین کو بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے آگے ایک سے لے کر 15 تک اپنے ترجیحی نمبر دینے ہوں گے اور اگر ووٹ کاسٹ کرنے والا رکن ایک ہندسہ بھول جائے یعنی نو کے بعد 10 کی ترجیح لگانے کے بجائے کسی امیدوار کے سامنے 11 کی ترجیح لگا دے تو اس کے نو ووٹ گنے جائیں گے جبکہ نو کے بعد 15 تک کے سارے ترجیحی ووٹ کینسل یا منسوخ شمار ہوں گے۔‘
ایوان بالا تین ہفتوں کے لیے غیر فعال
الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 میں منتخب ہونے والے 52 سینیٹر 11 مارچ کو ریٹائر ہو گئے ہیں، جن میں سے چار فاٹا کے سینیٹرز ہیں۔ اب 48 نشستوں پر انتخابات کروائے جائیں گے۔
سینیٹ کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں اور ارکان کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ عمومی طور پر مدت ختم ہونے سے پہلے ہی سینیٹ الیکشن ہو جاتے ہیں اس طرح ایوان بالا غیر فعال نہیں ہوتا لیکن اس مرتبہ تین ہفتوں تک ایوان بالا میں آدھے قانون ساز نہیں ہوں گے اور نہ ہی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین، جس کی وجہ یہ ہے کہ عام انتخابات میں تین ماہ تاخیر کے باعث الیکٹورل کالج مکمل نہیں تھا۔
پہلے صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلف ہوئے، اسمبلیاں مکمل ہوئیں، وزیراعظم اور صدر کے انتخابات ہوئے اور اب سینیٹ کے انتخابات کا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کی چھ خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن 14 مارچ کو ہو گا۔ سینیٹ کے ضمنی الیکشن اسلام آباد کی ایک، سندھ کی دو اور بلوچستان کی تین نشستوں پر ہوں گے۔
سینیٹ کی جن نشستوں پر ضمنی الیکشن ہو گا ان میں یوسف رضا گیلانی، مولانا غفور حیدری اور نثار کھوڑو کی خالی کردہ نشستیں شامل ہیں جب کہ جام مہتاب، پرنس احمد عمر اور سرفرازبگٹی کی خالی کردہ نشستوں پر بھی ضمنی انتخاب ہوں گے۔
پارلیمانی امور کے ماہر صحافی جاوید حسین نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ خالی ہونے سے سینیٹ مکمل غیر فعال ہوا ہے، اس کے لیے سید یوسف رضا گیلانی کو نگران چیئرمین بنانے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’دو اپریل کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے بعد حلف برداری اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات بھی یوسف رضا گیلانی منعقد کروائیں گے، جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے بھی امیدوار ہوں گے۔‘
گذشتہ سینیٹ انتخابات میں اراکین کا کتنا تناسب موجود ہے؟
گذشتہ انتخابات دو مارچ 2021 کو ہوئے تھے، جن میں پنجاب سے تمام 11 سینیٹرز بلا مقابلہ منتخب ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی 12 اور سندھ کی 11 نشستوں پر الیکشن ہوا تھا۔
بلوچستان کی 12 نشستوں پر چھ بلوچستان عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی دو نشستیں، دو آزاد، ایک اے این پی اور ایک بی این پی جماعت کو نشست ملی۔
خیبر پختونخوا کی 12 نشستوں میں سے 10 پاکستان تحریک انصاف جبکہ جمعیت علمائے پاکستان اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایک ایک نشست ملی۔ پنجاب کی 11 نشستوں میں سے پانچ پی ٹی آئی، پانچ پاکستان مسلم لیگ ن اور ایک پاکستان مسلم لیگ کو ملی۔ اسی طرح سندھ کی 11 نشستوں میں سے آٹھ پیپلز پارٹی، دو ایم کیو ایم اور ایک پی ٹی آئی کو ملی۔ اسلام آباد کی دو نشستوں میں سے ایک پیپلز پارٹی اور ایک پی ٹی آئی کو ملی۔
سینیٹ انتخابات
ایوان بالا میں اراکین کا انتخاب اسمبلیوں میں موجود عوام کے منتخب نمائندے کرتے ہیں۔ صوبوں سے سینیٹ کے امیدواروں کا انتخاب وہاں کی صوبائی اسمبلی کے اراکین جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سینیٹر کا انتخاب اراکین قومی اسمبلی کرتے ہیں۔
سینیٹ الیکشن کے روز چاروں صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی پولنگ سٹیشنز میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا عملہ پولنگ کرواتا ہے۔
فاٹا کی چار مخصوص نشستیں 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت ختم ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے سینیٹ کی کل نشستیں 100 سے کم ہو کر 96 ہو گئی ہیں۔
11 مارچ کو سبکدوش ہونے والے سینیٹرز
ریٹائر ہونے والے 52 سینیٹرز میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی، قائد ایوان اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم اور سینیٹر رضا ربانی بھی شامل ہیں۔
سبکدوش ہونے والوں میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ 13، پاکستان پیپلز پارٹی کے 12، پی ٹی آئی کے آٹھ، جمعیت علمائے اسلام ف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے دو، دو اراکین، بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے منتخب چھ جبکہ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل کے ایک، ایک سینیٹرز شامل ہیں۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔